حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ جولائی 1997ء میں مکرمہ زینب حسن صاحبہ اپنے والد حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ حضرت سیٹھ صاحب اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور اپنے والد کی وفات کے وقت آپ کی عمر سترہ اٹھارہ سال تھی، قرضوں کا بوجھ تھا اور ناتجربہ کاری تھی۔ آپ نے انتہائی انکسار سے دعا کی کہ اے اللہ اگر مجھے قرضوں سے نجات مل جائے تو میں زندگی بھر اپنی آمدنی کا ایک تہائی حصہ تیرے دین کی سربلندی اور مجبور مخلوق کی خدمت پر خرچ کیا کروں گا۔ بابِ استجابت وا ہوگیا اور جلد ہی آپ کا شمار مملکت آصفیہ حیدرآباد کے متمول تاجروں میں ہونے لگا۔ تب آپکی سعید فطرت دین کی طرف مائل ہوئی اور آپ نے چھ ماہ کے روزے رکھے اور اھدنا الصراط المستقیم کی دعا کرتے رہے۔ چنانچہ جلد ہی اللہ تعالیٰ نے قبولِ احمدیت کی توفیق عطا فرمائی۔ آپکی اہلیہ کو بھی (جو شیعہ اسماعیلی تھیں) خوب دعاؤں کے بعد قبولِ احمدیت کی سعادت عطا ہوگئی۔تب دونوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا اور دونوں اپنی بڑی صاحبزادی کے ہمراہ زیارت بیت اللہ کے لئے چلے گئے۔اس زمانہ میں سفر اونٹوں پر چھ ماہ میں ہوتا تھا۔ حج کے بعد آپ نے اپنا زیادہ وقت عبادت اور تبلیغ میں صرف کیا ۔
حضرت سیٹھ صاحب نے متعدد دینی کتب اردو، انگریزی اور گجراتی میں تحریر فرمائیں اور دعوت الی اللہ کے لئے ہرممکن سعی فرمائی۔ تقریباً چار سو سعید روحوں نے آپ کے ذریعے قبولِ حق کی توفیق پائی۔ آپ روزانہ رات کو دیر تک علمی کام میں مصروف رہتے اور صبح نماز تہجد ادا کرنے کیلئے سب سے پہلے بیدار ہو جاتے۔ بچوں کو نماز فجر پر اٹھاتے اور باجماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرتے۔
20؍ رمضان 1966ء میں حضرت سیٹھ صاحب کی وفات ہوئی۔ وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ اب مجھے فرشتے لینے کے لئے آرہے ہیں۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/LBRse

اپنا تبصرہ بھیجیں