حضرت خلیفۃالمسیح‌الرابع کی چند یادیں

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں مکرم چوہدری حمید اللّہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید کی چند خوبصورت یادیں شامل اشاعت ہیں-
٭ ۲۶؍اپریل۱۹۸۴ء کوجنرل ضیاء الحق نے آرڈیننس xx جاری کیا اوررات کی خبروں میں اس کا اعلان ہوا۔ رات 10بجے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مرکزی عہدیداروں کا ایک اجلاس بلایا۔ میری یادداشت کے مطابق اس اجلاس میں مکرم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ، مکرم صاحبزاہ مرزا مبارک احمد صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب، مکرم سید میر مسعود احمد صاحب، مکرم ملک سیف الرحمن صاحب، مکرم سیدعبدالحیٔ صاحب اور خاکسار شامل تھے۔ اس بات پر ابتدائی مشورہ ہواکہ اس آرڈیننس کے مدنظر جماعت کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہو۔
اگلے روز باہر کی جماعتوں سے بھی بہت سے نمائندگان تشریف لے آئے اور مشورہ وسیع ہوگیا۔مختلف کاموں کیلئے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیںاور حضور رحمہ اللہ کی ہجرت کا فیصلہ بھی اسی دن ہوا۔اس سے اگلے دن حضوررحمہ اللہ کی ہجرت کے انتظامات کو آخری شکل دی گئی۔
حضورؒ نے ۲۹؍اپریل کو صبح روانہ ہوناتھا۔ ۲۸؍اپریل کو ہجرت جیسے اہم قدم اورجماعت سے جدائی کی وجہ سے حضوررحمہ اللہ کی ایک کرب کی کیفیت تھی۔جس کا اظہار ان ارشادات سے ہوتا ہے جو حضورؒ نے روانگی سے ایک دن قبل 28اپریل کو مختلف نمازوں کے بعد فرمائے۔ان دنوں میں مسجد مبارک میں ربوہ کے دوست کثرت سے تشریف لاتے تھے۔ چونکہ حضورؒ نے یہ ارشادات بغیر کسی پیشگی پروگرام کے فرمائے تھے اس لئے اس وقت ان کو محکمانہ طورپر ریکارڈ نہیں کیا گیا،البتہ بعض دوستوں نے اپنے طورپر ان ارشادات کو نوٹ کرلیا تھا۔ان دوستوں کی تحریر خاکسار کے پاس محفوظ ہے۔چونکہ وہ ارشادات ابھی تک، جہاں تک خاکسار کو علم ہے سلسلہ کے کسی اخبار یا رسالہ میں شائع نہیں ہوئے۔اس لئے ان کو ذیل میں درج کررہا ہوں۔جہاں تک خاکسار کی یادداشت اور بعض دوسرے دوستوں کی یادداشت ہے۔یہ کم وبیش حضورؒ کے ہی الفاظ ہیں:-
(i) ’’السلام علیکم ورحمۃاللہ۔ صبرکریں،حوصلہ رکھیں۔ ہم نے خداتعالیٰ کوماناہے۔ ہم مشرک نہیں ہیں۔ خداتعالیٰ نے ہم سے قربانیاں مانگی ہیں۔ ہم قربانی دیں گے۔وہ جتنی قربانیاں مانگے گا ہم دیں گے، ہم دیں گے، ہم دیں گے۔سب سے پہلے میں قربانی دوں گا۔ میں قربانی دوں گا۔ میں قربانی دوں گا۔‘‘
(ii) ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ میں نے آپ کو یہاں اس لئے نہیں بٹھایا کہ میں نے کوئی تقریر کرنی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھنے کے لئے بٹھایا ہے۔ میری آنکھیں آپ کو دیکھنے سے ٹھنڈک محسوس کرتی ہیں۔ میرے دل کو تسکین ملتی ہے۔ مجھے آپ سے پیار ہے، عشق ہے۔ خدا کی قسم کسی ماں کو بھی اس قدر پیار نہیں ہوسکتا۔‘‘
(iii) ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ میں آج آپ کو صبر کی تلقین کرنا چاہتا ہوں۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔ کوئی بھی ایسی حرکت نہیں کرنی جو صبر کے معیار سے گری ہوئی ہو۔صبرکا دامن صبر سے تھامے رکھنا ہے۔ صبر روحانیت میں تبدیل ہوجایا کرتاہے۔ یہ اس صابر کی دعائیں ہیں جو دنیامیں انقلاب برپا کرتی ہیں۔ صبرکے سامنے سب طاقتیں ہیچ ہیں۔ کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی جس سے جماعت پر حرف آئے۔ ہمارے پاس سب سے بڑا ہتھیار گریہ وزاری ہے۔ اتنی گریہ و زاری کریں، اتنی گریہ و زاری کریں کہ آسمان کے کنگرے بھی ہل جائیں۔ قسم اُٹھا کر میرے ساتھ وعدہ کریں جو حکم میں دوں گا اُس کی اطاعت کریں گے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جماعت روحانیت کے نئے دَور میں داخل ہورہی ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ خدا غم کو خوشیوں میں تبدیل کردے گا۔ آہیں اور سسکیاں خوشیوں میں تبدیل ہوجائیں گی۔خدا کی قسم فتح ہماری ہے۔آپ جیتیں گے،آپ جیتیں گے، آپ جیتیں گے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں آپ سچے ہیں، آپ سچے ہیں،آپ سچے ہیں۔ قوموں کی حفاظت کرنا ہمارافرض ہے۔ہم اُن کی حفاظت کریں گے۔صبرکرنے والے ہمیشہ غالب آتے ہیں اور بے صبرے ہمیشہ تباہ ہوجاتے ہیں۔‘‘
ان ارشادات کو پیش کرنے کے ساتھ ایک بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ 28اپریل 1984ء عشاء کی نماز آخری نماز تھی جو ہجرت سے قبل حضوررحمہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مبارک ربوہ میں پڑھائی ۔قراءت کے دوران حضورؒنے قرآن مجید کی آیت کایہ ٹکڑا

قُلْ رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْ خَلَ صِدْقٍ وَ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ

اتنا بارباراوراتنے الحاح اوررقت سے پڑھا کہ جن لوگوں کو ہجرت کے فیصلہ کا علم تھا انہوں نے یہ محسوس کیا کہ حضورؒ نے تو ہجرت کا اعلان ہی کردیا ہے۔
٭ ہجرت کے بعد لند ن پہنچتے ہی کسی توقف کے بغیر حضوررحمہ اللہ نے جماعت کی ترقی اور بہبود کے لئے منصوبہ بندی اور کام شروع کردیا۔ چنانچہ سب سے پہلے حضور رحمہ اللہ نے یورپین مراکز کے قیام کی تحریک کی تھی اور سب سے پہلے لندن کے مضافات میں ٹلفورڈ میں جماعتی مرکزخریدا گیا جس کا نام اسلام آباد رکھا گیا۔حضورنے دوستوں سے اس مرکز کے لئے نام پوچھے تھے۔محترمہ سلمیٰ مبارکہ صاحبہ نے اسلام آباد نام تجویز کیا تھا جو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے منظور فرمایا۔ یہیں جماعت UK کا جلسہ سالانہ ۱۹۸۵ء سے منعقد ہورہا ہے۔
جہاں تک خاکسار کو یاد ہے ۔اسلام آباد(ٹلفورڈ) کا قبضہ جماعت کو ۱۰؍ستمبر ۱۹۸۴ء کو ملا تھا۔ خاکسا ر اس وقت ربوہ میں ہی تھا۔ حضوررحمہ اللہ کو اس مرکز کی خریدکی اتنی خوشی ہوئی تھی کہ حضور نے خاکسار کو ارشاد فرمایا تھا کہ اس خوشی میں مٹھائی بانٹی جائے۔چنانچہ سب کوارٹرز تحریک جدید میں اس خوشی میں مٹھائی بانٹی گئی تھی۔گیسٹ ہاؤس ۴۱ بھی ان دنوں میں ہی خرید ا گیا تھا۔ انگلستان کے مرکز کی خرید کے بعد پھر یورپین ممالک، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا اور دوسرے ممالک میں مراکز کی تعمیر اور خرید کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوگیا جو فی ذاتہٖ ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔
٭ حضوررحمہ اللہ ۲۹؍اپریل ۱۹۸۴ء کو ربوہ سے روانہ ہوئے تھے۔کچھ عرصہ کے بعد بعض ایسے مشورے تھے جو پاکستان سے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میںپیش کئے جانے تھے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مرکز سے کوئی نمائندہ یہ مشورے لے کرحضور کے پاس آئے۔ چنانچہ خاکسار کے جانے کافیصلہ ہوا۔ح ضور رحمہ اللہ کا منشاء تھا کہ خاکسار لندن میں دو ہفتے قیام کے بعد واپس آجائے گا۔ لیکن عملاً خاکسارایک سال سے زائد عرصہ وہاں رہا اور حتی الوسع خدمت کی توفیق پائی۔ خاکسار ستمبر ۱۹۸۴ء کے آخر میں گیا تھا۔ جاتے ہی حضوررحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہاں اپریل ۱۹۸۵ء میں جلسہ سالانہ منعقد کرنا ہے۔افسر جلسہ سالانہ مقررکرنے کے لئے کسی دوست کا نام تجویز کریں ۔چنانچہ UK کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا گیااور مجلس عاملہ نے مشورہ دیا کہ مکر م ہدایت اللہ بنگوی صاحب کو افسر جلسہ مقررکیاجائے جس کو حضور رحمہ اللہ نے منظورفرمایا اور خاکسار کو حضوررحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جلسہ کے کاموں کے بارے میں ان کی رہنمائی کریںاور جلسہ کے انتظامات کی نگرانی بھی کرلیں۔ جو حتی المقدور خاکسارکرتارہا۔ساتھ ہی حضور نے جلسہ کے معاً بعد انٹرنیشنل شوریٰ منعقد کرنے کا ارشاد فرمایا جس کا انتظام خاکسار کے سپرد فرمایا۔
٭ 1984-85ء میں لند ن میں خاکسار کے قیام کے دوران کا ایک اور واقعہ خاکسار کو کبھی نہیں بھولتا۔ مکرم شیخ مبارک احمد صاحب (برادر حضرت شیخ محبوب عالم صاحب خالد مرحوم) تفسیر کبیر سے ایک اقتباس لے کرآئے اور مجھ سے کہا کہ میں جھجکتاہوں۔ آپ یہ اقتباس حضور کی خدمت میں پیش کردیں۔یہ اقتباس سورۃ انبیاء کی تفسیر سے اس حصہ سے متعلق ہے جہاں حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر ہے اور ان مصائب و مشکلات کا ذکر ہے جن میں وہ مبتلا رہے علاوہ ازیں ان کی ہجرت کا ذکر ہے اور یہ کہ جس ملک میں وہ رہتے تھے اس کا بادشاہ ظالم تھا۔ اقتباس یوں ہے: ’’ان دونوں (حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام۔ ناقل) کے بعد حضرت ایوب کا ذکر کیا گیا ہے جن کی ساری عمر مشکلات میں کٹ گئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لحاظ سے شاید حضرت علی ؓ کو حضرت ایوب ؑ سے نسبت دی جاسکے اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے لحاظ سے تو بہرحال یہ ایک پیشگوئی ہے جو وقت پر آکر ظاہر ہوگی‘‘۔ (تفسیر کبیر جلدپنجم صفحہ 549مطبوعہ1958ء)
چنانچہ جب یہ اقتباس خاکسارنے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیاتو فرمایا کہ ہاںمیرے ذہن میں بھی یہ بات ہے۔اس اقتباس کو رسالہ ’النصر‘ میں شائع کردیں۔چنانچہ حضوررحمہ اللہ کے ارشاد کی تعمیل میں ان دنوں یہ اقتباس رسالہ النصر میں شائع کروا دیا گیا تھا جو ایک ہفتہ واررسالہ تھا اور الفضل کے بدل کے طورپر لندن سے حضوررحمہ اللہ کی ہجرت کے کچھ عرصہ بعد جاری کیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ جاری رہ کر بند ہوگیا تھا۔ مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب اس کے ایڈیٹر تھے۔
احباب جانتے ہیں کہ خلافت رابعہ کا دور ایک مشکلات کا دورتھا جس کے بارہ میں حضرت مصلح موعود نے تفسیر کبیر میں مذکورہ بالا پیشگوئی فرمائی تھی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات کے سامنے اللہ تعالیٰ کے ایک صبور اور شکور بندے کی طرح سینہ سپر ہوئے اور جماعت کی کشتی کو ان مشکلات کے طوفان سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحیح وسالم باہر نکال لائے۔
اسی طرح خاکسار کے ۸۵-۱۹۸۴ء میں لندن قیام کے دوران ایک دوست نے حضوررحمہ اللہ کو حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی ایک رؤیا لکھ کر بھجوائی جس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ فرمایا تھا۔ان دوست نے حضوررحمہ اللہ کو لکھا کہ یہ رؤیا تو حضور رحمہ اللہ کی موجودہ ہجرت پر چسپاں ہوتی نظر آتی ہے۔حضور ؒ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میں بھی وہ خط اور رؤیا پڑھ لوں۔ نیز حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس رؤیا کے مطابق اس ابتلا کے دَور میں جماعت نے درمیانی راستہ ہی اختیار کیا ہے اور کسی انتہا پر نہیںگئی۔ خاکسارنے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں عرض کیا کہ رؤیا میں حضرت مصلح موعود وہ راستہ اختیار کرنے کا سوچ رہے تھے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ذکر ہے اور پوچھاکہ وہ الہام کونسا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ الہام

یَأْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی

ہے۔ پوری صورت حال کو سمجھنے کے لئے احباب جماعت کومصلح موعود کے دعویٰ والے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے رؤیا کودوبارہ پڑھنا چاہیے۔مجھے تو ایسا معلوم ہوتاہے جیسے یہ رؤیا صرف مصلح موعود کی پیشگوئی تک محدود نہیں بلکہ یہ رؤیا خلافت احمدیہ کے سفر پر حاوی ہے۔
٭ ۱۹۷۳ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے صد سالہ جوبلی منصوبہ کا اعلان فرمایا تھا،تو صدسالہ جوبلی منصوبہ کمیٹی مقرر فرمائی تھی۔ حضرت شیخ محمد احمد مظہرصاحب مرحوم اس کے صدر تھے۔حضرت مرزا طاہر احمد( خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) اس کے ممبر تھے۔خاکسار سیکریٹری تھا۔اس منصوبہ کی کئی شقیںتھیں۔ جس شق پر منصوبہ بندی میں زیادہ مشکل پیش آئی تھی وہ شق نمبر 4 تھی ۔’نوع انسانی کو امّت واحدہ بنانے کا کام‘ اور کوئی ایسی صورت نہیں ابھرتی تھی جس پر پورااطمینان ہو۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یہ چوتھی شق حسب ذیل ہے:
’’حضرت مسیح موعودو مہدی معہودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کی بنیادی غرض غلبہ اسلام، تمام بنی نوع انسان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔اسے ہم نوع انسانی کو امّت واحدہ بنانے کا کام کہتے ہیں‘‘۔
الف: امّت واحدہ بنانے کیلئے حقیقی کوشش تو یہ ہے کہ سب بنی نوع انسان توحید خالص پر قائم ہوجائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مست۔ مگر بعض چھوٹی تدابیر بھی کرنی ہوں گی جن میں سے بعض یہ ہیں۔
-1 نیشنلزم اور انٹرنیشنلزم میں صحیح توازن کا قیام
-2 اللہ کے حقیقی بندوں میں جو مختلف ممالک میں رہنے والے ہیں باہمی مودّت اور رابطہ پیدا کرنے کے لئے۔
(الف) ٹیلیکس
(ب) ورلڈ بلال ریڈیو ایمے چیور (amateur) کلبز
(ج) بین الاقوامی سطح پر قلمی دوستی
(د) براڈکاسٹنگ سٹیشن
(ہ) مرکز سلسلہ میں جلسہ سالانہ میں اقوام کے وفود کی شمولیت۔ رہائش کا انتظام اور ایک بڑی جلسہ گاہ بنانا
(و) تصاویر کا تبادلہ
اس کی راہ میں جو بڑی اندرونی روک ہے وہ تکفیر کی گرم بازاری ہے۔اسے دور کرنے کی کوشش ۔پس اس سولہ سال (یعنی ۱۹۷۳ء تا ۱۹۸۹ء۔ ناقل) کے عرصہ میں ہم اسلام کے تمام فرقوں کو بڑی شدت کے ساتھ، نہایت عاجزی کے ساتھ ،بڑے پیار کے ساتھ، بڑ ی ہمدردی اورغم خواری کے ساتھ یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ جن اصولوں میں ہم متحد ہیں۔ اس میں اتحاد عمل کرو اور غیر مسلم دنیا میں توحید خالص کو پھیلانے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو منوانے اور قرآن کریم کی شان کے اظہار کے لئے اکٹھے ہوکر کوشش کرو۔‘‘
خاکسار کی رائے میں ہجرت کے بعد لند ن جاکر جن امور کی طرف حضور ؒ نے خاص توجہ دی اورجن پر غیرمعمولی محنت کی وہ ساری دنیا کو امّت واحد ہ بنانے والے اقدامات تھے ۔
اوّل اس بات کو جماعت کے ذہن نشین کروایا کہ جماعت کے لئے خلیفۂ وقت کے خطبات سننا ضروری ہیں۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ کے خطبات جمعہ کی کیسٹس دنیا کے سارے ممالک کو بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ممالک کو کیسٹ پلیئرز خرید کر بھجوائے گئے۔اسی طرح ممالک کو کیسٹ کاپیئرزمہیا کئے گئے۔تاکہ جب حضور رحمہ اللہ کی کیسٹ کسی ملک میں پہنچے فوراً اس کی کاپیاں کرکے اس ملک میں جماعتوں کو بھجوائی جائیں۔پاکستان کی جماعتوں کے لئے بھی اسی قسم کا انتظام کیاگیا۔خطبہ جمعہ کی کیسٹس کے ساتھ دعوت الی اللہ کی ضرورت کوپورا کرنے والی تقاریر اور سوال وجواب کی کیسٹس کو بھی اس طرح ساری دنیا میں پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔پھر حضوررحمہ اللہ کے خطبات اور مجالس کی مختلف زبانوں میں ترجمانی کا انتظام کیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی ویڈیو کیسٹس کی تیاری کا بھی وسیع پیمانے پر انتظام کیا گیا اور لندن میں ان دونوں کاموں کو انجام دینے کے لئے ٹیمیں مقرر کی گئیں۔ پھر حضور رحمہ اللہ نے جماعت کے لئے ریڈیو سٹیشن کے قیام کے لئے بھی لندن جاتے ہی کوشش شروع کردی تھی ۔لیکن ریڈیو سٹیشن کی range تھوڑی تھی۔ساری دنیا تک آواز پہنچانے کیلئے relay stationsکا قیام ضروری تھا۔اس لئے یہ پروگرام بھی کچھ عرصہ کے بعد بین الاقوامی ضروریات کے لئے ناکافی ہونے کی وجہ سے drop کردیا گیا۔
ماریشس کی جماعت نے ٹیلیفون پر حضوررحمہ اللہ کا خطبہ سننے کا انتظام کرکے اس طرف توجہ پھیر دی کہ حضور رحمہ اللہ کے خطبات جماعتیں براہ راست سنیںاوررخ سیٹلائٹ کے نظام سے استفادہ کی طرف مڑ گیااور MTAمعرض وجود میں آیا۔ MTA کے ذریعہ جماعت اور جماعت سے باہر کے لوگ جو MTAکی نشریات سنتے ہیں بتدریج جماعتی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ ہورہے ہیں اور دنیا امّت واحدہ بننے کی طرف اپنا آخری قدم اٹھا چکی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو امّت واحدہ بنانے کے لئے مختلف وسائل اختیار کرنے کاجومنصوبہ بنایا تھا،حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عملی صورت دے کر دکھادیاکہ MTAکا قدم دنیا کے امّت واحدہ بننے کے لئے بڑا اہم اور بنیادی ہے۔
اب ماشاء اللہ MTAکے قیام پر دس سال گزر چکے ہیں اورMTAنے جماعت کے افرادکو خلیفۂ وقت کے ساتھ اور آپس میں جوڑ دیا ہے۔بیک وقت ساری دنیامیں خلیفۂ وقت کے ارشادات پہنچنے کے نتیجہ میں جماعت ایک ہی طرح پر سوچنے اور عمل کرنے لگتی ہے اورخلیفۂ وقت کی آواز پہنچنے اور اس پر عمل درآمد میں کوئی وقفہ یا دیر نہیں ہوتی۔ MTAنے جماعت کے اندر وحدت خیال اور وحدت عمل پیدا کرنے میں ایک زبردست کردار اداکیا ہے۔یہ کردار صرف اندرون جماعت تک محدود نہیںبلکہ بیرون جماعت تک ممتدہے۔ مختلف ملکوں ، مختلف قومیتوں کے لوگ ، مختلف زبانیں جاننے والے بھی ہمارے پروگرام سنتے ہیں اور اُن کی سوچیں بھی ہماری سوچوں سے ہم آہنگ ہورہی ہیں تو امّت واحدہ بننے کا عمل صرف اندرون جماعت ہی جاری نہیں۔بیرون جماعت بھی جاری ہے اور حضور رحمہ اللہ کے خطابات اور بالخصوص سوال جواب کی مجالس نے نیشنلزم اور انٹر نیشنلزم کے درمیان توازن قائم کرنے کے لئے بنیادی کردار اداکیا۔ بچوں کے پروگرام کے ذریعہ بچے ایک لڑی میں منسلک ہورہے ہیں ۔خواتین کے پروگراموں کے ذریعہ عورتوں کی سوچیں جماعتی نہج پر آگئی ہیں ۔غرضیکہ ایک بین الاقوامی انقلاب ہے جوMTAکے ذریعہ برپا ہورہاہے۔ MTAحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے کارناموں میں سے ایک عظیم کارنامہ ہے۔

ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/mqcjl]

اپنا تبصرہ بھیجیں