ایک پاکستانی قادیانی۔ عبدالسلام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مارچ 2011ء میں انگریزی اخبار ’’دی نیشن‘‘ (21 نومبر 2010ء) میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا اردو ترجمہ مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خان صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ یہ مضمون محترم ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب نے تحریر کیا ہے جو ایک ماہر طبیعات ہیں اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ وہ ان دنوں ’’ایک پاکستانی قادیانی‘‘ کے نام سے ڈاکٹر عبدالسلام کی سوانح عمری بھی تحریر کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد کامران صاحب لکھتے ہیں کہ پاکستان کے واحد نوبیل لارئیٹ عبدالسلام نے الیکٹرو میگنیٹک اور کمزور قوتوں کی یونیفیکشن کے سلسلہ میں کام کرنے پر 1979ء کا نوبیل انعام جیتا۔ سلام نے Ph.D. کرنے سے پہلے فزکس اور ریاضی دونوں میں فرسٹ کلاس کے ساتھ ڈبل Tripos(یعنی دو مضمونوں میں آنرز کی ڈگری) کا نادر امتیاز حاصل کیا۔ سلام نے ریاضی میں Tripos کے طالب علم کے طور پر سینٹ جان کالج میں داخلہ لیا تھا۔ 1989ء میں گورنمنٹ کالج کے میگزین ’راوی‘ کے لئے لکھے جانے والے ایک مضمون میں سلام نے کیمبرج یونیورسٹی میں اپنی زندگی کے کچھ گوشے یوں بیان کئے کہ مَیں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔ اے کرنے کے بعد 1946ء میں کیمبرج پہنچا۔ کیمبرج کے کلاس رومز میں طلبا بالکل اسی انداز میں بیٹھتے ہیں جیسے کہ نماز سے پہلے نمازی مسجد میں بیٹھتے ہیں۔ لیکچرار کی آمد سے پہلے مکمل خاموشی ہوتی ہے۔میری کلاس کے دوسرے ساتھی سیدھے سکول سے وہاں داخل ہوئے تھے اور عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے۔ مجھے ان کے برابر خوداعتمادی اور امنگوں کی سطح پر پہنچنے میں دو سال لگے۔ وہ ایسے ماحول سے آئے تھے جہاں تمام اچھے طلباء کو کیمبرج میں بھیجنے سے قبل ہر سکول ٹیچر ان کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ وہ ایسی قوم کے فرزند ہیں جس نے نیوٹن کو جنم دیا تھا اور یہ کہ طبیعات اور ریاضی کا علم ان کی میراث ہے۔ اگر وہ سچی خواہش رکھتے ہوں تو وہ بھی ’نیوٹن‘ بن سکتے ہیں۔
ریاضی Tripos تین سالہ کورس تھا۔ سلام نے پہلا سال فرسٹ کلاس میں پاس کرلیا جبکہ اُن کے کلاس فیلوز کی اکثریت نے تھرڈ ڈویژن حاصل کی۔ اس کی وضاحت سلام کے استاد Wordie نے یوں کی کہ ہم پہلے سال کا امتحان اس قدر مشکل رکھتے ہیں کہ ان طلباء کے درمیان فرق واضح ہو جائے جو واقعی سنجیدہ ہوتے ہیں۔
کیمبرج میں طالب علمی کے پہلے سا ل سلام اپنے ریاضی کے علم کے متعلق مطمئن تھے لیکن اپنے جنرل نالج کے متعلق انہیں اطمینان نہیں تھا۔ اس لئے وہ کافی وقت لائبریری میں گزارتے اور مختلف تہذیبوں کی تاریخ کا مطالعہ کرتے۔ کیمبرج میں دوسرے سال کے دوران سلام اپنے پارٹ ٹو کے امتحان کی تیاری کرتے اور بعض اوقات پارٹ تھری کے لیکچرز میں بھی حاضری دیتے جو اس زمانہ میں سائنسدان Paul dirac دیاکرتے تھے جنہیں 1933ء میں طبیعات میں نوبیل پرائز ملا تھا۔ سلام Dirac (ڈریک) کوآئین سٹائن سے زیادہ بلند مرتبہ قرار دیتے تھے۔ سلام نے 1948ء میں Tripos کے پارٹ ٹو کے امتحان میں فرسٹ کلاس حاصل کی اور اس طرح رینگلر (Wrangler) کے ٹائٹل کے حقدار ہو گئے۔ یہ عظیم Dirac کے ساتھ ربط کا نتیجہ تھا کہ سلام نے سول سرونٹ (سی۔ ایس۔ پی آفیسر) بننے کی خواہش ترک کر دی اور یہ غالباً Dirac کے ساتھ ربط کا ہی نتیجہ تھا جس نے سلام میں طبیعات کے میدان میں آگے بڑھنے کی تمنا پیدا کی۔ سلام نے بیان کیا: 1948ء تک میں نے ریاضی پڑھی۔ اس دوران میں نے Dirac اور Pauli دونوں کے لیکچرز بھی توجہ سے سن لئے تھے اور طبیعات کی طرف میلان بڑھتا گیا۔ 1948ء میں جب میںنے ریاضی کا کورس مکمل کر لیا تو ابھی میرے پاس ایک سال کا سکالرشپ باقی تھا اور مَیں نے تقریباً ارادہ باندھ لیا کہ طبیعات کی تعلیم مکمل کروں گا۔
پھر حتمی فیصلہ کرنے کے لئے سلام نے Fred Hoyle سے مشورہ کیا تو انہوں نے تجرباتی فزکس کا کورس کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ مشورہ ماننے سے سلام نے ایک ایسا چیلنج منظور کرلیا جس میں کم لوگ ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے یعنی ریاضی آنرز میں فرسٹ کلاس حاصل کرنے کے بعد فزکس میں بھی ایک سال میں فرسٹ کلاس حاصل کرنی تھی۔ اگرچہ قبل ازیں بعض ذہین ترین لوگ جیسا کہ G.T.Thomson (نوبیل پرائز 1937ء( اور Neville Mott(نوبیل پرائز 1977ء ) ایک سال میں فزکس میں فقط سیکنڈ کلاس حاصل کر پائے۔ چنانچہ جب Wordie کو معلوم ہوا کہ سلام نے چیلنج قبول کر لیا ہے تو وہ خوشی کے مارے اپنے دونوں ہاتھ ملنے لگا۔
کئی سال بعد سلام نے بیان کیا ’’بخدا یہ بڑا سخت چیلنج تھا۔ Cavendish کی لیبارٹری میں پرانا بلکہ قدیم سازوسامان تھا بلکہ مشہور سائنسدان Ruther-ford کے اپنے سازو سامان کے علاوہ کچھ بھی نہیںتھا اور آپ سے توقع کی جاتی تھی کہ آپ اس سے کام چلالیں گے۔ آپ کو خود شیشے کی ٹیوبیں تیار کرنی پڑتی تھیں اور انہیں سیڑھیوں کے تین زینے اوپرلے جانا پڑتا تھا۔ یہ بڑی اذیّت تھی۔ وہ اس کام کو اذیّت بناناچاہتے تھے اور اس میں کامیاب تھے۔ لیکن سلام فرسٹ کلاس میں کامیاب کیسے ہوئے؟ اُن کے نگران نے انہیں بتایا کہ ’’آپ نے تھیوری کے چھ کے چھ پرچے اتنی عمدگی سے حل کئے ہیں کہ ممتحن حضرات نے آپ کے پریکٹیکل رزلٹ کے متعلق پوچھا تک نہیں…‘‘۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/IHqTr]

اپنا تبصرہ بھیجیں