حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی پاکیزہ زندگی

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف مواقع پر سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات طیبہ کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے ہیں۔ اس حوالہ سے مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب کا مرتب کردہ ایک مضمون ماہنامہ ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان مارچ 2011ء میں شامل اشاعت ہے جس میں سے انتخاب ذیل میں ہدیۂ قارئین ہے۔
قبل ازیں اسی موضوع کے تحت ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ کے درج ذیل شماروں کے کالم ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘ میں بھی مواد شامل اشاعت کیا جاچکا ہے: 19؍مارچ 2004ء، 2؍جولائی 2004ء، 4؍فروری 2005ء، 11؍فروری 2005ء، 4؍نومبر 2005ء، 30؍اگست 2013ء اور 18؍نومبر 2016ء۔
کمزوری کا زمانہ
جب حضرت مسیح موعود ؑ نے دعویٰ کیا اس وقت آپ کی اور آپؑ کے ماننے والوں کی حالت بظاہر بہت کمزور تھی۔ میری پیدائش دعویٰ سے پہلے کی ہے اور گو میں نے ابتدا نہیں دیکھی مگر ابتدا کے قریب کا زمانہ دیکھا ہے۔ وہ زمانہ بھی کمزوری کا زمانہ تھا۔ طرح طرح سے مولوی لوگوں کو جوش دلاتے تھے اور ہر ممکن طریق سے دکھ اور تکالیف پہنچاتے تھے۔
مخالفت اور جماعت
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام سے میں نے کئی دفعہ سنا ہے کہ لوگ گالیاں دیتے ہیں تب برا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور اگر گالیاں نہ دیں تب بھی ہمیں تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مخالفت کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہوتی۔ پس ہمیں تو گالیوں میں بھی مزا آتا ہے اس لیے اعتراضات یا لوگوں کی بدزبانی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔
مخالفوں سے احسان کا سلوک
ایک دفعہ ایک افسر نے حضرت مسیح موعودؑ سے ایک معاملہ میں کہا کہ یہ (قادیان کے غیرمسلم) لوگ آپ کے شہری ہیں۔ آپ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں۔ تو حضرت صاحب نے فرمایا: اس بڈھے شاہ ہی کو پوچھو کہ آیا کوئی ایک موقع بھی ایسا آیا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے نیش زنی نہ کی ہو اور پھر کیا کوئی ایک موقع بھی ایسا آیا ہے کہ جس میں مَیں احسان کر سکتا تھا اور پھرمَیں نے اس کے ساتھ احسان نہ کیا ہو۔ آگے وہ سرڈال کر ہی بیٹھا رہا۔ یہ ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپؑ کے اخلاق کا۔پس ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ وہ اخلاق میں ایک نمونہ ہو۔ معاملات کی آ پ میں ایسی صفائی ہو کہ اگر ایک پیسہ بھی گھر میں نہ ہو تو امانت میں ہاتھ نہ ڈالیں اور بات اتنی میٹھی اور ایسی محبت سے کریںکہ جو دوسرے کے دل پر اثر کرے۔
تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے
محنت دینی یا محنت دنیوی کے بغیر کوئی انسان عزت حاصل نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے زمانہ میں تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ اب عزت پانے والے یا ہمارے مرید ہوںگے یا ہمارے مخالف ہوںگے۔ چنانچہ فرماتے تھے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دیکھ لو وہ کوئی بڑے مولوی نہیں ان جیسے ہزاروں مولوی پنجاب اور ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کو اگر اعزاز حاصل ہے تو محض ہماری مخالفت کی وجہ سے۔ وہ لوگ خواہ اس امر کا اقرار کریں یا نہ کریں۔
مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا دعویٰ
مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے جوانی کے دوست تھے اور جو ہمیشہ آپ کے مضامین کی تعریف کیا کرتے تھے انہوں نے اس دعویٰ کے معاً بعد یہ اعلان کیا کہ میں نے ہی اس شخص کو اٹھایا تھا اور اب مَیں ہی اسے تباہ کر دوں گا۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کے اپنے رشتہ داروں نے اعلان کر دیا بلکہ بعض اخبارات میں یہ اعلان چھپوا بھی دیا کہ اس شخص نے دوکانداری چلائی ہے اس کی طرف کسی کو توجہ نہیں کرنی چاہیے۔ پھر یہ میرے ہوش کی بات ہے کہ بہت سے کام کرنے والے لوگوں نے جو زمیندارہ انتظام میںکمیں کہلاتے ہیں آپؑ کے گھر کے کاموں سے انکار کر دیا۔ اس کے محرک دراصل ہمارے رشتہ دار ہی تھے۔ غرض اپنوں اور بیگانوں نے مل کر آپؑ کو مٹانا اور آپ کو تباہ اور برباد کردینا چاہا۔
جماعت سے تعلق رکھنے والوں پر علوم کی راہیں کھلتی ہیں
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ہماری جماعت سے تعلق رکھنے والوں پر دینی اور دنیوی علوم کی راہیں کھلتی ہیں اور ایسی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیںجو بڑے بڑے عالموں کو نہیں سوجھتی۔ ہمارے ہاں ایک ملازم پہاڑ کا رہنے والا تھا۔ اُسے گنٹھیا کی بیماری ہو گئی تو اُس کے رشتہ داروں نے اسے گھر سے نکال دیا کہ تُو کماتا کچھ نہیں اس لیے ہم تیرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ کسی نے اُسے بتایا کہ قادیان کے مرزا صاحب بھی علاج کرتے ہیں وہاں جائو۔ یہ سن کر وہ قادیان میں آگیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔ پھر وہ آپؑ کے پاس ہی رہ پڑا۔ اس کے رشتہ دار اسے لینے کے لیے بھی آئے مگر اُس نے جانے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنی دماغی کیفیت کی وجہ سے دین سے اس قدر ناواقف تھا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے اُس سے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے؟ تو اس نے کہا مجھے تو پتا نہیں ہمارے پنچوں کو معلوم ہوگا،ان کو آپ لکھیں وہ بتا دیں گے۔ حضرت خلیفہ اوّل نے اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا اور چونکہ بہت معمولی سمجھ کا آدمی تھا اس لیے نماز کاشوق دلانے کے لیے اسے کہا اگر تم پانچ وقت کی نمازیں پڑھ لو تو دو روپے دوں گا۔ اس نے کہا مَیں نماز میں کیا پڑھوں؟ آپ نے بتایا تم

سُبۡحَانَ اللّٰہ، سُبۡحَانَ اللّٰہ

کہتے رہنا۔ وہ مغرب کی نماز کے لیے کھڑا ہوا تو اندر سے کسی خادمہ نے اسے آواز دی کہ کھانا لے جائو۔ ایک دو آوازوں پر تو چُپ رہا پھر کہنے لگا:ذرا ٹھہرو نماز پڑھ لوں تو آتا ہوں۔ یہ تو اُس کی حالت تھی۔ اس زمانہ میں احمدیت کی مخالفت ہوتی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سٹیشن پر جا کر لوگوں کو قادیان جانے سے روکا کرتے تھے۔ کبھی کبھی حضرت صاحب کی تار لے کر یا کسی اَور کام کے لیے وہ نوکر پیرابھی اسٹیشن پر جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب نے اسے کہا تُو کیوں وہاں بیٹھا ہے یہاں چلا آ۔ جب مولوی صاحب نے اسے بہت تنگ کیا تو اُس نے کہا مَیں اَور تو کچھ جانتا نہیں مگر اتنا پتہ ہے کہ مرزا صاحب یہاں سے گیارہ میل دُور بیٹھے ہیں اُن کے پاس تو لوگ جاتے ہیں اور تمہارے روکنے کے باوجود جاتے ہیں مگر تم یہاں روز اکیلے ہی آتے ہو اور اکیلے ہی چلے جاتے ہو۔ کوئی تو بات ہے کہ مرزا صاحب کے پاس لوگ آتے ہیں۔
مسیح موعودؑ کا ماضی
ہم حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو آپؑ نے یہاں کے ہندوئوں، سکھوں اور مسلمانوں کو بار بار اعلان فرمایا کہ کیا تم میری پہلی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہو مگر کسی کو جرأت نہ ہوئی بلکہ آپؑ کی پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی جو بعد میں سخت ترین مخالف ہوگیا، اُس نے اپنے رسالہ میں آپؑ کی زندگی کی پاکیزگی اور بے عیب ہونے کی گواہی دی اور مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اپنے اخبار میں آپ کی ابتدائی زندگی کے متعلق گواہی دی کہ بہت پاکباز تھے۔ پس جو شخص چالیس سال تک بے عیب رہا اور اس کی زندگی پاکباز رہی وہ کس طرح راتوں رات کچھ کا کچھ ہو گیا اور بگڑ گیا۔ علمائے نفس نے مانا ہے کہ ہر عیب اور اخلاقی نقص آہستہ آہستہ پیدا ہوا کرتا ہے ایک دَم کوئی تغیر اخلاقی نہیں ہوتا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ کا حال
آپؑ کو طرح طرح سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ لوگ مارنے پر متعین ہوئے جن کا علم ہو گیا اور وہ اپنے ارادے میں ناکام ہوئے۔ مقدمے آپ پر جھوٹے اقدام قتل کے بنائے گئے۔ چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا بنایا اور ایک شخص نے کہہ بھی دیا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب نے متعین کیا تھا۔ مجسٹریٹ وہ جو اس دعویٰ کے ساتھ آیا تھا کہ اس مدعی مہدویت و مسیحیت کو اب تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں میں پکڑوں گا مگر پھر وہی مجسٹریٹ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ جھوٹا مقدمہ ہے۔ باربار اس نے یہی کہا اور آخراُس شخص کو عیسائیوں سے علیحدہ کرکے پولیس افسر کے ماتحت رکھا گیا اور وہ شخص رو پڑا اور اس نے بتا دیا کہ مجھے عیسائیوں نے سکھایا تھا اور خدا نے اس جھوٹے الزام کا قلع قمع کر دیا۔
اسی طرح ہماری جماعت کے پُر جوش مبلغ مولوی عمرالدین صاحب شملوی اپنا واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ وہ بھی اسی معیار کو پرکھ کر احمدی ہوئے ہیں۔ وہ سناتے ہیں کہ شملہ میں مولوی محمد حسین اور مولوی عبدالرحمٰن سیاح اور چند اور آدمی مشورہ کر رہے تھے کہ اب مرزا صاحب کے مقابلہ میں کیا طریق اختیار کرنا چاہیے۔ مولوی عبدالرحمٰن صاحب نے کہا کہ مرز اصاحب اعلان کر چکے ہیں کہ میں اب مباحثہ نہیں کروں گا ہم اشتہار مباحثہ دیتے ہیں اگر وہ مقابلہ پر کھڑے ہو جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ انہوں نے جھوٹ بولا کہ پہلے تو اشتہار دیا تھا کہ ہم مباحثہ کسی سے نہ کریں گے اور اب مباحثہ کے لیے تیار ہو گئے اور اگر مباحثہ پر آمادہ نہ ہوئے تو ہم شور مچا دیں گے کہ دیکھو مرزا صاحب ہار گئے ہیں۔ اس پر مولوی عمرالدین نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں اور جا کر ان کو قتل کر دیتا ہوں۔ مولوی محمدحسین نے کہا کہ لڑکے تجھے کیا معلوم یہ سب کچھ کیا جا چکا ہے۔ مولوی عمرالدین صاحب کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جس کی خدا اتنی حفاظت کر رہا ہے وہ خداہی کی طرف سے ہو گا۔ انہوں نے جب بیعت کر لی تو واپس جاتے ہوئے مولوی محمد حسین بٹالہ کے سٹیشن پر ملے اور کہا تُو کدھر؟ انہوں نے کہا کہ قادیان بیعت کرکے آیا ہوں۔ کہا تُو بہت شریر ہے تیرے باپ کو لکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب یہ تو آپ ہی کے ذریعہ ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے۔
مخالفین کا بائیکاٹ اور ایذاء رسانی
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کا بائیکاٹ بھی ہم نے دیکھا۔ وہ وقت بھی دیکھا جب چوڑھوں کو صفائی کرنے اور سقوں کو پانی بھرنے سے روکا جاتا۔ پھر وہ وقت بھی دیکھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کہیں باہر تشریف لے جاتے تو آپ پر مخالفین کی طرف سے پتھر پھینکے جاتے اور وہ ہر رنگ میں ہنسی اور استہزاء سے پیش آتے۔ مگر ان تمام مخالفتوں کے باوجود کیا ہوا، آپ جتنے لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، آپ میں سے پچانوے فیصدی وہ ہیں جو اس وقت مخالف تھے یا مخالفوں میں شامل تھے مگر اب وہی پچانوے فیصدی خداتعالیٰ کے فضل سے ہمارے ساتھ شامل ہیں۔ پھر حضرت خلیفہ اوّل کی وفات کے بعد جماعت میں جو شور اٹھا اس کا کیا حشر ہوا۔ اس فتنہ کے سرکردہ وہ لوگ تھے جو صدرانجمن پر حاوی تھے اور تحقیر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک بچہ کی غلامی کرلیں۔ خداتعالیٰ نے اسی بچے کا ان پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ قادیان چھوڑ کے بھاگ گئے اور اب تک یہاں آنے کا نام نہیں لیتے۔ انہیں لوگوں نے اس وقت بڑے غرور سے کہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہمارے ساتھ ہے اور دو فیصدی ان کے ساتھ۔ مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو فیصدی بھی ان کے ساتھ نہیں رہا اور اٹھانوے فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔
قادیان کی ترقی کی پیشگوئی
ایک زمانہ تھا کہ یہاں احمدیوں کو مسجدوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا۔ مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ چوک میں کیلے گاڑ دیے گئے تا نماز پڑھنے کے لیے جانے والے گریں اور کنوئیں سے پانی نہیںبھرنے دیا جاتا تھا بلکہ یہاں تک سختی کی جاتی تھی کہ گھماروں کو ممانعت کردی گئی تھی کہ احمدیوں کو برتن بھی نہ دیں۔ ایک زمانہ میں یہ ساری مشکلات تھیں مگر اب وہ لوگ کہاں ہیں!۔ ان کی اولادیں احمدی ہو گئی ہیں اور وہی لوگ جنہوں نے احمدیت کو مٹانے کی کوشش کی ان کی اولاد اسے پھیلانے میں مصروف ہے۔ یہی مدرسہ جس جگہ واقع ہے یہاں پرانی روایات کے مطابق جنّ رہا کرتے تھے اور کوئی شخص دوپہر کے وقت بھی اس راستہ سے اکیلا نہ گزر سکتا تھا۔ اب دیکھو۔ وہ جنّ کس طرح بھاگے۔ مجھے یاد ہے۔ اس (ہائی سکول والے) میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہؤا ہے اور شمال کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔ اس وقت یہاں صرف آٹھ دس گھر احمدیوں کے تھے اور وہ بھی تنگدست۔ باقی سب بطور مہمان آتے تھے لیکن اب دیکھو خداتعالیٰ نے کس قدر ترقی اسے دی ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/9q4Uq]

اپنا تبصرہ بھیجیں