’’برفیلی دھوپ‘‘

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے ماہنامہ ’’انصارالدین‘‘ برائے جنوری۔ فروری 2011ء میں فرخ سلطان محمود کے قلم سے مکرم طفیل عامر صاحب کے کلام ’’برفیلی دھوپ‘‘ پر تبصرہ شائع ہوا ہے۔
مختصر بحر میں آپ کا آسان انداز، سادہ زبان اور بے ساختہ پن تو متأثر کُن ہے ہی لیکن مضمون کی گہرائی اور وسعت بھی چونکا دینے والی ہے۔نیز آپ کا اپنی بات کو کہنے کا انداز جارحانہ نہیں ہے بلکہ ایک گزارش اور درخواست کا رنگ لئے ہوئے ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کتاب کا انتساب ہر اُس وجود کے نام ہے جس نے مصائب اور مشکلات میں صبر اور شکر سے کام لیا۔
اِس مجموعۂ کلام کی چند خوبصورت غزلوں کے منتخب اشعار ہدیۂ قارئین ہیں:

اپنے وطن میں زندگی یوں کر رہے ہیں لوگ
ڈر ڈر کے پاؤں مسجدوں میں دھر رہے ہیں لوگ
کیا دیدنی ہے بے بسی ، کوئی کرے تو کیا
کہ موت کے بغیر اب تو مر رہے ہیں لوگ
……………
ہاتھوں کو نہ ملتے رہیے
سیدھی راہ پہ چلتے رہیے
اَوروں کو بھی جینے دیجیے
خود بھی پھولتے پھلتے رہیے
……………
سوال تو معقول تھے نہ جانے پھر بھی کیوں
ملے تو تلخ تھے بہت جواب زندگی کے
……………
پھیلا کے تھکے ہاتھ ، یہ لب سُوکھ چلے ہیں
ہوتا ہے دُعا میں جو اثر مانگ رہے ہیں
ویسے تو کٹھن ہوتی ہے ہر ایک مسافت
ہے ساتھ جو تیرا تو سفر مانگ رہے ہیں
……………
کب ایسا ہوا غیر کی دشنام پہ روئے
آیا جو ترا نام تو ہم نام پہ روئے
……………
سوائے اشکِ ندامت بصد وفا خیزی
نہیں سُنا کبھی ٹل جاتے ہوں عذاب کے دن
تمہارے دل کو جو لگتی تو جان لیتے تم
کہ کتنے کرب سے کٹتے ہیں اضطراب کے دن
……………
آج سے نہ کَل پرسوں سے
حال یہی ہے برسوں سے
دل تو خون ہی روئے گا
واسطہ ہے بے تَرسوں سے
آس لگائے بیٹھے تھے
عامرؔ تم تو عرصوں سے
………………
عشق ہو اپنی ذات تو پھر
اس میں کیوں کر مات بھی ہو
دستِ دُعا کے ساتھ عامرؔ
آنکھوں سے برسات بھی ہو

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/FSZQz]

اپنا تبصرہ بھیجیں