حضرت خلیفۃالمسیح الثالث کی ماؤں کو نصیحت

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ مستورات 1965ء کے موقع پر جو خطاب فرمایا، اُس کا ایک اقتباس ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ستمبر 1996ء کی زینت ہے۔ آپؒ نے فرمایا:-
’’ بعض ماحول ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جہاں ماں بچے کو کپڑے پہناتے ہوئے دعا کرنے کی بجائے کوسنے دے رہی ہوتی ہے۔ یہ بہت بُری بات ہے …(اس وقت کو) بچوں کے لئے دعائیں کرنے میں صرف کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے نیک بنائے ، دین کا خادم بنائے ، اسے اپنی محبت دے اور اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔ ان کے علاوہ ہزاروں اور دعائیں ہیں جو آپ اپنے بچوں کے لئے کر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے جذبے کو دیکھ کر آپ کی دعاؤں کو قبول بھی کرے گا۔ اور آپ کی اولاد آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی، وہ محمدﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گی … اگر آپ کو ہر وقت یہ خیال رہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے ربّ کے حضور نہایت انکساری کے ساتھ جھکتے ہوئے خرچ کرنا ہے تو آپ ایسا کرسکتے ہیں اور آپ کے کسی کام میں حرج بھی واقع نہیں ہو گا۔ آپ کھانا پکا رہی ہوتی ہیں، آپ دیگچی میں چمچہ ہلا رہی ہوتی ہیں تا مسالحہ بھون لیں تو آپ اپنے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ

سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم

پڑھ سکتی ہیں۔ آپ اپنے ہاتھ کی حرکت کے ساتھ

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ

پڑھ سکتی ہیں۔ اس طرح جو کھانا تیار ہوگا وہ کھانے والوں کے معدہ میں صرف مادی غذا ہی مہیا نہیں کرے گا بلکہ آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں انہیں روحانی غذا بھی حصہ میں ملے گی۔‘‘

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/tAuKb]

اپنا تبصرہ بھیجیں