حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ

لجنہ اماء اللہ کینیڈا کے رسالہ ’’النساء‘‘ ستمبر تا دسمبر 2011ء میں محتر مہ طاہرہ رشید الدین صا حبہ نے اپنے ایک مختصر مضمون میں حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کی چند یادوں کا تذکرہ کیا ہے۔
حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ ایک نہایت وجیہہ اور باوقار خاتون تھیں۔ ان کا بارعب چہرہ اور رکھ رکھاؤ دیکھ کر ابتداء میں تو انسان لرز جاتا تھا لیکن جب پاس بیٹھ کر بات چیت ہوتی تو اُن کی شفقت اور محبت سے حوصلہ بڑھتا اور پھر دل پیار سے بھر جاتا۔ آپ بہت مہمان نواز تھیں۔
ایک بار مَیں نے سوال کیا کہ آپ کے سب بچے ماشاء اللہ نیک اور ہونہار اور خادم سلسلہ ہیں۔ آپ ان کے لئے کس طرح دعائیں کرتی ہیں؟ فرمایا کہ مَیں بچوں کی پیدائش سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہمیشہ ان کے لئے دعائیں کرتی رہتی ہوں اور صرف یہ دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک اور خادمِ دین بنائے۔ مَیں دنیاوی اقبال اور مالی ترقی کے لئے دعا نہیں کرتی۔ باقی اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے نوازتا ہے اورکوئی کمی نہیں رہنے دیتا۔
ایک دفعہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہوئی اور اپنے بڑے بیٹے عزیز ڈاکٹر علیم الدین (حال امیر جماعت احمدیہ آئرلینڈ) کی ایک پریشانی کا ذکر کرکے دعا کی درخواست کی۔ وہ بہاولپور میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔ اُس وقت آپ کے نواسے مکرم ڈاکٹر مشہود احمد صاحب بھی وہیں زیرِ تعلیم تھے۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی عزیز مشہود احمد کے لئے دعا کرتی ہوں تو ساتھ ہی علیم الدین کے لئے بھی دعا کرتی ہوں اس لئے اس کے لئے دعا کرنے کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت نہیں۔
ایک بار جب مجھے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا تو جلسہ سالانہ قریب آ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بطور ماں آپ کا دل حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لئے بے تاب ہوگا۔ میں نے باتوں باتوں میں کہا کہ کیا آپ اس دفعہ جلسہ سالانہ میں شمولیت فرمائیں گی؟ آپ نے رقت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ تم یہ دعا کیوں نہیں کرتیں کہ خدا تعالیٰ خلافت کو یہاں ہی لے آئے۔
ایک دفعہ ملاقات کے وقت یہ بات چل پڑی کہ آجکل شادی کے بعد سب کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بچے کم سے کم ہوں۔ زیادہ بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت بہت مشکل کام ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ خیال درست نہیں۔ میرے پانچ بچے ہیں لیکن میں اب بھی یہی سمجھتی ہوں کہ یہ کم ہیں۔ لوگ کیوں یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ اولاد کو پسند فرمایا ہے اور اسے بابرکت قرار دیا ہے۔اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہی برکت اور کامیابی ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/r0yen]

اپنا تبصرہ بھیجیں