بلیک باکس (Black Box)

ہوائی حادثہ کی صورت میں جس شئے کی سب سے زیادہ تلاش ہوتی ہے اُسے ’’بلیک بکس‘‘ کہا جاتا ہے۔ انتہائی چمکدار پیلے رنگ کا یہ چھوٹا سا بکس اندھیرے میں بھی معمولی روشنی پڑتے ہی چمکنے لگتا ہے اور اسے پانی میں بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس کی پون انچ چوڑی ٹیپ پر چار مختلف چینلوں پر انتیس ملین بائٹس تک معلومات کو پچیس گھنٹے تک ریکارڈ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جنہیں اگر کاغذ پر لکھا جائے تو سات ہزار فل سکیپ سائز کے کاغذات پر بمشکل ٹائپ ہوسکیں۔ اس میں معمولی نوعیت کے جھٹکے اور کپکپاہٹ تک ریکارڈ ہوجاتے ہیں۔ یہ بکس دو ہزار درجے فارن ہیٹ تک کی تپش برداشت کرسکتا ہے اور بیس ہزار فٹ کی گہرائی میں گرنے کے باوجود اس میں سے ایک ماہ تک ڈھائی میل کی دوری تک آواز کی مخصوص لہریں نشر ہوتی رہتی ہیں۔
فضائی حادثات کی تحقیقات کے لئے امریکہ میں ایک خاص لیبارٹری NTSB قائم ہے جو سال بھر میں عام نوعیت کے 45؍ اور خاص نوعیت کے 6 فضائی حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرتی ہے۔ ’’بلیک بس‘‘ کے بارہ میں ایک تفصیلی مضمون ہفت روزہ ’’سیرروحانی‘‘ اگست 2000ء میں شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/tNH9l]

اپنا تبصرہ بھیجیں