برصغیر میں صحافت کا آغاز

صحافت کو موجودہ دور میں اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ کے بعد مملکت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ چھاپے کی ایجاد سے قبل صحافت کی موجودگی زیادہ تر سرکاری انصرام کے تحت تھی۔ پہلا مطبوعہ اخبار 1609ء میں جرمنی میں جاری ہوا۔ انگریزی میں پہلا باقاعدہ ہفت روزہ News 1620ء میں جاری کیا گیا۔ فرانس کا پہلا اخبار 1631ء میں اور امریکہ کا پہلا اخبار Public Occurrences بوسٹن سے 1680ء میں جاری ہوا۔
برصغیر میں جہاں باقاعدہ حکومت منومہاراج کے دور میں قائم ہوئی، اشوک کے عہد میں خبروں اور وقائع نویسی کا محکمہ قائم تھا۔ شیرشاہ سوری کے دور میں ڈاک کا اعلیٰ نظام قائم ہوچکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور میں صحافت کی آزادی تھی اور باقاعدہ قلمی اخبار روزانہ جاری ہونا شروع ہوگیا تھا جس آغاز پہلے بادشاہوں کے دور میں ہوچکا تھا۔ اس اخبار کے نسخے کئی امراء کو بھجوائے جاتے تھے۔ قلمی صحافت کی مطبوعہ صحافت میں تبدیلی انگریزوں کی آمد سے شروع ہوئی۔ پہلا مطبوعہ اخبار 29؍جنوری 1780ء کو کلکتہ سے انگریزی زبان میں جاری ہوا جو چار صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کا مالک تھامس ہکی تھا جسے کئی بار لغو الزامات لگانے کے الزام میں قید اور جرمانے کی سزائیں دی گئیں اور بالآخر مارچ 1782ء میں اس کا چھاپہ خانہ ضبط کرلیا گیا۔ دوسرا اخبار ’’انڈیا گزٹ‘‘ دراصل تھامس کے اخبار کے جواب میں نکالا گیا تھا جو پہلے ہفت روزہ تھا لیکن تین سال بعد سہ روزہ اور پھر روزنامہ بن گیا۔ اس کے بعد کلکتہ، مدراس اور بمبئی سے کئی اخبارات کا اجراء ہوا۔ اخبارا ت کے لئے پہلا قانون 1799ء میں حکومت بنگال نے جاری کیا جس کی خلاف ورزی کرنے والے کو واپس یورپ بھجوانے کی سزا دی جانی تھی۔
برصغیر میں صحافت کے آغاز کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍جولائی و 23؍اگست1995ء میں مکرم محمد محمود طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
اردو زبان کو فارسی کی جگہ سرکاری زبان کا درجہ 1830ء میں ملا۔ 1823ء میں فارسی میں شائع ہونے والا اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ پہلا اخبار تھا جس نے اردو ضمیمہ بھی شائع کرنا شروع کیا۔ اردو کا پہلا مکمل اخبار ہفت روزہ ’’دہلی اردو اخبار‘‘ تھا جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے جاری کیا تھا۔ 1857ء کے انقلاب کے بعد اخبار بند کرکے مولوی صاحب کو گولی سے اڑادیا گیا۔ 1837ء میں سرسید احمد خان کے بھائی سید محمد خان نے ہفت روزہ ’’سیدالاخبار‘‘ دہلی سے جاری کیا جو 1850ء میں بند ہوگیا اور اسی سال لاہور سے منشی ہرسکھ رائے نے ’’کوہ نور‘‘ جاری کیا جو 55 سال تک شائع ہوتا رہا۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/i5cG1

اپنا تبصرہ بھیجیں