جنرل اختر حسین ملک (ہلال جرات) کو کمانڈ سے ہٹانے کا واقعہ

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/pljBf]

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍اگست 2012ء میں ایک مضمون (مرتبہ: پروفیسر راجا نصراللہ خان صاحب) شامل اشاعت ہے جس میں ’فاتح چھمب‘ جنرل اخترحسین ملک کو کمان سے ہٹانے کے واقعہ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
٭ پاکستان کے سینئر صحافی جناب شریف فاروق اپنی کتاب ’’پاکستان میدان جنگ میں‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ یکم ستمبر 1965ء کو شیر دل جرنیل اختر حسین ملک کی سرکردگی میں پاک فوج کے جوانوں نے مقبوضہ کشمیرکے علاقہ چھمب میں حیرت انگیز کارروائی شروع کی۔ چھمب پر قبضہ کرکے کسی مقابلہ کے بغیر دریائے توی عبور کر لیا۔ اس کے بعد فوج برق رفتاری سے بھارت کے مضبوط گڑھ جوڑیاں کی طرف بڑھنے لگی۔ چھمب سیکٹر میں پاکستان کے حملہ کو فوجی زبان میں Grand Slam کا نام دیا گیا۔ چھمب گزشتہ 17سال سے بھارت کا بہت بڑا گڑھ تھا۔ یہاں انہوں نے اتنی بھاری تعداد میں خوراک، اسلحہ اور گولہ بارود ذخیرہ کر رکھا تھا کہ اگر وہ یہاں سالوں تک لڑنا چاہتے تو کافی ہوتا لیکن پاکستان کی جواں ہمت فوجوں کے ایک ہی ہلّہ نے ان کے قدم اکھاڑ دئیے۔
٭ کالم نویس اور فوجی تجزیہ نگار کرنل (ر) اکرام اللہ نے اپنے کالم ’’قندیل‘‘ میں تحریر کیا کہ بھارت نے ریاست کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے 1964ء کے وسط میں آزاد کشمیر کے چاروں سیکٹرز میں وسیع گوریلا آپریشن کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر دراندازی کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس پر جنرل اختر ملک نے کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے مشورہ سے جوابی کارروائی (Counter Infiltration) کا منصوبہ بنایا جسے آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا اور صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس منصوبہ کی منظوری بھی دیدی۔ اسی منصوبہ کے آخری حصہ کا نام آپریشن Grand Slam رکھا گیا جس کا مقصد چھمب جوڑیاں کے علاقہ میں کارروائی کرکے اکھنور پر قبضہ کرنا تھا۔
٭ بریگیڈئر (ر) شوکت قادر لکھتے ہیں کہ: میجر جنرل اخترملک ایک دلیر اور جری کمانڈر تھے جو دبائو میں بھی گھبراتے نہیں تھے اور پُرسکون رہتے تھے اور نہ صرف افسروں میں بلکہ اپنے جوانوں میں بھی اعتماد کی جوت جگا دیتے تھے جس سے حوصلے کہیں بلند ہو جاتے۔ آپریشن (Grand Slam) یکم ستمبر کو صبح سویرے پانچ بجے شروع ہونا تھا۔ یہ منصوبہ بندی کے مطابق شروع ہوا۔ چھمب مقررہ وقت کے اندر سرنگوں ہو گیا اور صبح سات بجے کے قریب ہماری افواج نے دریائے توی کو عبور کرنا شروع کردیا۔ آگے کی جنگی کارروائی تیزی سے جاری رہی اور بعد دوپہر ایک بجے تک افواج نے اپنی نفری اور پوزیشن مستحکم کر لی اور اب وہ اپنے مربوط خطوں میں داخل ہونے کے لئے تیار کھڑی تھیں اور روشنی ختم ہونے سے کافی وقت پہلے اکھنور پر حملے کا آغاز کیا جا سکتا تھا۔ بہرحال اکھنور تک پہنچنا ہماری قسمت میں نہ تھا (کیونکہ کمانڈر اختر ملک اور ان کے لشکر کو جاری کارروائی کے درمیان میں روک دیا گیا۔)
٭ صحافی راحیلہ عبشائی اپنے مضمون (مطبوعہ روزنامہ ’جناح‘ 2؍ اکتوبر 2010ء) میں رقمطراز ہیں کہ: جب پاکستان نے 1965ء میں چھمب جوڑیاں پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا تب ہندوستانی افواج کے مورال گر چکے تھے اور وہ بدحواسی میں پسپا ہو رہی تھیں۔ اُس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ اکھنور پر قبضہ کرلیا جاتا اور یہ تقریباً ہو چکا تھا کیونکہ جنرل اختر حسین نے اپنی اعلیٰ جنگی مہارت اور فوج کی بے مثال قربانی سے کامیابی حاصل کرلی تھی۔ مگر صدر ایوب نے جنرل اختر حسین ملک کو وہاں سے ہٹا دیا۔ یہ ایک بہت بڑی سیاسی و جنگی غلطی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل ایوب، اختر ملک کو ذاتی طور پر پسند نہ کرتے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھ کر انہیں ہیرو بنا دیا جائے۔ ان کو یہ پوزیشن جنرل یحییٰ خان کو دینی تھی۔ اس چکر میں ہندوستانی افواج کو وقت مل گیا اور وہ سنبھل گئے۔ پاکستانی افواج و کشمیری مجاہدین پر اس اچانک تبدیلی کا اثر پڑا۔ علاوہ ازیں جنرل یحییٰ خان عیاش طبع تھے اور وہ میدان جنگ میں36 گھنٹے بعد پہنچے جبکہ حالتِ جنگ میں ایک ایک منٹ قیمتی ترین ہوتا ہے۔
٭ جنگ ستمبر 1965ء کے حوالہ سے ادارہ نوائے وقت کی ایک مجلس مذاکرہ میں میجر جنرل محمد شفیق نے چھمب جوڑیاں آپریشن کا تجزیہ یوں کیا کہ: پاکستانی افواج کا ہدف اکھنور پر قبضہ کرنا تھا جس کے لئے فوجی دستہ کی کمان جنرل اختر حسین ملک کر رہے تھے۔ یہ حملہ اتنا اچانک کیا گیا کہ ہندوستانی افواج اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ نکلیں اور اکھنور پر قبضہ کے امکانات روشن ہوگئے۔ اگر اکھنور پر پاکستانی افواج کا قبضہ ہو جاتا تو ہندوستان (اپنی جنگی حکمت کے لحاظ سے) جنگ ہار چکا تھا۔ نہ وہ سیالکوٹ پر اپنی یلغار کو عملی جامہ پہنا سکتا اور نہ کشمیر میں اپنے آپ کو اس قابل بنا سکتا کہ اپنا قبضہ جاری رکھ سکے۔ یہ ایک ایسا موقع تھاجس کو اپنی نااہلی سے گنوادیا گیا۔ ہوا یہ کہ جب جنرل اختر ملک کامیابی سے پیش قدمی کر رہے تھے اُس وقت ان کو کمان سے ہٹا دیا گیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ کمان سے سبکدوش کرنا تو ہوتا رہتا ہے جس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں لیکن ایک ملٹری آپریشن جو کامیابی سے ترقی کر رہا ہو اس کے دوران کمانڈر کو ہٹانا درست نہیں ہوتا۔ جو تحقیق میںنے کی ہے، میری ناقص رائے میں یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک شدید تر غلطی تھی جس کی تفتیش ہونی چاہئے تھی اور جو لوگ اس غلطی میں ملوث تھے ان کو سزا ملنی چاہئے تھی۔ جب اس آپریشن کے دوران کمان بدلی تو اس کی پہلے تیاری نہیں کی گئی تھی۔ اس وجہ سے نئے کمانڈر جنرل یحییٰ خان کے آپریشن میں تین دن کی تاخیر ہو گئی۔ تین دن کی تاخیر ہندوستانی فوج کے لئے ایک آسمانی تحفہ ثابت ہوا۔ وہ Panic سے سنبھل گئے اور دوبارہ دفاع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ چنانچہ جنرل یحییٰ خان اکھنور نہ پہنچ سکے۔
٭ کتاب “History of Indo Pak War ’’1965 کے مصنف جنرل محمود نے اپنی کتاب میں جنرل اختر حسین ملک کا ایک تاریخی نوعیت کا خط اس نوٹ کے ساتھ شائع کیا ہے کہ: یہ خط جنرل اختر ملک نے اپنے چھوٹے بھائی جنرل عبدالعلی ملک کو تحریر کیا تھا جو اُن کی وفات کے بعد اُن کے کاغذات میں سے جنرل اختر حسین ملک کے بڑے صاحبزادے میجر (ر) سعید اختر ملک کو ملا تھا‘‘۔
انقرہ کے پاکستانی سفارتخانہ سے 22نومبر 1967ء کو لکھے جانے والے اس خط کا خلاصہ درج ذیل ہے:
میرے پیارے بھائی!
آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہیں:
a۔’’چھمب کے سرنگوں ہونے کے بعد آپریشن کے پہلے روز ہی عملی طور پر کمانڈ تبدیل ہو گئی تھی جب عظمت حیات نے میرے ساتھ وائرلیس کا رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ میں نے بذات خود ہیلی کاپٹر کے ذریعہ اس کا ہیڈکوارٹر تلاش کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا۔ سہ پہر کو میں نے اپنے M.P آفیسرز گلزار اور واحد کو بھیجا کہ وہ کوششیں کرکے اُس کا کھوج لگائیں۔ لیکن وہ بھی ناکام لَوٹے۔ اگلے روز مَیں نے اسے جا لیا۔ اور اُس نے سہمے اور گھبرائے ہوئے انداز میں مجھے مطلع کیا کہ وہ یحییٰ کا بریگیڈیر ہے اور گزشتہ روز جنرل یحییٰ نے اُس کو ہدایت دی تھی کہ وہ مجھ سے مزید کوئی احکامات نہ لے۔ حالانکہ ابھی کمانڈ میں باضابطہ تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے یہ بہت بڑی غدّاری تھی۔
b۔ مَیں نے باقاعدہ بحث کی اور پھر یحییٰ سے درخواست کی کہ اگر وہ کامیابی کی تحسین و تکریم چاہتا ہے تووہ مجموعی طور پر کمانڈ سنبھال لے لیکن مجھے اپنے نائب کے طور پر اکھنورجانے دے لیکن اُس نے انکار کر دیا۔ اُس نے اس سے بڑھ کر یہ کیا کہ پورا پلان ہی تبدیل کر دیا۔ وہ اپنا سر قصبہ Troti سے ٹکراتا رہا اور ہندوستانیوں کو اکھنور واپس لَوٹ آنے کا موقع فراہم کر دیا۔ ہم جنگ کے پہلے روز ہی سبقت کھو بیٹھے اور اس کو دوبارہ کبھی حاصل نہ کر پائے۔ بالآخر چونڈہ میں مرنے مارنے پر ڈَٹ جانے کی کارروائی نے ہندوستانیوں کو صفیں چیر کر اندر گھس آنے سے باز رکھا۔
c۔ ایوب، موسیٰ یا یحییٰ نے کبھی بھی مجھے کمانڈ سے ہٹائے جانے کی وجہ نہیں بتائی۔ زیادہ سے زیادہ وہ سب شرمندہ نظر آتے تھے۔
d۔ جبرالٹر آپریشن شروع کرنے سے پہلے پاکستان کے طرفدار کشمیریوں کو آگاہ نہ کرنا کمانڈ کا فیصلہ تھا اور یہ فیصلہ میرا تھا۔ اس آپریشن کا مقصد مسئلہ کشمیر کو سرد خانہ سے نکالنا اور اسے دنیا کے نوٹس میں لانا تھا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے آپریشن کا پہلا مرحلہ بے حد ضروری تھا یعنی سیز فائر لائن کے اس طرف ہزاروں کی غیر منکشف دراندازی کو عملاً کامیاب بنانا۔ میں کسی بھی حالت میں پاکستان کے طرفدار کشمیریوں کو آگاہ کرنے پر تیار نہ تھا۔ کیونکہ ایک بھی ڈبل ایجنٹ کے باعث یہ سارا آپریشن کارروائی سے پہلے ہی اپنی موت آپ مر جاتا ۔
e۔ حاجی پیر میرے لئے زیادہ فکرمندی کا باعث نہیں بنا۔ جلد بعد Grand Slam آپریشن کی وجہ سے ہندوستانیوں کا حاجی پیر میں جمع ہو جانا ہمارے لئے مدد گار ثابت ہوتا کیونکہ ان کو وہاں سے اپنے دستے باہر نکالنا پڑتے اور اس طرح وہ ہماری کارروائی کے حاصل کردہ فوائد بڑھا کر ہمارے حوالے کرتے۔ درحقیقت یہ اکھنور کے سقوط کے بعد ہی ہونا تھا کہ ہم آپریشن جبرالٹر کی پوری پوری قیمت وصول کر پاتے مگر ایسا نہ ہو سکا!۔
f۔ ذوالفقار علی بھٹو اس بات پر زور دیتے رہے کہ ان کے ذرائع نے انہیں یقین دہا نی کرائی ہے کہ اگر ہم بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی نہ کریں تو بھارت حملہ نہیں کرے گا۔ مجھے بہرحال یقین تھا کہ آپریشن جبرالٹر سے جنگ چھڑ جائے گی اور میں نے یہ بات GHQ کو بتا دی تھی۔ مجھے اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے کسی آپریشن انٹیلی جنس کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ تو محض کامن سینس کی بات تھی۔ اگر میں آپ کا گلا پکڑوں تو یہ امید کرنا میری حماقت ہو گی کہ اس کے بدلہ میں آپ مجھے پیار کرنے لگیں گے۔ چونکہ مجھے یقین تھا کہ جنگ ضرورہو گی اس لئے گرینڈسلام کے لئے میرا پہلا انتخاب جموں کا ہدف تھا۔ وہاں سے ہم اپنی کامیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صورت حال کے مطابق سامباؔ کی طرف پیش قدمی کرتے یا خاص کشمیر کی جانب۔ بہرصورت چاہے یہ جموں ہوتا یا اکھنور، اگر ہم اپنا ہدف حاصل کر لیتے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہندوستانیوں کو سیالکوٹ پر حملہ کرنے کی ہمت ہوتی۔
g۔ میںنے ایک کتاب لکھنے پر سنجیدگی سے غور کیا تھا لیکن اب اس خیال کو ترک کر دیا ہے۔ کیونکہ وہ کتاب حقیقت کو آشکار کرتی اور اس کے متعلق ہردلعزیز ردّعمل میری خودی کو خوش کرتا۔ لیکن آخرکار یہ حبّ الوطنی کے منافی عمل ہوتا۔ یہ فوج کے حوصلہ کو تباہ کر دیتا اور لوگوں میں اس کی عظمت کو کم کر دیتا۔ یہ کتاب پاکستان میں ممنوع قرار پاتی اور بھارتیوں کے لئے نصابی کتاب بن جاتی۔ مجھے اس بات پر کوئی شک نہیں کہ بھارتی، جنگ کی سبکی کی وجہ سے، ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے اور اوّلین موقع پر اس کا بدلہ لیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں ہمیں ضرب لگائیں گے اور ہمیں اس صورتحال کے بچاؤ کے لئے اپنے تمام ذرائع استعمال کرنے ہوں گے… اور ہاں ایوب اس مہم میں پوری طرح شامل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انہی کے فکر کا نتیجہ تھا اور انہوں نے ہی مجھے حکم دیا تھا کہ جب جبرالٹر وغیرہ مہمات کی منصوبہ بندی ہو رہی ہو تو مَیں موسیٰ کو نظر انداز کر دوں۔ مَیں کمانڈر انچیف موسیٰ خان کی نسبت ایوب خان اور شیر بہادر کے ساتھ زیادہ رابطے میں تھا۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اچھا فوجی ذہن رکھنے کے باوجود ایوب خان کا دل کمزوری کی طرف مائل تھا۔ اور المیہ یہ ہے کہ نازک صورتحال پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کا دل ڈوبنے لگا تھا…۔
…………

پرنٹ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں