جسٹس محمد منیر صاحب کے حوالہ سے چند یادیں

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اگست و ستمبر 2012ء میں مکرمہ حمیدہ وہاب خان صاحبہ نے ایک مختصر مضمون میں پاکستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس محمد منیر صاحب کے بارے میں اپنی چند یادوں کو قلم بند کیا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب سابق مبلغ افریقہ میرے سُسر اور مکرم عبدالوہاب خان صاحب (جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر پنجاب) میرے شوہر تھے۔ میرے والد محترم ظفرالحق خان صاحب (ڈپٹی کمشنر) کی وفات 1956ء میں ہوئی۔ میرے والدین کے نکاح کا اعلان حضرت مصلح موعودؓ نے 1928ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا۔ میری والدہ افتخار اختر بیگم اور جسٹس محمد منیر صاحب کی اہلیہ سعیدہ بیگم دونوں کزن تھیں، ہم عمر تھیں اور بہت اچھی دوست تھیں۔ جسٹس منیر اور ابّاجی دونوں اعلیٰ درجے کے علم دوست تھے۔ قیامِ پاکستان سے قبل بھی جب دونوں کی ملاقات ہوتی تو علمی و ادبی بحث ہوتی رہتی۔
پاکستان بننے کے بعد جسٹس صاحب ہر ملاقات میں احمدیت کے موضوع پر خود بات کرنا شروع کردیتے۔ ستمبر 1950ء میں ابّاجی گجرات کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ جسٹس محمد منیر اپنی چھٹیاں گزار کر واپس لاہور جارہے تھے کہ سیلاب کی وجہ سے لاہور کا زمینی راستہ کٹ گیا۔ چنانچہ وہ گجرات میں ہمارے ہاں آگئے اور وہاں فون کرکے بتادیا کہ اُنہیں لاہور پہنچانے کے لیے چھوٹا طیارہ بھجوادیا جائے۔ رات کو حسب معمول احمدیت کا ذکر شروع ہوا تو جسٹس محمد منیر کہنے لگے کہ حکومت کے اونچے ایوانوں میں جماعت احمدیہ کے خلاف مَیں خطرے کی گھنٹیاں سُن رہا ہوں۔ پھر اُن کے پوچھنے پر جماعت احمدیہ کے عقائد اور تعلیمات سے میرے والدین اُن کو آگاہ کرتے رہے۔ جسٹس محمد منیر کہنے لگے کہ مجھے اردو پڑھنی مشکل ہے، اگر آپ کے پاس کوئی انگریزی کی کتاب ہو تو دیں۔ ابّاجی نے انہیں ایک کتاب دی جس کا نام وغیرہ نوٹ کرکے انہوں نے واپس کردی کہ لاہور جاکر خود خریدلیں گے۔ ابّاجی کے اصرار کے باوجود انہوں نے کتاب نہیں لی۔
کچھ عرصہ بعد وزیراعظم لیاقت علی خان گجرات کے دورے پر آئے تو ابّاجی کو کہنے لگے کہ سُنا ہے رات کو قادیانی آپ کے پاس کام کروانے سفارش لے کر آتے ہیں۔ ابّاجی نے جواب دیا کہ اگر کسی کو جائز کام ہے تو وہ دن کو بھی آسکتا ہے۔ اسی طرح گورنر پنجاب سردار عبدالرّب نشتر بھی گجرات آتے تو اسی طرح کے چبھتے ہوئے سوال کرتے۔ اُنہیں دنوں مسلم لیگ گجرات میں ہار گئی تو اخبار ’’نوائے وقت‘‘ نے اپنے اداریے میں لکھا کہ پنجاب کے 16 اضلاع ہیں جن میں دو قادیانی ڈپٹی کمشنر لگائے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اُن دنوں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ وہ مرکز میں چلے گئے۔ ابّاجی کو ADM بناکر اٹک (کیملپور) بھجوادیا گیا۔ جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب نواب ممتاز محمد دولتانہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پنجاب میں گندم کی شدید قلّت پیدا ہوئی۔ اُس نے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے احمدیت کے خلاف فساد کو ہوا دی۔ ان ہنگاموں کی انکوائری کی رپورٹ جسٹس محمد منیر نے لکھی جس میں واضح طور پر لکھا کہ اسلام کے کسی مسلک کے عقائد دوسرے مسلک والے صحیح نہیں مانتے اور دراصل اسلام میں صرف کلمہ طیّبہ پڑھنا ہی مسلمان ہونے کی شرط ہے۔
بعد میں ایک ملاقات میں جسٹس محمد منیر کہنے لگے کہ یہ نہ سمجھنا کہ یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے دَب گیا ہے، یہ پھر دس سال بعد اُٹھے گا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/z1Ue8]

اپنا تبصرہ بھیجیں