حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدّس سیرۃ کے بعض تابناک اور روشن پہلو

(مطبوعہ سہ ماہی اسماعیل جولائی تا ستمبر 2012ء)

حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدّس سیرۃ کے بعض تابناک اور روشن پہلو
(فرخ سلطان محمود)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بابرکت زندگی کے کسی بھی پہلو کو دیکھیں تو وہ ایسا روشن اور انمول دکھائی دیتا ہے جس میں واضح طور پر خدا اور اُس کے رسولﷺ کی محبت اور مخلوق اللہ کی ہمدردی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ذیل میں آپؑ کی پاکیزہ حیات کے بعض ایسے ہی تابناک پہلوؤں کو بیان کیا جارہا ہے۔
اشاعت اسلام کے لئے انتھک محنت
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی اشاعت کے ہر مرحلہ کی نگرانی ذاتی طور پر فرمایا کرتے تھے۔ پروف پر نظرِ ثانی کے لئے کئی کئی روز امرتسر میں قیام فرماتے اور اگر کوئی مسوّدہ بذریعہ ڈاک بھجوانا مقصود ہوتا تو رجسٹری کرواتے۔ براہین احمدیہ کی طباعت کا انتظام حضورؑ نے پادری رجب علی کے مطبع’’ سفیر ہند‘‘ میں فرمایا کیونکہ اختلاف مذہب کے باوجود پادری موصوف کو دلی شغف تھا کہ کام کی عمدگی اور خوبی میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور حضرت اقدسؑ کا منشاء بھی یہی تھا۔ براہین احمدیہ کا حصہ اول پادری صاحب کے پریس میں چھپا لیکن حصہ دوم و سوم ایک اور پریس ’’ریاض ہند‘‘ میں طبع ہوئے گو نام ’’سفیر ہند‘‘ کا ہی لکھا گیا اور اس کے بعد چونکہ پادری صاحب پیشگی روپیہ لینے کے باوجود روپے کا مزید مطالبہ کرنے اور کام کو معرضِ التواء میں ڈالنے لگ گئے تھے اس لئے حضورؑ نے ’’ریاض ہند‘‘ پریس کو ہی طباعت کا کام دینا شروع کردیا جس کے پرنٹر حضرت شیخ نور احمد صاحبؓ تھے۔
توکّل علی اللہ
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے توکل علی اللہ کے بارہ میں یہ روایت نہایت اہم ہے کہ مولوی کرم دین والے مقدمہ میں جب حضور علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ ہندو مجسٹریٹ کی نیت ٹھیک نہیں تو حضور جو ناسازی طبع کی وجہ سے لیٹے ہوئے تھے، اٹھ کر بیٹھ گئے اور بڑے جلال کے ساتھ فرمایا ’’وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے!‘‘-
مثالی عائلی زندگی
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گھریلو زندگی مثالی تھی اور آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ ’’بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کو ہوتا ہے‘‘۔
حضور ؑ کے برادرِ نسبتی حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی ہوش میں کبھی حضورؑ کو حضرت اماں جانؓ سے ناراض نہیں دیکھا نہ سنا، بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک آئیڈیل جوڑے کی ہوتی ہے۔ بہت کم خاوند اپنی بیویوں کی دلداری کرتے ہیں جو حضورؑ حضرت اماں جانؓ کی فرمایا کرتے تھے‘‘۔
احمدی کا شناختی نشان
امریکہ کے محمد الیگزنڈر رسل ویب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ قبولِ اسلام کی سعادت حاصل کی اور پھر ان کی تبلیغ سے فلاڈلفیا کے جارج بیکر بھی حلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے۔ انہوں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں احمدی ہونے کے ثبوت میں کوئی شناخت بھجوانے کی درـخواست کرتے ہوئے لکھا کہ یہاں کے دستور کے مطابق جو شخص کسی انجمن یا سوسائٹی کا رکن بنے اسے کوئی شناختی نشان یا سند دی جاتی ہے جسے وہ عندالضرورت پیش کرسکے۔ اس کے جواب میں حضور اقدس علیہ السلام نے انہیں لکھوایا کہ:
’’ہمارا نشان شناخت صرف یہ ہے کہ جب نماز کا وقت آئے تو وضو کرکے نماز ادا کرلیا کرو، یہ کافی نشان ہے، دوسرے سندات یا نشانات کو ایک منافق بھی پیش کرسکتا ہے‘‘۔
ایک اعجازی نشان
حضرت منشی برکت علی صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک اٹھ کر سیڑھیوں سے اتر کر ڈھاب کی طرف تشریف لے گئے۔ دو تین احباب بھی ہمراہ تھے جنہوں نے بتایا کہ ڈھاب میں پانی بہت تھا، لڑکے نہا اور کھیل رہے تھے اور ایک لڑکا ڈوبنے کو تھا کہ حضورؑ نے ہاتھ بڑھا کر اسے باہر نکال لیا اور واپس آکر مجلس میں تشریف فرما ہوکر بات چیت میں مشغول ہوگئے۔
عشق قرآن کریم
حضرت مسیح موعودؑ کے قرآن کریم سے عشق کے بارہ میں کئی ایمان افروز روایات بیان کی جاتی ہیں۔ مثلاً حضورؑ جب سیالکوٹ میں ملازم تھے تو آپؑ جب بھی کچہری سے فارغ ہوکر آتے تو دروازہ بند کر لیتے۔ بعض متجسس احباب اس ٹوہ میں رہتے کہ حضرت مرزا صاحب آخر کیا کرتے ہیں۔ آخر ایک روز اس مخفی کارروائی کا سراغ مل گیا اور وہ یہ تھا کہ سیدنا حضور اقدس علیہ السلام ایک مصلّے پر بیٹھے قرآن مجید ہاتھ میں لئے دعا کر رہے تھے ’یا اللہ یہ تیرا کلام ہے، مجھے تو ہی سمجھائے گا تو میں سمجھ سکتا ہوں‘۔ اسی دور کے متعلق ایک اور روایت ہے کہ آپؑ بعض آیات لکھ کر دیواروں پر لٹکا دیا کرتے تھے اور پھر ان پر غور کرتے رہتے تھے اور گھر میں سوائے قرآن مجید پڑھنے اور نمازوں میں لمبے لمبے سجدے کرنے کے اور آپ کا کوئی کام نہ تھا۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال کے استاد شمس العلماء مولانا سید میر حسن صاحب کا بیان ہے کہ سیالکوٹ میں حضرت مرزا صاحب کچہری سے تشریف لا کر قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہو جاتے۔ بیٹھ کر، کھڑے ہوکر، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے کہ اس کی نظیر نہ ملتی۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو صرف ایک مرتبہ روتے دیکھا ہے جب آپؑ خدام کے ہمراہ سیر پر تشریف لے جا رہے تھے کہ کسی نے عرض کیا کہ حافظ محبوب الرحمن صاحبؓ قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ حضور علیہ السلام وہیں راستہ کے ایک طرف بیٹھ گئے اور فرمایا کچھ قرآن شریف سنائیں چنانچہ انہوں نے قرآن شریف سنایا تو اس وقت حضورؑ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔
نماز میں حصولِ حضور کی دعا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر نماز میں حصولِ حضور اور توجہ کے بارے میں (اخبار الحکم 24؍مئی 1904ء میں) یوں بیان کی گئی ہے کہ حضورؑ نے مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب کو خط میں تحریر فرمایا کہ اگر توجہ پیدا نہ ہو تو ہر ایک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں یہ دعا کریں: ’’اے خدا تعالیٰ قادر ذوالجلال! میں گناہ گار ہوں اور اس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ و ریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقّت اور حضورِ نماز حاصل نہیں۔ تُو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات کو معاف کر اور میرے دل کو نرم کر دے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور محبت بٹھا دے تاکہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضورِ نماز میسر آوے۔‘‘
حضورؑ نے مزید تحریر فرمایا:
’’اس دعا کے کرنے میں ماندہ نہ ہوں اور تھک نہ جاویں بلکہ پورے صبر اور استقامت سے اس دعا کو پنج وقت کی نمازوں میں اور نیز تہجد کی نماز میں کرتے رہیں اور بہت بہت خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں کیونکہ گناہ کے باعث دل سخت ہو جاتا ہے، ایسا کروگے تو ایک وقت یہ مراد حاصل ہو جاوے گی مگر چاہئے کہ اپنی موت کو یاد رکھیں۔ آئندہ زندگی کے دن تھوڑے سمجھیں اور موت قریب سمجھیں۔ یہی طریق حصولِ حضور کا ہے‘‘۔
دشمنوں سے حسنِ سلوک اور وسیع حوصلگی
معاند احمدیت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ ’’اشاعتہ السنہ‘‘ کو احمدیت اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں وقف کر رکھا تھا۔ جب اس رسالہ کے کچھ خریداران احمدی ہو گئے تو باوجود منع کرنے کے مولوی صاحب نے رسالہ ان کے نام جاری رکھا اور چندہ کا مطالبہ کرنے لگے اور بالآخر حضور اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ان کی شکایت کی۔ حضور علیہ السلام نے ان احمدی دوستوں کو لکھوایا ’’روپیہ بھیج دیں۔ کبھی میرے ساتھ تعلق رکھتا تھا اور وہ جس قدر مانگتا ہے بطور احسان کے دے دیں‘‘۔
اسی طرح مولوی صاحب پر تنگدستی کا ایسا زمانہ بھی آیا جب کوئی کاتب رسالہ لکھ کر نہ دیتا تھا تب انہوں نے حضورؑ کی خدمت میں مدد کی درخواست کی تو آپؑ نے فرمایا ’’وہ اپنی کاپیاں اور مضمون لے کر آ جاویں، میں اپنا کام بند کرکے ان کا کام کروا دوں گا خواہ وہ میری مخالفت میں ہی ہو‘‘۔
حضور علیہ السلام نے کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا بلکہ اکثر بادشاہوں کی طرح مونہہ مانگی چیز عنایت فرمائی۔ کسی نے کرتہ کا سوال کیا تو اپنا کرتہ اتار کر دے دیا۔ ڈاکیہ نے سردی کی شکایت کی تو آپؑ نے اسے دو کوٹ دکھائے کہ جو پسند ہو لے لو۔ اس نے دونوں پسند کئے اور آپؑ نے عطا فرما دیئے۔
آپؑ کے مخلص مرید حضرت حافظ نور احمد صاحب سوداگر کا کاروبار خسارہ کی وجہ سے بند ہو گیا تو انہوں نے حضور علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا۔ حضورؑ نے ایک صندوقچی ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا جتنا چاہیں لے لیں۔ انہوں نے حسبِ ضرورت لے لیا گو حضورؑ یہی فرماتے رہے کہ سارا ہی لے لیں۔ حافظ صاحبؓ کہا کرتے تھے کہ حضورؑ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے-
عمر بڑھانے کا نسخہ
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’حسن خاتمہ کے لئے ہر ایک کو دعا کرنی چاہئے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ ہر شے پر اپنے دین کو مقدم رکھو۔ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ پہلے تو خیالی طور پر اندازہ عمر کا لگایا جاتا تھا مگر اب تو یہ بھی مشکل ہے۔ دانشمند کو چاہئے کہ ضرور موت کا انتظام کرے۔‘‘
اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ : ’’عمر بڑھانے کا اس سے بہتر کوئی نسخہ نہیں ہے کہ انسان خلوص اور وفا داری کے ساتھ اعلائے کلمہ دین حق میں مصروف ہو جاوے اور خدمت دین میں لگ جاوے اور آجکل یہ نسخہ بہت ہی کام کرتا ہے کیونکہ دین کو آج ایسے مخلص خادموں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر عمر کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے‘‘۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ILY0p]

اپنا تبصرہ بھیجیں