جانوروں کی دنیا – ہومیوپیتھی کلاس سے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 23 جون 2006ء میں ایک مضمون ہومیو ڈاکٹر مقبول احمد صدیقی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے جس میں جانوروں کی دنیا سے وہ دلچسپ حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا ذکر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی ہومیوپیتھی کلاسز میں کیا گیا تھا۔
چمگادڑ
’’کان کی حس کے لحاظ سے سب سے زیادہ تیز حس جانور کونسا ہے جو باریک ترین آوازوں میں فرق کرتا ہے۔ دوچیزیں ہیں ایک چمگادڑ جس کی آنکھ اتنی کمزور ہوتی ہے کہ اس کو کچھ نظر ہی نہیں آتا وہ آواز کی Reflection کی رفتار سے اندازہ کرتی ہے کہ سامنے کوئی چیز ہے جس سے ٹکر لگ سکتی ہے اور بعض دفعہ وہ اس تیزی سے دیوار کی طرف جارہی ہوتی ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ یہ ابھی ٹکرا کے مرکے گرجائے گی اور ایک انچ دور سے وہ اچانک پلٹتی ہے۔ یہ اس کی جو آواز کی غیرمعمولی حس ہے وہ ڈائریکشن اور فاصلے سب کچھ اسے بتارہی ہوتی ہے‘‘۔
اُلو
کان کی حس کی تیزی میں اُلو بھی شامل ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں: ’’اُلو کی حس اتنی تیز اور اتنی درست ہے کہ رات کے اندھیرے میں گہری تاریکی میں، گھاس کے نیچے، پتوں کے نیچے کوئی چوہا چلے کوئی جانور چلے تو اس کو یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ کس ڈائریکشن میں ہے کتنے فاصلے پر ہے پنجہ کہاں گاڑنا ہے اور سیدھا اترتا ہے ۔ اس کی پرواز میں آواز نہیں ہوتی اس لئے اس کا جو شکار ہے اس کو پتہ نہیں لگتا کہ کب کوئی چیز آئی ہے اور بالکل صحیح ڈائریکشن میں اپنے پنجے وہیں رکھتا ہے جہاں وہ جانور ہے اور اڑکر واپس اپنی شاخ پر آجاتا ہے۔ یہ عجیب خدا کی شان ہے کہ کانوں سے پورے اندھیرے میں، ڈائریکشن، فاصلے بالکل صحیح کتنا نیچے ہے، کس طرف ہے اور دماغ میں کیا پہنچی ہے صرف ایک سرسراہٹ ہے اس کی الیکٹریکل فارم پہنچی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے‘‘۔
چھچھوندر
’’لینڈمارک جانوروں نے بھی بنائے ہوتے ہیں۔ کیڑی بھی لینڈ مارک بناتی ہے۔ صحرا میں جگہ جگہ باریک باریک چھوٹے سے لینڈ مارک بناتی ہے بعض جانور اپنے لعاب اور گند درختوں پر ملتے جاتے ہیں۔ ایک جانور تیس تیس میل تک اپنی بدبو کے ذریعے واپس آجاتا ہے۔ یہ بدبو عام آدمی کیلئے ناقابل برداشت ہوتی ہے مگر وہ جانور اس کے ذریعے سے واپس آجاتا ہے‘‘۔
’’برسات کے دنوں میں پاکستان میں یا انڈیا میں بعض دفعہ باورچی خانوں یا غسل خانوں میں ایک چھچھوندر پھر جاتی ہے اور بدبو برداشت سے باہر ہوجاتی ہے اور یہ بدبو قدرت نے ان کو خاص مقصد کے لئے دی ہوئی ہے۔ کیونکہ چھچھوندر کی آنکھیں کمزور ہوتی ہیں اور وہ اپنے راستے بدبو سے Trace کرتی ہے اور بعض جانور ہیں مثلاً بڑے جانور ان میں خداتعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہوا ہے کہ وہ اپنے مسکن سے تیس تیس چالیس میل دور رات کو نکل جاتے ہیں اور ہر درخت کے اوپر کچھ عرصہ کے بعد تھوڑا سا پیشاب کرتے ہیں محض نشان ڈالنے کے لئے اور اس میں ایسی خاص بدبو ہوتی ہے جو کسی اور جانور میں نہیں ہوتی اور اس طرح واپسی پر مکمل سڑک Trace کرجاتے ہیں۔ ہر چیز میں اللہ نے حکمت رکھی ہوئی ہے۔‘‘
پرندے
’’پرندوں پر بہت ریسرچ ہوئی ہے وہ جو سالانہ ان کے دورے آتے ہیں۔ انہوں نے جنوب کی طرف حرکت کرنی ہے، شمال کی طرف حرکت کرنی ہے اتنا تو ان کا دماغ ہوتا ہی نہیں کہ وہ سوچ لیں کہ اب یہ ہوگیا ہے وہ سب کمپیوٹر ہیں ان کے اندر‘‘
پھر حضورؓ نے ریسرچ کرنے والے ماہرین کے حوالہ سے فرمایا: ’’انہوں نے ان (پرندوں) کو اندھیروں میں بالکل علیحدہ کردیا ایسے پنجرے بنائے جن کی ڈائریکشن کا ان کو پتہ نہیں تھا اور اندھیروں میں مختلف وقتوں میں ان کی شکلیں بھی بدلتے رہے تاکہ ایک جگہ بیٹھنے کی عادت دوسری جگہ میں تبدیل نہ ہو اور جب وہ دور آیا تو بلا استثناء وہ سارے پنجروں کے ان حصوں میں چلے گئے جو جنوب کی طرف تھے کیونکہ ان کی جنوبی حرکت کے دن آگئے تھے۔ اس طرف سمٹ گئے جس سے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر کوئی گھڑی بنائی ہوئی ہے ایسی کہ اس گھڑی کا ہمیں پتہ نہیں چلا۔ ابھی تک انسان کو کچھ پتہ نہیں کیسے کام کرتی ہے لیکن وقت پہ وہ چلتی ہے۔ الارم بھی بجاتی ہے اور ازخود سمت بھی بتاتی ہے۔ آج تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ جانوروں کو سمت کا کس طرح پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ انسان اپنی پوری ہوش کے ساتھ فضا میں اڑ کے کسی ایک سمت میں ان کو کہیں کہ جاؤ اور اوپر سے بادل ہوں اور ستارے بھی نہ ہوں، سورج کا بھی پتہ نہ چلے ناممکن ہے کہ انسان اس جہت میں چلے اور بغیر غلطی کے چلے جس جہت میں اس نے جانا ہے۔‘‘
شہد کی مکھی
’’شہد کی مکھی وغیرہ میں بھی سمت کی جو سینس (Sense) ہے سمت کو معلوم کرنے کا اندرونی نظام بہت ہی باریک در باریک ہے جس پر ابھی تک انسان کی رسائی نہیں ہوئی لیکن علم میں آچکا ہے کہ جانور جو کام کرتے ہیں ان کے اندر اس کی ہمت موجود ہے، صلاحیت اور حیرت انگیز صلاحیت ہے۔‘‘
ٹڈیاں
’’چھوٹے چھوٹے پرندے یہاں کے ٹڈیاں وغیرہ یہ کئی ہزار میل چلتی ہیں اور ان کو پتہ ہے کہاں جانا ہے ہمیشہ وہیں نکلیں گی۔ جس Oasis میں انہوں نے بسیراکرنا ہے کچھ دیر کے لئے بڑے بڑے ریگستان کے سفر طے کرتی ہیں یہ چھوٹی چھوٹی ٹڈیاں جیسی اور جس Oasis میں کبھی جاکے ٹھہری تھیں وہاں جو آدمی Watch کرے ان کو پہنا دیا جائے نشان وغیرہ تو عین اسی جگہ واپسی پر بھی قدم رکھ کر پھر گزریں گی آگے اور اگلے سال پھر اسی Oasis میں جاکر اپنا بسیرا کرکے جو غذا وہاں ملتی ہے کھاکر پیٹ بھر کے اگلے سفر کی تیاری۔ ہر سفر سے پہلے کچھ پیٹ بھرتی ہیں اور چونکہ سردیوں میں ان کو جہاں غذا کم ملتی ہے بعض ایسی ہیں جن کو سردیوں میں یہاں غذا ملتی ہے جو گرمیوں میں سفر شروع کرتی ہیں۔ ان پہ سردیوں میں چربی چڑھ چکی ہوتی ہے وہ پھر ساری پگھل جاتی ہے رستے میں ٹھہرتی ہیں تھوڑا سا Refill کرنا پڑتا ہے لیکن جو وقت ہے اس کا بھی ان کو پتہ ہے اس سے زیادہ ہم نے یہاں نہیں ٹھہرنا۔ یہ نہیں کہ وہاں ٹھہرہی جائیں۔ اگر چوبیس گھنٹے کا سٹاپ ملا ہوا ہے ان کو ادھر تو چوبیس گھنٹے کے اندر ضرورچل پڑیں گی چاہے رستے میں بھوک سے نڈھال ہوکے مرمر کے گرنا شروع ہوجائیں لیکن چلنا ضرور ہے۔ وہ جو کلاک ہے وہ اپنا کام کرتا ہے۔
تو یہ ساری باتیں ہومیوپیتھک طریق پہ یقین بڑھانے کے لئے ضروری ہیں اور اس لئے ضروری ہیں کہ یہ ہومیوپیتھک کوئی اتفاقی حادثہ یاکوئی تماشا نہیں ہے بلکہ اس خداکی طرف سے ایک نظام جاری ہے جس نے یہ ساری چیزیں بنائیں۔ جس نے ایسا باریک نظام بنا کے رکھا ہوا ہے اس نے رسائی کا نظام ضرور کوئی بنایا ہوگا ورنہ یہ عجیب بات لگتی ہے کہ اتنا حیرت انگیز نظام دفن کردیا اور اس سے استفادہ کا کوئی نظام نہ بنایا ہو۔ پس یہ ہومیوپیتھی ایک قسم کی الہامی ہے جو اس دور میں خداتعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے جاری کی ہے تو آپ نے پیغام صحیح دینا ہے پھر اللہ نے چاہا تو باقی کام جسم کرے گا۔‘‘

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/qc6NN]

اپنا تبصرہ بھیجیں