جناب سلیم شاہجہانپوری صاحب اور ان کا ادبی کام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18جولائی 2008ء میں مکرم انور ندیم علوی صاحب نے کہنہ مشق ادیب و شاعر جناب سلیم شاہجہانپوری (1911ء-2007ء) کی دو درجن کتب میں سے چند ایک کا تعارف اختصار سے پیش کیا ہے۔
سلیم شاہجہانپوری صاحب کے والد محترم کی وفات کے بعد حضرت علامہ مختار شاہجہانپوری صاحبؓ نے کمسن سلیم کو اپنی کفالت میں لے لیا اور ان کی تعلیم و تربیت کا ایسا بندوبست کیا کہ آپ آسمان شعر و ادب پر درخشندہ ستارہ بن کر چمکے۔ آپ صرف ادیب و شاعر ہی نہ تھے۔ بلکہ متبحر عالم اور شعلہ نوا مقرر بھی تھے۔
جناب سلیم شاہجہانپوری کے استاد حضرت حافظ مختار شاہجہانپوری صاحبؓ امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ منشی امیر احمد مینائی 1828ء میں مولوی کرم محمد مینائی کے گھر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ حضرت مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تعلق کی بنیاد پر مینائی کہلائے۔ عربی و فارسی میں دستگاہ کامل رکھتے تھے۔ بڑے منکسرالمزاج، صاحب زہد و تقویٰ اور صوفی مشرب بزرگ تھے۔ آپ نے نثر اور نظم میں بہت کچھ لکھا۔ نعتیہ شاعری میں آپ کا ایک خاص مقام ہے۔
’’نوائے درد‘‘
جناب سلیم شاہجہانپوری کی مختلف موضوعات پر نظموں کا یہ شعری مجموعہ 1995ء میں شائع ہوا اور 170 صفحات پر مشتمل ہے۔ ’’تضمین‘‘ کا ایک بند:

جفا و ظلم کو حد سے گزار دو گے اگر
گل وفا کے عوض نوک خار دو گے اگر
یہ بوجھ سر سے تم اپنے اتار دو گے اگر
بتاؤ تم مجھے کافر قرار دو گے اگر
تو چھین لو گے مرے دل سے آرزوئے رسولؐ؟

نظم: ’’اب تو چلے بھی آؤ جی‘‘ کے دو شعر ؎

برسیں بیتیں دیس کو چھوڑے اب تو گھر لوٹ آؤ جی
بے کل ہیں، بے چین ہیں سارے اب نہ بہت تڑپاؤ جی
سانس کی ڈوری ٹوٹ نہ جائے، اِسکا بھروسہ کچھ بھی نہیں
اور بھی کتنی راہ تکیں ہم، کچھ تو ہمیں بتلاؤ جی

’’شکست یاس‘‘
268 صفحات پر مشتمل غزلوں کا یہ مجموعہ 1996ء میں شائع ہوا۔ اس کا پہلا شعر یوں ہے۔ ؎

جھونکے ہوائے یاس کے آئے گزر گئے
امید کا چراغ مگر گل نہ ہو سکا

اس مجموعہ میں شامل غزلوں سے چند اشعار۔ ؎

تیرے پاس آتے ہیں یوں تشنۂ دیدار ترے
تشنہ لب جیسے کوئی نزد لبِ جُو آئے
…………
ہم نے ہر راہ میں آنکھوں کو بچھا رکھا ہے
نہیں معلوم ہے کہ وہ شوخ کدھر سے گزرے
…………
دونوں سے مزین تھی کتابِ غم دوراں
وہ متن ، تو میں اس کے حوالوں کی طرح تھا

’’کرب احساس‘‘
144 صفحات پر مشتمل یہ شعری مجموعہ 1999ء میں شائع ہوا۔ اس میں شامل نظم ’’نہیں لکھ سکتا‘‘ کے دو شعر دیکھئے: ؎

میں نہیں حاشیہ بردار ، نہیں لکھ سکتا
آپ کو صاحب کردار نہیں لکھ سکتا
دشت پُرخار کو گلزار نہیں لکھ سکتا
دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں لکھ سکتا

’’واسوخت‘‘
حضرت مختار شاہجہانپوریؓ نے ابتدائے عمر میں ایک ’’واسوخت‘‘ لکھا جس کی بہت شہرت ہوئی اور داغ دہلوی نے آپؓ کے نام اپنے خط میں ایک تاریخی قطعہ رقم فرمایا اور یہ بھی لکھا کہ ’’میں آپ کو اس نومشقی میں ایک کہنہ مشق شاعر ہونے کی داد دیتا ہوں‘‘۔ جناب سلیم شاہجہانپوری نے واسوخت کے اوراق کو جمع کیا اور 2004ء میں کتابی شکل دے کر شاعری کی اس قدیم صنف کو محفوظ کردیا۔
’’آئینہ حقائق‘‘
پونے پانچ صد صفحات پر مشتمل نثر کی کتاب آئینہ حقائق 2000ء میں شائع ہوئی۔ یہ ضخیم کتاب جماعتی تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا ہے اور ’’ریفرنس بک‘‘ کے طور پر بہت معاون ہے۔
’’شہر دعا‘‘
یہ نعتوں کا مجموعہ ہے جو 1989ء میں شائع کیا گیا۔ کتاب کے شروع میں یہ دو شعر درج ہیں۔ ؎

چشمۂ فیض و عطا ہو جیسے
منبع جود و سخا ہو جیسے
عظمت و شان محمدؐ کی قسم
فرش پر عرشِ علا ہو جیسے

’’حیات حضرت مختار‘‘
حضرت سید مختار شاہجہانپوری کی سوانح حیات اور منظوم کلام کو بڑی محنت اور کاوش سے جمع کرکے استاد محترم حضرت سلیم شاہجہانپوری نے 1997ء میں چار صد صفحات پر مشتمل کتاب میں شائع کیا۔ ایک باب میں حضرت مسیح موعودؑ کے اشعار پر اعتراضات کے مدلل جواب دیئے گئے ہیں۔
’’داستان درد‘‘
محترم سلیم شاہجہانپوری نے اس کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے: ’’ہم حضرت مختار شاہجہانپوری کی یہ داستان درد سب کی سب اس لئے شائع کررہے ہیں کہ اس میں نہ صرف داستان کی چاشنی ہے بلکہ بہت سے ادبی، شعری اور تنقیدی مسائل بھی آگئے ہیں۔ اس کے بالاستیعاب مطالعہ سے آپ کی علمیت میں بے اندازہ اضافہ ہوسکتا ہے‘‘۔ اس کتاب کا سن اشاعت 2006ء ہے اور 74 صفحات پر مشتمل ہے۔
’’بکھرے ہوئے موتی‘‘
حضرت سلیم شاہجہانپوری کے منتخب اشعار کے مجموعے ’’بکھرے ہوئے موتی‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے لکھا ہے ’’موتی اقوال کی صورت میں ہوں یا لڑی میں پروئے ہوئے اگرسچے ہوں تو اپنی قیمت منوالیتے ہیں …پورا کتابچہ جہاں بلحاظ زبان و بیان، پاکیزہ و سنجیدہ اور کلاسیکیت میں رچا ہوا ہے وہیں بلحاظ فکر و خیال تازہ و شگفتہ اور عصری آگہی کی خوشبو میں بسا ہوا ہے …‘‘۔
’’کاروان حیات‘‘
ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل حضرت سلیم شاہجہانپوری کی سوانح عمری ’’کاروان حیات‘‘ 2001ء میں شائع ہوئی۔آپ کی ذات کے علاوہ جماعتی اجتماعات کے روح پرور نظاروں، تبلیغ کے درجنوں ایمان افروز واقعات اور قبولیت دعا کے بیسیوں نشانات نے اس کتاب کی افادیت کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔
’’شعرائے احمدیت‘‘
175 احمدی شعراء اور 32 شاعرات کے کلام کو اپنے دامن میں سمیٹے آٹھ صد سے زائد صفحات کی ضخیم تالیف ’’شعرائے احمدیت‘‘ 2007ء میں مرتّب کرکے شائع کروائی۔
’’الانسان‘‘ کا سلیم شاہجہانپوری نمبر
ماہنامہ ’’الانسان‘‘ کراچی نے سلیم شاہجہانپوری کی 60 سالہ علمی، ادبی اور شعری خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے 1999ء میں سلیم شاہجہانپوری نمبر شائع کیا۔
’’تریاق‘‘
کچھ عناصر دہشت گردی کو مذہبی فریضہ سمجھ کر لوگوں کے جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔ اس حوالہ سے سلیم شاہجہانپوری نے کتاب ’’تریاق‘‘ تحریر کی تھی جو اُن کی زندگی میں شائع نہ ہوسکی۔ اس کے علاوہ جن کتابوں کے مسودات اشاعت کے لئے مکمل تھے ان میں ’’جگر مراد آبادی! اپنے کردار کے آئینہ میں‘‘، ’’تدوین دیوان بے ڈھب شاہجہانپوری‘‘ اور ’’مشاہیر کراچی‘‘ قابل ذکر ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/TEghM]

اپنا تبصرہ بھیجیں