’’جامعہ احمدیہ‘‘ کی بنیاد اور شاندار ترقیات – جامعہ احمدیہ جرمنی

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اکتوبر تا دسمبر 2013ء)

تاریخ احمدیت کا ایک زرّیں باب
دینی تعلیم کے ادارے ’’جامعہ احمدیہ‘‘ کی بنیاد اور شاندار ترقیات
جرمنی میں جامعہ ا حمدیہ کا بابرکت افتتاح
(شیخ فضل عمر۔ یوکے)

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 2003 ء میں اپنے دورِ خلافت کے پہلے دورہ پر جب جرمنی تشریف لائے تھے تو فرمایا تھا کہ 2008ء تک جرمنی میں بھی ایک جامعہ بنائیں تاکہ جرمنی اور یورپ کے دوسرے ممالک کے نوجوان یہاں سے تعلیم حاصل کرکے مبلغ کی ذمہ داری ادا کرسکیں۔ 17؍اپریل 2007ء کو حضورانور نے مکرم شمشاد احمد قمرصاحب کو جامعہ احمدیہ جرمنی کے پرنسپل کی ذمہ داری سونپی اور ہدایت فرمائی کہ اب باقاعدہ جامعہ کے آغاز کی منصوبہ بندی کریں۔ چونکہ اس وقت جامعہ کے لئے کوئی علیحدہ بلڈنگ موجود نہ تھی اس لئے جماعت کے مرکزی سینٹر بیت السبوح (فرینکفرٹ) کے ایک حصہ کو مخصوص کرکے جامعہ احمدیہ کے قیام کا منصوبہ بنایاگیا۔ 20اگست2008ء کو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ جرمنی کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعہ احمدیہ کی اپنی مستقل عمارت کیلئے بھی کوشش جاری رہی۔
Riedstadt قریباً بارہ سو سال پراناایک تاریخی شہرہے اور 22ہزارنفوس کواپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جن میں 83مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ضلع Gross-Gerau میں رقبہ کے لحاظ سے یہ سب سے بڑا شہر ہے ۔بیت السبوح فرینکفرٹ سے اس کا فاصلہ 57کلومیٹر ہے۔ ستمبر 1987ء میں یہاں جماعت کاقیام عمل میں آیا اور پھر یہاں ’’مسجد بیت العزیز‘‘ بھی تعمیر ہوئی جس کا افتتاح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 30؍اگست 2004ء کو فرمایا تھا۔ مسجد سے ملحقہ پلاٹ کا رقبہ 5700مربع میٹر ہے جسے 2008ء میں چھ لاکھ پچاس ہزار یوروز میں خریدا گیا تھا۔ مسجد کا قطعہ زمین شامل کرکے کل رقبہ 8300مربع میٹر بنتا ہے۔ اکتوبر 2008ء میں یہاں جامعہ احمدیہ کو تعمیر کرنے کے لئے نقشہ منظور کیا گیا۔ 15؍دسمبر 2009ء کو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ جرمنی کا سنگ بنیاد رکھا۔ اور 2012ء میں یہ عمارت تیار ہوگئی جس کا حضور انور نے باقاعدہ افتتاح بھی فرمایا۔
اس نئی عمارت میں سات کلاس رومز، دو بڑے ہال، لائبریری، کمپیوٹر روم، پرنسپل کا دفتر اور سٹاف روم کے علاوہ دیگر انتظامیہ کے دفاتر ہیں۔ ایک بڑا کچن اور ڈائننگ ہال ہے ۔مختلف گیلریز اور Lobbies ہیں۔ دومنزلہ مسرور ہوسٹل کی عمارت بھی ہے۔ جس میں اس وقت بڑے سائز کے کل 31کمرے ہیں اور ایک بڑا ہال ’’کامن روم‘‘ کے طورپر ہے جہاں Indoorکھیلوں کا انتظام ہے۔ ایک حصہ میں لانڈری روم بھی ہے۔ طلباء کے کھیل کے لئے فٹ بال،والی بال اور باسکٹ بال کے لئے بھی ایک جگہ تیار کی گئی ہے۔
رائیڈشٹیڈ شہر کے میئر Mr. Werner Amend نے بھی افتتاحی پروگرام میں شرکت کی اور اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس افتتاح کے ساتھ رائیڈشٹڈ کا شہر احمدیہ مسلم جماعت جرمنی کے لیے ایک لحاظ سے مرکزی حیثیت حاصل کرنی شروع کر دے گا۔ یہ ادارہ علم حاصل کرنے کے لیے، مذہبی ریسرچ کے لیے اور تبادلہ علم کے لیے ہے۔ اور یہ ادارہ مذہب اور کلچر کو فروغ دینے والا ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ باہمی گفت و شنید اتنی عام نہیں جتنی کہ اس کی ضرورت ہے۔ اپنے ایڈریس کے بعد میئر موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ کو شہر کے نشان والی شیلڈ تحفہ میں پیش کی۔

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب

حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اپنے خطاب میں طلبہ کو اہم نصائح فرمائیں۔
حضور انور نے فرمایا: آج ہمارے درمیان اس وقت جامعہ کے طلباء اور دیگر احمدی احباب کے علاوہ بعض دوسرے معزز مہمان بھی آئے ہوئے ہیں جن کا اسلام سے تعلق نہیں ہے بلکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پہلے تو میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے اس فنکشن کے لئے یہاں تشریف لائے اور اس کو رونق بخشی اور اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ وہ پُر امن ’اسلام ‘ پیش کرنے والی جماعت ہے جو حقیقی اسلام ہے ۔اور اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے مختلف مذاہب کے آپس میں روابط ہونے چاہئیں ۔ اوراس بات کا اظہار کیا کہ اس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بچے اس جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں ، تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاکہ یہاں کے لوگوں کو صحیح اسلام کی تصویر پیش کریں ،حقیقی اسلام کے متعلق بتائیں ۔ اسلام کے متعلق بعض شدت پسندوں کی طرف سے جو بعض غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں ان کو دور کریں۔ بہرحال ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو جماعت احمدیہ سے توقعات ہیں۔ جیسا کہ جماعت احمدیہ کی گزشتہ 124 سالہ تاریخ گواہ ہے، احمدیت وہ حقیقی اسلام ہے جو محبت اور پیار اور بھائی چارے کو پیش کرنے والا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ لوگ دیکھیں گے کہ یہاں سے فارغ ہونے والے طلباء اسلام کی حقیقی تصویر اس ملک کے لوگوں کو دکھائیں گے۔
یہاں مَیں ایک بات کا اور بھی اضافہ کر دوں کہ یہاں زیادہ اظہار یہ ہوتا رہا ہے کہ صرف جرمنی کے پڑھے لکھے طلباء ہیں جو اس جامعہ میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ اس جامعہ احمدیہ میں تو یورپ کے باقی ممالک جن میں بیلجئم، ہالینڈ، فرانس اور اس کے علاوہ بھی کچھ اور ملک ہیںجن کے طلباء بھی یہاں پڑھ رہے ہیں ۔ جیسا کہ میئر صاحب نے کہا کہ لندن کے مقابلہ میں یہ چھوٹا سا شہر ہے جس میں جامعہ احمدیہ قائم ہوا اور جہاں اسلامی تعلیم دی جارہی ہے۔ تو یہاں صرف جرمنی کے طلبا ہی نہیں پڑھ رہے بلکہ اس چھوٹے شہر سے علم کی ایک روشنی نکل کر سارے یورپ میں پھیلنے والی ہے۔اور یورپین یونین تو اپنے معاشی حالات کی وجہ سے اقتصادی حالات کی وجہ سے سیاسی حالات کی وجہ سے ایک ہوکے کام کر رہی ہے لیکن مذہب کی طرف یورپین یونین توجہ نہیں دے رہی۔ تو یہ جماعت احمدیہ ہے جس نے رائیڈشٹڈ میں ایک ایسی اکائی یورپ کی بھی قائم کر دی ہے جہاں سے دین اسلام کی حقیقی تعلیم دینے والے لوگ سارے یورپ میں پھیل کر اور ہو سکتا ہے کہ یورپ سے باہر نکل کر بھی اسلام کی حقیقی تصویر کو پیش کریں ۔ اس لحاظ سے بھی یہ اعزاز اس شہر کو حاصل ہے ۔
اب مَیں مہمانوں سے چند باتیں کرنے کے بعد جو میرا اصل مقصد ہے اس کی طرف آتا ہوں کہ جامعہ کے افتتاح کے حوالے سے یہاں کے طلباء کو کچھ کہوں۔ جامعہ کے طلباء اور تمام جماعت احمدیہ جرمنی کو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اللہ نے انہیں توفیق دی کہ یہاں جامعہ احمدیہ قائم کیا۔ ایک بہت بڑا پراجیکٹ تھا جماعت احمدیہ کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے پاس تیل کا پیسہ ہے یا جو تجارتوں پر انحصار کرتی ہے ۔ جماعت احمدیہ تو وہ چھوٹی سی جماعت ہے جو اپنے سارے پراجیکٹس چاہے وہ مساجد ہوں یا چاہے مشن ہاؤسز ہوں، مشنریز کو باہر بھیجنا ہو، تبلیغی پروگرام ہو، لٹریچر کی اشاعت ہو، جامعہ کے مربیان اور مبلغین تیار کرنا ہو ،یہ سب جماعت احمدیہ کے افراد مالی قربانی کر کے چندوں کے ذریعہ ان اخراجات کو پورا کرتے ہیں ۔
یہ بہت بڑا پراجکیٹ تھا اور میرا خیال تھا کہ شاید اس کو مکمل ہوتے ایک دو سال اور لگ جائیں گے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ جرمنی کو توفیق دی کہ انہوں نے اس کو بڑی جلدی مکمل کر لیا۔ اور آج ایک خوبصورت عمارت جس میں تمام قسم کی سہولتیں مہیا ہیں طلباء جامعہ کے لئے مہیا کردی۔ اس بات پر طلباء کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہئے اور اب اس شکرگزاری کا ایک اظہار یہ بھی ہے کہ اپنی تعلیم پر پوری توجہ دیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کے لئے آپ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ اور وہ مقصد یہ ہے کہ دنیا کو تباہی سے بچانا، اپنے اندر وہ پیار اور محبت دنیا کے ہر شخص کے لئے پیدا کرنا جس کی مثال ایک دنیاوی شخص میں نہیں ملتی ۔ بس اس ذمہ داری کو سمجھیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی تعلیم حاصل کریں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کو احسن رنگ میں پھیلانے کا عہد کریں ۔
دنیا کو تباہی سے کس طرح بچانا ہے؟ ایک تو دنیاوی یا سیاسی کوششیں ہیں۔ جس میں ہم امن محبت اور پیار کا پیغام دیتے رہتے ہیں۔ پھر دنیادار بھی دنیا کو جنگ کے حالات سے ڈراتے ہیں۔ میں بھی مختلف موقعوں پر کہتا رہتا ہوں ۔ لیکن ایک مبلغ، ایک مربی جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے اس نے دنیا کو خدا تعالیٰ کے وجود کا احساس دلانا ہے ۔ خدا تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاناہے ،دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ دنیا میں امن انصاف اور محبت اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہ احساس دل میں پیدا نہیں ہوگا کہ ہمارے ہر کام کو ہر فعل کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔پس جہاں آپ دنیا کو یہ احساس دلانے کے لئے اپنی کوششیں کریں گے وہاں سب سے پہلے اپنے آپ کو اس احساس اور اس ذمہ داری کا حقدار بنانا ہوگا ۔ اپنے آپ پر یہ تعلیم لاگو کرنی ہوگی۔ اپنے آپ کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہوگا۔ تبھی آپ حقیقی رنگ میں دوسروں کو بتاسکتے ہیں کہ خدا کیا ہے خدا کی تعلیم کیا ہے خدا کو اپنی مخلوق سے کتنا پیار ہے اور اس پیار کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ نے ہر زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے نبی بھیجے۔اور آخر میں آنحضرت صلی ا للہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا اور دین کا کامل اور مکمل کر دیا اور پھر جوایک قدرتی پراسس ہے اس میں بعض دفعہ دین میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس آخری کامل اور مکمل دین کی تجدید کے لئے از سر نو اس کی تعلیمات کو رائج کرنے کے لئے اس کو خوبصورت رنگ میں پیش کرنے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔
پس آپ جب یہ باتیں لوگوں کو بتائیں گے تو اس سے پہلے آپ کو خود اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ آپ کا اپنا خدا تعالیٰ سے تعلق کیسا ہے ۔ آپ کا اسلام کی تعلیم پر عمل کیسا ہے ۔ آپ کو مخلوق خدا سے کس قدر محبت اور پیار ہے۔ یہ باتیں سامنے رکھیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں برکت پیدا ہوتی چلی جائے گی ۔
قرآن کریم میں تفقّہٗ فِی الدّین کا حکم ہے کہ ایک گروہ تم میں سے ایسا ہو جو تفقّہٗ فِی الدّین کرے۔اب بہت سارے ایسے واقفین نَو ہیں جن کو ماں باپ نے پیدائش سے پہلے دین کے سیکھنے کے لئے وقف کیا اس کے بعد آپ نے خود اپنے آپ کو پیش کیا ۔ آپ کو کوئی مجبوری نہیں تھی یا آپ پر کوئی زبردستی نہیں تھی بلکہ آپ نے خود ہی کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو دین کے لئے پیش کرناہے اور دین کی خدمت کرنی ہے۔ پس جب دین سیکھ لیا یا سیکھنے کی طرف آئے تو اس کا احساس بھی آپ کو ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے

تفقّہٗ فِی الدّین

کے ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ تمہارے کیا مقصد ہونے چاہئیں۔ یہ کہ ہر قوم کو یا جہاں بھی تمہارا ماحول ہے تم اس کو ہوشیار کرو جیسے کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف لاؤ۔ خدا تعالیٰ کے وجود سے ہوشیار کرو ۔ دین کی ضرورت کا احساس دلاؤ اور غلط کاموں اور گمراہی سے بچنے کی طرف توجہ دلاؤ۔
اللہ تعالیٰ نے اسلام میں جہاں حقوق اللہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے وہاں بندوں کے حقوق ، حقوق العباد کی بھی بہت زیادہ اہمیت بیان فرمائی ہے۔ اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ دو بڑے مقاصد ہیں جن کو میں لے کر اس دنیا میں آیا ہوں۔ ایک بندے کو خدا سے قریب کرنا اور دوسرا بندوں کو ایک دوسرے کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانا ، اور پھر اسی میں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ تمام قسم کی مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرنا ۔ تو آ ج جو اسلام کی تصویر دنیا میں پیش کی جارہی ہے کہ اسلام شدت پسند مذہب ہے، سخت مذہب ہے اور اسلام صرف terrorismکو ہوا دیتا ہے ۔تو اس کو لوگوں کے دماغوں سے نکالنابھی آپ کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے آپ کو اپنے رویوں میں بھی تبدیلی پیدا کرنی ہوگی ۔ اپنے رویوں کو ایسا بنانا ہوگا کہ آپس میں اتنا پیار اور محبت ہو ۔آپ کو

رُحَمَآء بَیْنَھُمْ

کا تو حکم ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس سے ہر دوسرا امن پسند محفوظ ہے۔ ہر شخص جو سلامتی بھیجنے والا ہے اور پیار محبت پھیلانے والا ہے وہ محفوظ ہے۔ وہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اسکی حفاظت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔ پس یہ تعلیم آپ نے دنیا کو دینی ہے اور یہی وہ مقصد ہے جس سے آپ تفقہ فی الدین کا حق ادا کرنے والے بن سکیں گے ۔ اس طرف آپ کی توجہ ہونی چاہئے ۔
اس کے علاوہ حقوق العباد میں پھر بہت سارے دوسرے اعلیٰ اخلاق اور اخلاقی قدریں آجاتی ہیں۔ ان کی تفصیل میں جتنا جائیں وہ آپ پرکھلتی چلی جائیں گی ۔ ان کی تفصیل حاصل کرنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہی آپ کا کام ہوگا اور یہ حقیقی روح پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں ایک مثال بھی دی ہے۔فرمایا کہ جس طرح شہد کی مکھی کام کرتی ہے اس طرح تم نے کام کرنا ہے ۔ شہد کی مکھی اپنے چھتے اونچائی پر بناتی ہے۔ اب تو خیر ڈومیسٹک (domestic) طور پر بھی ہم مکھیاں پالنے لگ گئے ہیں اور ڈبوں کو نیچے بھی رکھ دیتے ہیں لیکن پھر بھی زمین سے اونچے ہی ہوتے ہیں ۔تو عموماً شہد کی مکھی اپنے چھتے اونچی جگہوں پر بناتی ہے جیسے پہاڑوں پر بنائے گی ، درختوں پر بنائے گی، یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایااور یہی ہم دیکھتے بھی ہیں۔ اس لئے آپ کی سوچیں بھی اونچی ہونی چاہئیں۔ آپ کے علم کی وسعتیں بھی اونچائی تک پہنچنی چاہئیں ۔ یہ نہیں کہ زمینی چیزوں پر انحصار ہو جائے بلکہ آپ کی آسمانوں کی طرف پرواز ہونی چاہئے۔ آپ کے ٹھکانے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونے چاہئیں نہ کہ زمینی لوگوں پر۔ تو شہد کی مکھی ہمیں ایک سبق بھی دیتی ہے کہ اونچی جگہوں پر اپنے ٹھکانے بنانے ہیں،اور سب سے اونچا ٹھکانہ خداتعالیٰ کی ذات ہے۔ اس ٹھکانے کو پکڑ لیں تو کوئی دنیاوی ٹھکانہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ یہاں خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ شہد کی مکھی مختلف پھلوں کے nectur سے شہد حاصل کرتی ہے۔ آپ کو بھی یہاں مختلف پھل پیش کئے جا رہے ہیں۔ اب قرآن کریم تمام قسم کی خوبیوں کا منبع ہے، ہر قسم کی تعلیمات کا منبع ہے، خداتعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اوربندوں کے حقوق ادا کرنے کا بہترین سبق اس میں موجود ہے۔ مذہبی رواداری قائم کرنے کا سبق بھی اس میں موجود ہے۔ہر مذہب کا لحاظ اور اس کی عزت کرنے کا سبق اس میں موجود ہے تو اس کی تعلیم آپ یہاں حاصل کر رہے ہیں۔ پھر اس کی تشریح میں احادیث ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں ، اس کی تعلیم آپ یہاں حاصل کر رہے ہیں ۔ پھر فقہاء نے اس کی مختلف تشریحات کی ہیں ، تو آپ فقہ پڑھ رہے ہیں اور اس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔پھر ایک دوسرے کے مذہب کو جاننے کے لئے آپ موازنہ مذاہب کی تعلیم بھی یہاں حاصل کر رہے ہیں۔ آپ یہاں پر عیسائیت کی تعلیم حاصل کر یں گے، یہودیت کی تعلیم کو بھی دیکھیں گے، بدھ ازم کی تعلیم کو بھی دیکھیں گے، دوسرے مذاہب کو بھی دیکھیں گے، تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ ان کی تعلیم کیا ہے اور اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب اسلام پر اعتراض کرتا ہے تو اس کا آپ نے کس طرح جواب دینا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ دوسرے مذاہب کی برائیاں دوسروں کے سامنے بیان کریں، آپ کو چاہئے کہ دوسرے مذاہب کی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد آپ اسلام کی خوبیاں اور تعلیمات لوگوں کو بتائیں۔
پس ان سب مضامین کا گہرائی سے مطالعہ بھی آپ کے لئے ضروری ہے۔ پھر یہ بھی کہ بعض خاص قسم کے شہد ہوتے ہیں جو ملکہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں، اس میں تخصصّ کی بات آگئی کہ جب آپ پڑھ کر نکلیں گے توآپ میں سے بعض طلباء مختلف مضامین میں سپیشل لائز بھی کریں گے۔ وہ ایسا خاص شہد ہے جو مختلف بیماریوں کا علاج کرے گا۔ تو اس مثال کو اگر آپ اپنے سامنے رکھیں تو ہمیں اس سے ایک عجیب سبق ملتا چلا جاتا ہے ۔ لیکن یہ سب چیز حاصل کرنے کے بعد پھر شہد کی مکھیوں نے کیا سبق دیا؟ فرمایا

فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا (النحل:70)

کہ اپنے ربّ کے راستوں پر عاجزی کرتے ہوئے چلنے والے ہیں ۔یعنی قرآن اور حدیث اور مختلف مذاہب کا علم حاصل کرنے کے بعد ایک مبلغ اور مربی میں تکبر اور غرور پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ پھر عاجزی دکھائے اور ان راستوں پر چلے جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ شہد کی مکھی کو

شِفَاء لِّلنَّاسِ

کہا گیا ہے۔گویا کہ یہ شہد کی مکھی لوگوں کے لئے شفاء اور صحت کا انتظام کر رہی ہے۔تو آپ نے اپنے علم سے روح کی صحت کا انتظام کرنا ہے۔ روحانی شفاء ہمارے مبلغین کے ذریعہ سے ملنی چاہئے۔ یہ مطمح نظر ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ پس یہ چیزیں اگر سامنے رکھیں گے تو دیکھیں پھر دنیا آپ کی طرف کس طرح کھینچی چلی آتی ہے ۔ آپ کے مقاصد میں کس قدر کامیابی ہوتی ہے دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا کس طرح پتہ چلتا ہے ۔ چاہے وہ جرمنی کے رہنے والے لڑکے ہیں جو یہاںتعلیم حاصل کر رہے ہیں، یا بیلجیم سے آئے ہوئے لڑکے ہیں جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا فرانس سے آئے ہوئے بچے ہیں جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یا ہالینڈ کے لڑکے ہیں جو مبلغ بن کر نکلیں گے انشاء اللہ ، اور وہاں جا کر تبلیغ کریں گے، ہر ایک اپنے اپنے علاقے میں جا کے ایک روح کی شفا کا انتظام کر رہا ہو۔ پس آپ وہ شفاء بن جائیں ۔
جہاں تک علم حاصل کرنے کا تعلق ہے تو میں کئی دفعہ مثالیں بیان کر چکا ہوں کہ غیر از جماعت مولوی بھی بڑے بڑے عالم ہیں۔ کئی لمبے لمبے حوالے ان کو یاد ہیں۔ احادیث کی کتابوں کی کتابیں انہیں زبانی یاد ہیں۔ قرآن کریم کی آیتیں انہیں یاد ہیں۔نمبر دے کے حوالے بھی دے دیتے ہیںلیکن چونکہ زمانہ کے امام سے انکی تربیت نہیں ہے، اس لئے ایک تو ان آیات اور احادیث کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکتے دوسرا یہ علم ان میں تکبر پیدا کردیتا ہے۔ اور یہ تکبر ان کو آسمانوں کی طرف لے جانے کے بجائے زمین کی گہرائیوں کی طرف لے جاتا چلا جاتا ہے اور وہ دنیا کی طرف جھکنے والے بن جاتے ہیں۔ ان کی جھوٹی انانیت اور جھوٹی عزتیں ان کو وہ روحانی مقام نہیں دلاتیں جو ایک صحیح حقیقی مبلغ اور عالم دین کو ہونا چاہئے۔ پس یہ چیز اگر آپ سامنے رکھیں تو آپ اس سے مزید عبرت حاصل کریں گے۔
پس دوبارہ یہی بات کہوں گا کہ اگر مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لئے آپ لوگوں نے جنہوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کیا ہے، حقیقی مددگار بننا ہے تو پھر اس ادارے میں رہ کر اپنے تعلیمی معیاروں کوبھی بلند کرتے چلے جائیں اور اپنے اخلاقی معیاروں کو بھی بلند کرتے چلے جائیں۔ اپنی ہر قسم کی عادات کو ایسا بنائیں جو ایک انتہائی بااخلاق انسان میں ہوسکتی ہیں۔ تاکہ اس علاقہ میں بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کر سکیں۔
یہاں جو چھوٹا سا شہر ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کی 22 ہزار کی آبادی ہے ۔ آپ سب تویہاں ایشین ہی ہیں ۔ ایک آدھ ہی سٹوڈنٹ ہے جو کسی یورپ کے ملک کا رہنے والا ہے اور وہاں کا مقامی باشندہ ہے۔ آپ لوگ بے شک یہاں پڑھے لکھے ہیں اور یہاں پیدا ہوئے ہیں لیکن شکل و صورت آپ کی ایشین ہی ہے ۔ تو اس شہر میں جب آپ باہر نکلیں تو آپ کو دیکھ کر یہ لوگ ڈر نہ جائیں کہ سو ڈیڑھ سو لڑکا اس چھوٹے سے شہر میں کہاں سے آ گیا ہے؟ کہیں یہ طالبان قسم کی چیز نہ ہوں؟ کہیں کوئی شدت پسند نہ ہوں؟ دہشت گرد نہ ہوں؟ ان کی داڑھیاں ان کی ٹوپیاں ان کے لباس عجیب قسم کا تأثر پیش کر رہے ہیں۔ چھوٹے شہر میں بڑی جلدی مشہوری ہو جاتی ہے اس لئے اس شہر میں جب آپ اپنے نمونے دکھائیں گے، اپنے اخلاق دکھائیں گے، دکانوں پہ جائیں گے، بازار میں پھریں گے، سڑکوں پہ جاتے ہوئے لوگوں کو سلام کریں گے، خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اورآپ کے چہروں پر نرمی ہوگی تو یہ شہر خودبخود آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔ اور پھر یہی عمل جو ہے اس علاقے میں آپ کی پہچان بن جائے گا ۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ ایسا نہیں کہ جامعہ میں سات سال پڑھ کر فارغ ہونے کے بعد ہی آپ نے میدان عمل میں جانا ہے بلکہ آپ کا میدانِ عمل ابھی سے شروع ہوگیا ہے۔ اس شہر کی بائیس ہزار کی آبادی آپ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کیا جماعت احمدیہ جو کہتی ہے وہ کرتی بھی ہے یا نہیں؟ اور اس کی صحیح تصویرکشی آپ کے عمل سے ، آپ کے اٹھنے بیٹھنے سے ، آپ کے رکھ رکھاؤ سے، آپ کی باتیں کرنے سے ، شہر میں پھرنے سے بازاروں میں جانے سے ہوگی۔ اور اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس شہر میں آپ مبلغ بن چکے ہیں چاہے آپ درجہ ممہدہ میں ہیں، یا درجہ اولیٰ میں ہیں، یا درجہ ثانیہ میں ہیں یا درجہ خامسہ میں۔ آپ اس شہر کے مربی بھی ہیں ، آپ اس شہر اور اس ملک میں اسلام کے سفیر بھی ہیں۔
پس ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ خالص ہوکر تعلیم کی طرف توجہ دیں اور کسی بھی قسم کاایسا اظہار آپ سے نہ ہو جو جماعت کی بدنامی کا باعث بننے والا ہو۔اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ ان تمام باتوں پر عمل کرنے والے ہوں اور حقیقی رنگ میں مبلغ اور مربی بن کے یہاں اسلام کی روشنی کو پھیلانے والے ہوں، آمین!۔
بعدازاں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
اس موقعہ پر میٹنگ روم میں میڈیا کے نمائندگان نے بھی حضور انور سے ملاقات کی اور ایک پریس کانفرنس کاانعقاد ہوا۔ جس کی رپورٹ آئندہ شمارہ میں شامل اشاعت کی جائے گی۔ انشاء اللہ

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/DBVJB]

اپنا تبصرہ بھیجیں