حضرت مسیح موعودؑ پر سخت زبان استعمال کرنے کے بارے میں ایک اعتراض کا جواب

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ دسمبر 2011ء میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا ایک تحقیقی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں متین خالد نامی شخص کے اُس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تحریرات میں سخت زبانی سے کام لیا ہے جو ایک عام آدمی کو بھی زیب نہیں دیتا کجا یہ کہ ایک نبوت کا دعویدار ایسا کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ متین خالد نے قومی اسمبلی کی کارروائی کا بغور مطالعہ کیا ہوتا تو اس سوال کی نوبت ہی نہ آتی۔ 1974ء میں قومی اسمبلی میں جب یہی سوال کیا گیا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے یہ اصولی جواب دیا کہ قرآن کریم اور تاریخ انبیاء سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء کو حسب ضرورت دوسروں کے لیے ایسے سخت الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں جو فی الحقیقت گالی نہیں ہوتے بلکہ حالات اور موقع کے مطابق اللہ تعالیٰ سے مخالفین کے اندرونے کا علم پاکر کوئی مامور من اللہ کہے تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں۔
دراصل جب خدا کے فرستادوں کے معاندین اپنی اشد ترین ایذادہی اور زبان درازی سے باز نہیں آتے بلکہ انہیں منحوس، مجنون، جھوٹا، گمراہ،بے وقوف اور جادوگر کہتے ہیں (الاعراف:61 و 67۔ الشعراء:28 و 35) تو جواب میں ایسی ناشناس قوم کو قرآن کریم کے محاورے کے مطابق اندھی قوم یا بہرے گونگے اندھے کہنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ (البقرہ:19۔ الاعراف:180 و 65)
انبیاء کی طرف سے روحانی بیماروں کے حق میں سخت الفاظ کا استعمال دراصل طبیب کے مریض پر اُس کی بیماری کی نوعیت ظاہر کرنے کی طرح ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی روحانی بیماری کے علاج پر توجہ کریں۔ اور یہی سچی ہمدردی اور محبت کا تقاضا ہے۔ بلکہ ایسا نہ کرنا قوم سے دشمنی اور اسے ہلاکت کے سپرد کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت داؤدؑ نے اپنے مخالفین کو کتّے کہا (زبور 59/6)۔ حضرت مسیح ناصریؑ نے بھی اپنے مخالفین کو زناکار، سانپ اور سانپ کے بچے کہا۔ (متی 4/6، 12/34، 23/34)۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو گمراہ کہنے والے مکّے کے مکذبین کو اُن کے اخلاقِ سیئہ کے موافق کتّے، گدھے، ذلیل، بندر، سؤر، بدترین جانور، جانوروں سے بھی گمراہ تر قرار دیا ہے۔اسی طرح مخالفت میں پیش پیش مفسد شریروں کے لیے زنیم یعنی حرام زادہ تک کے برمحل الفاظ استعمال کیے ہیں۔ (المائدہ:61؛ البقرۃ:66، 160، 162؛ البینہ:7؛ الانبیاء:99؛ التوبہ:28؛ الانفال:23؛ القلم:11؛ الجمعۃ:6 اور الاعراف:177)
جب قرآن کریم میں کفّار کے بارہ میں مذکورہ آیات نازل ہوئیں تو ابوسفیان کی معیت میں سردارانِ قریش حضرت ابوطالب کے پاس آئے کہ اپنے بھتیجے کو ان گالیوں سے روکیں ورنہ اسے ہمارے سپرد کردیں۔ ابوطالب نے گھبراکر جب آنحضورﷺ کو یہ پیغام سنایا تو آپؐ نے فرمایا کہ یہ گالیاں نہیں بلکہ اظہارِ واقعہ ہے۔
پھر نبی کریم ﷺ نے اسی اسلوب پر بنوقریظہ (یہود قبیلہ) کے لیے ان کی نقالی اور دیگر بدعادات کے باعث اخوان القردۃ (بندروں کے بھائی) کے الفاظ استعمال کیے تو امّت محمدیہ کے آخری دَور کے بگڑ جانے والے علماء کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق قرار دیا۔
حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ بھی مامور من اللہ کا ہے۔ آپ ؑ فرماتے ہیں:
’’مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔ مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے جواب میں کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ … اوّل یہ کہ مخالف لوگ اپنے الفاظ کا سختی میں جواب پاکر اپنی روش بدلیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔ دوم یہ کہ مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پاکر اپنی پُرجوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھالیں کہ اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو اس طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا۔‘‘
(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد13 صفحہ 11)
نیز حضور علیہ السلام نے اپنے سخت کلام کے بارے میں فرمایا: ’’ہمارا یہ کلام شریر علماء سے متعلق ہے، نیک علماء اس سے مستثنیٰ ہیں‘‘۔ بے شک یہ وہی شریر علماء تھے جن کو آنحضورﷺ پہلے آسمان کے نیچے بدترین مخلوق قرار دے چکے تھے۔
اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے اپنے تین بزرگوں مولوی رشید گنگوہی صاحب، پیر مہر علی شاہ صاحب اور سعداللہ لدھیانوی کے نام لے کر پوچھا کہ مرزا صاحب نے ان کے لیے دجّال، شیطان، ملعون، گمراہ، مفسد، مکّار عورت کا بیٹا وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اس کے جواب میں فرمایا تھاکہ اللہ تعالیٰ سے مخالفین کے اندرونے کا علم پاکر کوئی مامور من اللہ کہے تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں۔
اسمبلی میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے آپؑ کو قبول نہ کرنے والوں کو

ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا

کہا ہے۔ اس محاورے کا من پسند ترجمہ (عربی محاورہ کے خلاف)مخالفین یہ کرتے ہیں کہ کنجریوں یا بدکاروں کی اولاد۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اسمبلی میں واضح فرمایا تھا کہ ہر لغت کی کتاب میں بغیٰ کے معنی نافرمان اور سرکش کے ہیں۔ جیسے شیعوں کی کتاب ’’فروع کافی‘‘ میں لکھا ہے کہ جو ہم سے بغض رکھتا ہے وہ نطفۂ شیطان ہے۔ لیکن کوئی بھی اس کے معنی ناجائز اولاد نہیں کرتا۔ اسی طرح ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا کے جو معنی ہماری لغت، ہمارے ائمہ اور ہمارا لٹریچر نہیں کرتا، کسی اَور کا وہ معنی کرکے اعتراض کرنا درست نہیں۔
اس پراٹارنی جنرل تو لاجواب ہوگئے لیکن مولوی مفتی محمود صاحب نے پوچھا کہ مَیں نے تو صرف یہ پوچھا ہے کہ قرآن کریم میں بغایا کے لفظ سے کیا مراد ہے؟ (گویا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اٹارنی جنرل کے سوال کے پیچھے کون تھا۔) حضورؒ نے جواباً فرمایا کہ قرآن کریم نے ابن بغایا کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا اور نہ ہی ابن بغایا کے عربی میں یہ معنی ہیں۔
لغت عربی میں بِغیٰ کے معنی بدکاری کے ہیں جبکہ بَغیٰ کے معنی سرکشی کے ہیں۔ حضرت امام محمد باقرؒ نے بھی بَغیٰ کے معنے سرکشی اور زیادتی اختیار کرنے والے کے کیے ہیں۔ (مستدرک)
ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایاکے غلط معنی کی تردید کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا کے محاورے کے ساتھ ہی اس کے معنی واضح کردیے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے مُہر کردی ہے۔ اور اس فقرے کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ جو مجھے قبول نہیں کرے گا وہ شریر لوگوں میں سے ہوگا اور سوائے چوہڑے چماروں کے سارے قبول کرلیں گے۔ اس فقرے میں مُسۡلِم یَقۡبَلُنِیۡ کے الفاظ بتارہے ہیں کہ اکثر مسلمان آپ کو قبول کرلیں گے، گو شدید مخالفت کرنے والے اور بدفطرت لوگ آپؑ کا انکار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔ پس ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا کے وہ معنی ہرگز نہیں ہوسکتے جو مخالفین کرتے ہیں۔
قرآن کریم نے حد سے بڑھے ہوئے مکذّبوں کو شرّالدواب، کالانعام بل ھم اضل، قردۃ خاسئین، خنزیر اور زنیم قرار دیا۔ زنیم کے معنی لغت میں فاحش، لئیم یعنی کمینہ اور حرام زادے کے بھی ہیں جو دراصل ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا کے محاورے کا ہی مترادف ہے۔
حضرت امام حسینؑ کی ایک صاحبزادی حضرت سکینہؓ نے اُن کی شہادت پر مرثیہ کہتے ہوئے ایک شعر میں قاتلین امام حسینؓ کو نسلِ بغایا قرار دیا۔ (الامام الحسینؑ)
دوسری صاحبزادی حضرت سیّدہ زینبؓ نے بھی قاتلین کے بارے میں اولادِ بغایا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ (بحارالانوار)
حضرت امام جعفر صادقؒ اور حضرت امام باقرؒ نے انبیاء کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اولادِ بغایا قرار دیا ہے۔ (العلل)
حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے قومی اسمبلی میں حضرت امام جعفر صادقؒ کا یہ قول بھی پڑھ کر سنایا کہ ’’جو شخص ہمارے ساتھ محبت کرتا ہے وہ تو اچھے آدمی کا نطفہ ہے اور جو ہم سے عداوت رکھتا ہے وہ نطفۂ شیطان ہے۔‘‘ (فروع کافی)
حضرت امام باقرؒ فرماتے ہیں: ’’خدا کی قسم ہماری جماعت (گروہ) کے سوا باقی تمام لوگ ذُرِّیَّۃُ الۡبَغَایا ہیں۔‘‘ (فروع کافی)
حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں: جو حضرت عائشہؓ پر زنا کی تہمت لگائے وہ حرام زادہ ہے۔ (کتاب الوصیت۔ مطبوعہ حیدرآباد)
مجلس احرار کا سرکاری آرگن اخبار مجاہد لاہور 4؍مارچ 1936ء فرع کافی کی مذکورہ بالا تحریر میں اولادِ بغایا کے لغوی معنی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ولدالبغایا، ابن الحرام، ولدالحرام اور ابن الحلال وغیرہ سب عربوں کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے۔ جو شخص نیکوکاری ترک کرکے بدکاری کی طرف جاتا ہے اس کو باوجودیکہ اس کا حسب و نسب درست ہو اپنے اعمال کی وجہ سے ابن الحرام اور ولدالحرام کہتے ہیں۔ اندریں حالات اپنے مخالفین کو امام علیہ السلام کا اولادالبغایا کہنا بجا اور درست ہے۔
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل نے حضرت مسیح موعودؑ کی عربی کتاب ’’نجم الہدیٰ‘‘ کے ایک شعر پر اعتراض کیا کہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی قوم کے خاص لوگوں کو جو آپؑ کی دعوت قبول نہیں کرتے اور کذّاب قرار دیتے ہیں، انہیں عیسائیوں کے ساتھ شمار کیا اور اُنہیں بیابانوں کے خنزیر اور اُن کی عورتوں کو کتّیوں سے بڑھ کر قرار دیا۔حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے واضح فرمایا کہ اس عربی شعر میں پادری اور اُن کی وہ عورتیں مراد ہیں جو مسلمانوں کے گھروں میں جاکر اُن کو مُرتد کرنے کی کوششیں کرتی تھیں۔ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے خلاف بدزبانی کرتے اور اسلام پر حملہ آور ہوتے تھے۔ رسالہ ’’نجم الہدیٰ‘‘ کے مخاطب مسلمان نہیں نصاریٰ تھے۔ خنزیر سے مراد اُس شعر میں دشمنانِ اسلام ہیں کیونکہ اگلے ہی شعر میں اسی حوالے سے حضورؑ فرماتے ہیں کہ ’’انہوں نے گالیاں دیں اور ہم نہیں جانتے کہ کیوں دیں۔ کیا ہم اس محبت میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کریں یا اس سے کنارہ کریں۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے میں لاکھوں عیسائی مرد اور عورتیں اسلام کو بُرابھلا کہنے اور گالیاں دینے میں مصروف تھے اور مذکورہ اشعار میں ایسے ہی لوگ مخاطب ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/HZHG2]

اپنا تبصرہ بھیجیں