حضرت الحاج ممتاز علی خانصاحب صدیقیؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍جولائی 2007ء میں حضرت الحاج ممتاز علی خاں صاحب صدیقیؓ کی سیرۃ پر ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔
آپؓ حضرت خانصاحب ذوالفقارعلی خاں صاحب گوہرؓ رامپوری کے فرزند تھے۔ ولادت قریباً 1889ء میں ہوئی اور وفات اپنے والد ماجد کے انتقال کے قریباً چار ماہ بعد قادیان میں ہوئی۔ محترم ملک صلاح الدین صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا کہ آپؓ کے والد بزرگوار نے آپ کو اور آپ کے ایک بھائی ہادی علی خان صاحبؓ کو 1906ء تا 1907ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں داخل کرا دیا تھا۔ آپ ان خوش قسمت احباب میں سے ہیں جن کا نام ایک نشان کے تعلق میں گواہوں کے زمرہ میں حضرت مسیح موعودؑ نے شمار فرمایا۔ یہ حقیقۃالوحی میں ساتویں نشان کے طور پر بیان ہوا ہے۔
آپؓ کو تبرکات حضرت مسیح موعودؑ کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا لیکن تقسیم ملک کے وقت وہ ضائع ہوگئے۔ ابتداء زندگی میں آپؓ بطور ڈسپنسر وغیرہ کام کرتے رہے۔ بیمار ہونے کے بعد نہایت عسر کی حالت میں ان کا گزارہ ہوتا تھا۔ یہ تنگی عرصہ درویشی میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی لیکن پھر بھی مالی خدمات سلسلہ اپنا پیٹ نہایت بری طرح کاٹ کر کرتے تھے پہلے آپ نے 1/10 کی وصیت کی ہوئی تھی۔ لیکن مئی 1952ء سے اسے بڑھا کر 1/8 کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک جدید میں بھی حصہ لیتے تھے۔ اس وقت آپ کو صرف انتیس روپے ماہوار ملتے تھے۔ جس میں سے چندہ وضع کرکے اندازاً صرف 23 روپے کھانے پارچات اور دودھ، نائی، دھوبی وغیرہ کے لئے بچتے تھے۔ اس سے ان کی مالی قربانی کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ جس مریض کو اپنی مرض کی نوعیت کے باعث اعلیٰ غذا کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس معمولی اخراجات ہی کے لئے بمشکل رقم ہوتی ہے۔ جب وہ قربانی کرتا ہے تو وہ دوسرے ہزاروں روپیہ چندہ دینے والوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر قربانی کر رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو قبول فرمایا اور انجام بخیر ہوا اور بہشتی مقبرہ ان کا مدفن ہوا۔ اس قربانی کی اور بھی زیادہ اہمیت ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نہایت اعلیٰ خاندان کے فرد تھے۔ آپ کے والد بزرگوار ہندوستان کے مایہ ناز لیڈروں (علی برادران) کے برادر اکبر تھے۔ ان سب کی ذاتی وجاہت کے علاوہ بھی یہ خاندان رامپور میں ممتاز حیثیت کا مالک تھا۔
آپؓ کو بھی 1947ء میں مجبوراً ہجرت کرنی پڑی تھی لیکن پھر 1948ء میں واپس قادیان اس نیت کے ساتھ آگئے کہ قادیان ہی میں ان کو موت نصیب ہو آپ کی وفات 19جولائی 1954ء کو ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کئے گئے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/BHxX1]

اپنا تبصرہ بھیجیں