حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جولائی 2003ء میں مکرمہ قدسیہ بیگم صاحبہ اپنے مضمون میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ حضورؒ کے ساتھ کئی رشتے تھے لیکن سب سے بڑا رشتہ خلافت کا تھا اور پھر قادرؔ کی شہادت پر جو ہم سے غیرمعمولی ہمدردی کی۔
بچپن سے ہی آپؒ کی طبیعت میں بے حد مزاح تھا۔ آپؒ کی وفات کے بعد وہ خط نکالے جو آپؒ نے بچپن اور لڑکپن میں لکھے تھے۔ اگرچہ ہمارے والدین نے پردہ کے معاملہ میں بہت سختی کی تھی لیکن ایک دو کزن ایسے تھے جن سے بے تکلّفی تھی اور خط و کتابت بھی ہوتی تھی۔ ان میں آپؒ بھی تھے۔ بے تکلّفی بھی تھی اور لڑائی بھی ہوجاتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کم عمری کے تعلق اور واسطے کے باوجود کبھی کوئی بے وقری بات نہیں دیکھی۔ مزاح اپنی جگہ مگر ایک بڑے آدمی کی نشانیاں آپؒ میں پائی جاتی تھیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے شعر

اہل وقار ہوویں، فخر دیار ہوویں
کے پورے پورے مصداق تھے۔

آپؒ کی وفات کے بعد مَیں رات گئے تک اپنے طاریؔ کے لکھے ہوئے خطوط پڑھتی رہی۔ ایک خط میں لکھا ہے: ’’کتب واپس کر رہا ہوں۔ وعدہ کے مطابق بغیر ختم کئے ہی بھیج رہا ہوں۔ بات یوں ہوئی کہ یہاں آتے ہی اتنا کام پڑا۔ تم جانتی ہی نہیں ہو کہ مَیں کتنے کام کا آدمی ہوں۔ امید ہے تمہیں میرے وعدے اور وقت کا یقین آگیا ہوگا۔ اگر اس دفعہ کی طرح چار پانچ دن کی مہلت دیدیا کرو تو بغیر پڑھے ہی واپس کردیا کروں گا۔ یہ کتاب اب تک جتنی بھی مَیں نے پڑھی ، اس سے ایک نتیجہ تو یقینی طور پر نکلتا ہے کہ یا تو یہ کتاب طربیہ ہے یا المیہ‘‘۔
1950ء کا ایک خط ہے: ’’یہاں کوئی کام ہو تو بے تکلّفی سے لکھ دینا۔ گو مَیں کروں یا نہ کروں۔ یہ اَور بات ہے۔ …‘‘
لندن میں جب تعلیم حاصل کر رہے تھے تو مَیں بھی افریقہ جاتے ہوئے لندن سے ہوکر گئی۔ وہاں کہنے لگے کہ مَیں نے اپنے کلاس فیلوز کی دعوت کرنی ہے اور سموسے تم نے بنانے ہیں۔ پارٹی کے بعد بہت خوش تھے اور بتاتے تھے کہ سب پوچھتے تھے کہ اس تھیلی میں قیمہ کس طرح ڈالا تھا؟
1948ء میں مَیں بہت بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوئی تو آپؒ نے مجھے پھول اور کارڈ بھجوایا۔ پھر 1998ء میں لندن میں میرا آپریشن ہوا تو پھر آپؒ نے مجھے کارڈ اور پھول بھجوائے۔ مَیں نے اپنی بیٹی سے کہا کہ یہ پھول نہیں پھینکنے، پچاس سال بعد دوبارہ آئے ہیں اور اب پھر پچاس سال تو نہ آنے ہیں، نہ پھول ملنے ہیں۔ چنانچہ وہ پھول مَیں پاکستان لے آئی، جو آج بھی میرے پاس پڑے ہیں۔
’’کلام طاہرؔ‘‘ کا نیا ایڈیشن مجھے عید مبارک کے ساتھ بھجوایا تو مَیں نے جواباً لکھا کہ آپ ایک ہشت پہلو ہیرا ہیں جس کی کئی طرف شعاعیں نکلتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کے علاوہ اپنی ماں کی دعائیں بھی لگی ہیں۔
تین سال پہلے جب مَیں لندن گئی تو رات کے کھانے پر سارا خاندان اکٹھا تھا، کسی وجہ سے میرا دل دکھا اور مَیں گھر آکر نماز میں بہت روئی اور اللہ میاں سے بہت دکھ سکھ کئے۔ جب دوسرے دن مشن ہاؤس گئی تو حضورؒ نے گزرتے گزرتے فرمایا کہ رات تمہارے لئے بہت اچھی خواب دیکھی ہے، علیحدہ بتاؤں گا!۔ پھر علیحدہ لے جاکر جب آپؒ نے وہ خواب بتائی تو مَیں اس روحانی تعلق پر حیران رہ گئی کہ دکھ سکھ تو مَیں نے اللہ میاں سے کئے تھے، آپؒ تک کیسے پہنچ گئے؟

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ejw20]

اپنا تبصرہ بھیجیں