حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ نومبر 1999ء میں ایک پرانی اشاعت سے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کی سیرۃ پر مکرم افتخار احمد چیمہ صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت سیدہؓ 2؍مارچ 1898ء کو پیدا ہوئیں۔ بچپن میں جب رات کو ڈر لگتا تو حضور علیہ السلام کے پاس آجایا کرتی تھیں۔ جب تقریباً پانچ سال کی ہوئیں تو حضور علیہ السلام نے نصیحت فرمائی کہ جب ڈر لگے تو اپنی چارپائی سے ہی آواز دے دیا کرو، مَیں جواب دوں گا۔ تاہم آپؓ کی چارپائی ہمیشہ حضور کی چارپائی کے قریب ہوتی تھی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپؓ سے بہت محبت تھی اور آپؓ کی تربیت کا بھی خیال رہتا تھا۔ ایک مرتبہ حضور نے کچھ عورتوں کو نصیحت فرمائی تو آپؓ کو بھی بلاکر سامعین میں شامل کرلیا۔ ایک مرتبہ آپؓ نے حضور کو چارپائی پر نماز پڑھتے دیکھا تو خود بھی چارپائی پر نماز پڑھنی شروع کردی۔ اتفاق سے حضور کا گزر بھی ادھر سے ہوا۔ حضور مسکرائے اور فرمایا: ’’بچہ ہے، اس نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے مگر یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ ایسا تو بیماری کی حالت میں مَیں نے کیا تھا‘‘۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ اس طرح میرے کانوں سے بات گزاردی اور مجھے سمجھ آگئی۔
ایک مجلس میں آپؓ نے بیان فرمایا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ کی بیگم ہمارے ہاں رہا کرتی تھیں۔ مَیں بچہ تھی اور انہیں مولویانی کہا کرتی تھی۔ وہ مجھے تہجد کے لئے بیدار کرتی تھیں۔ ایک دفعہ فرمایا کہ چار سال کی عمر ہی سے تہجد پڑھتی چلی آرہی ہوں۔
آپؓ بچپن ہی سے عابدہ زاہدہ تھیں۔ ساری عمر پنجگانہ نمازوں اور تہجد کا التزام کرتی رہیں۔
آپؓ عشاء کے بعد بلاناغہ تلاوت قرآن پاک فرماتیں اور جہاں ذرا معانی میں تردّد ہوتا تو لغت کی طرف رجوع کرتیں۔ ہمہ تن درود و سلام اور دعا میں مصروف رہتیں۔ کمرہ بند کرکے گھنٹوں دعاؤں میں لگی رہتیں۔ ایک طالبہ کی طرف سے دعا کی یاددہانی پر فرمایا:
’’تم کبھی کبھار دعا کی یاددہانی کے لئے آتی ہو۔ مَیں تو جماعت کے خصوصاً وہ خادم جو فوت ہوچکے ہیں، اُن کی اولادوں کے لئے نام لے لے کر مجموعی طور پر دعا کرتی ہوں۔ اب بھی انشاء اللہ کروں گی، فکر نہ کرنا۔‘‘
ایک بار ایک بچی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’دیکھو اگر کوئی یہ کہے کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا تو سمجھ لو کہ یہ بات بُری ہے کیونکہ بُری بات چھپائی جاتی ہے۔ ایسی لڑکی سے دوستی نہ رکھنا۔ بچپن میں ایک لڑکی میرے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اُس نے میرے کان میں ایک بات کہی اور پھر کہا یہ بات کسی سے نہ کہنا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قریب ہی تھے۔ انہوں نے یہ بات سن لی اور مجھے بلاکر فرمایا اس لڑکی کے ساتھ نہ کھیلنا۔ اس پر وہ لڑکی سخت گھبرائی اور رونے لگ گئی اور اُس نے اسی وقت معافی مانگ لی۔‘‘
حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے ایک لمبی بیماری صبر سے برداشت کرتے ہوئے 22 و 23 مئی 1977ء کی درمیانی شب وفات پائی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/a5lIr]

اپنا تبصرہ بھیجیں