حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍مئی 2007ء میں مکرمہ ا۔ حیدری صاحبہ کے قلم سے اُن کی ساس محترمہ عائشہ بیگم صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ بنت حضرت مستری حسن دین صاحبؓ آف سیالکوٹ کا تعلق ایک مذہبی گھرانہ سے تھا۔ آپؓ کی شادی حضرت حافظ عبدالعزیز صاحبؓ سے ہوئی تھی۔ طاعون کے زمانہ میں آپ بھی اس کا شکار ہوگئیں۔ اس پر آپؓ کی والدہ نے اور آپؓ نے بھی بہت تڑپ کر دعائیں کیں اور بلند آواز میں استغفار کیا۔ اچانک آپؓ نے دیکھا کہ ایک بلا آپؓ کے سرہانے کھڑی ہے اور کہتی ہے کہ میں تو تمہیں لینے آئی تھی مگر تم لوگوں نے اتنی استغفار کی ہے۔ لو اب میں جاتی ہوں۔ پھر صحت عطا ہوگئی۔
حضرت مستری حسن دین صاحبؓ بہت سخت طبیعت کے مالک تھے۔ لیکن جب احمدی ہوگئے تو حالت یکسر بدل گئی اور غصہ تو نام کا بھی نہ باقی رہا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی امور کی آپؓ کو پہلے سے خبر دی۔ ایک بیٹی کا رشتہ آیا تو آپؓ نے بلاتحقیق دعا کرکے ہاں کردی۔ شادی والے دن پتہ چلا کہ دولہا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے خواب میں دکھایا تھا اور وہ تھے حضرت غلام رسول صاحبؓ جو 313صحابہ میں شامل ہیں۔
قبول احمدیت کے بعد حضرت مستری صاحبؓ نے اپنی بیوی کو قرآن پاک پڑھانا شروع کیا مگر بہت کوشش کرنے پر بھی وہ نہ چل سکیں۔ آخر آپؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں ماجرا عرض کیا تو حضورؑ نے ارشاد فرمایا: ’’مستری جی! اپنی بیوی کو قرآن پاک پڑھاؤ، اب پڑھیں گی اور پڑھائیں گی‘‘۔ چنانچہ پھر انہوں نے قرآن پاک پڑھا اور کئی گھرانوں کو بھی پڑھایا۔
حضرت عائشہ بیگم صاحبہؓ کی شادی یوں ہوئی کہ حضرت حافظ عبدالعزیز صاحبؓ کی تین بیویاں یکے بعد دیگرے وفات پا گئیں تو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضرت حسن دین صاحبؓ نے اپنی بیٹی کا رشتہ حضرت حافظ صاحبؓ سے کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت حافظ صاحبؓ نے کہا: ’’مستری جی! میری بیویاں مر جاتی ہیں۔ میں شادی کیسے کروں؟‘‘۔ اس پر حضرت مستری صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا۔ حضورؑ نے فرمایا: ’’حافظ جی! شادی کرو، ہم نے دعا کی ہے زندگی والی ہو گی اور صاحب اولاد ہوگی‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیاں اور سات بیٹے عطا کئے اور حضرت عائشہ صاحبہؓ نے 85 سال عمر پائی۔
حضرت مسیح موعودؑ کی خواہش پر حضرت مستری صاحبؓ مع اہل و عیال سیالکوٹ سے قادیان چلے گئے۔ آپؓ ٹھیکیداری کرکے مکانات بنوایا کرتے تھے۔ قادیان میں آپؓ کو ایک چھوٹا سا کمرہ ملا تو آپؓ کی اہلیہ نے حضورؑ کی خدمت میں اس بارہ میں عرض کیا، اس پر حضورؑ نے اُسی دن ایک بڑا کمرہ مہیا فرمادیا۔
حضرت حافظ صاحبؓ نے سیالکوٹ میں کئی مکانات تعمیر کرواکر کرایہ پر اٹھارکھے تھے۔ حضرت عائشہ صاحبہؓ ہر کرایہ دار سے ذاتی تعلق رکھتیں، ضرورتمندوں کی مدد کرتیں، بیماروں کی دوا کا انتظام کرتیں۔ کسی کے بچہ ہونے والا ہوتا تو اُس کے بچوں کے کھانے کے علاوہ کئی دن تک خاتون کو دبانا بھی اپنے فرائض میں شامل کرلیتیں۔ سب لوگ آپؓ کو اماں جان کہہ کر پکارتے۔ طبیعت میں انتہائی سادگی تھی۔ بیوہ اور یتیم عورتوں کو اپنی بہنوں اور بچوں کی طرح سمجھتی تھیں۔ تلاوت قرآن میں باقاعدہ اور تہجد گزار تھیں۔ اشراق کی نماز بھی ہمیشہ ادا کرتیں۔ بہت دعاگو اور صاحب رؤیا و کشوف تھیں۔
آپؓ کے ایک بیٹے کو بی اے کا امتحان دینے سے پہلے ٹی بی ہوگئی اور انہیں ٹی بی ہسپتال راولپنڈی میں داخل کرادیا گیا۔ آپؓ نے ہسپتال کے سامنے ایک کمرہ کرائے پر لے لیا۔ ایک تخت پر جائے نماز بچھائی اور سجدہ سے اس وقت سر اٹھایا جب خداتعالیٰ نے مکمل تسلی دی۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے معجزانہ طور پر بیٹے کو شفا دی۔
کئی دیگر معاملات میں بھی دعا کرتیں تو تسلّی پالیتیں۔ ایک دن بیٹے سے کہنے لگیں کہ مجھے پنڈی پہنچا دو میں نے دیکھا ہے آواز آئی ہے’’کوہاٹی بازار چلو۔‘‘ چنانچہ آپؓ کو پنڈی بھجوادیا گیا۔ وفات سے چند دن پہلے 25تاریخ کے بارہ میں پوچھا کرتی تھیں کہ کب آئے گی؟ وفات سے تھوڑی دیر پہلے بچوں سے باتیں کیں، پھر اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں بند کیں اور بازو سیدھے کر لئے۔ ساتھ ہی لب ہلنے لگے اور جان، جان آفریں کے سپرد کر دی۔
25دسمبر 1975ء کو وفات ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Lu0Os]

اپنا تبصرہ بھیجیں