ایک عرب ماں کی اپنی بیٹی کو نصیحت

ایک دیہاتی عرب ماں امامہ بنت حارث نے اپنی بیٹی کو رخصتی کے وقت یہ نصائح کیں:۔
(ترجمہ) ’’اے میری پیاری بیٹی ! اگر کسی صاحب علم و فضل کو نصیحت کرنے کی ضرورت نہ سمجھی جاتی تو یقینا تیرے فضل و ادب کی بناء پر میں تجھے نصیحت ہرگزنہ کرتی۔ لیکن نصیحت کرنا ایک عقلمندانسان کی یاددہانی کا مو جب ہوتا ہے۔
اگر کسی دوشیزہ کے ماں باپ کی خوشحالی اور ان کا اپنی بیٹی سے انتہائی پیار تقاضا کرتا ہے کہ اسے شادی کرنے کی ضرورت نہیں تو یقینا سب لوگوں سے بڑھ کر تجھے شادی کرنے کی حا جت نہ ہوتی۔ لیکن عورتوں کو مردوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور مردوں کو عورتوں کے لئے۔
اے میری پیاری بیٹی ! تو اس ماحول سے جداہو رہی ہے جس میں تو پیدا ہوئی اور جس گھونسلے میں تو پروان چڑھی ۔ اسے پیچھے چھوڑ کر تو ایک ایسے گھونسلے کی طرف جا رہی ہے جس سے تو ناآشنا ہے اور ایک ایسے ساتھی کے پاس جا رہی ہوجس سے تو مانوس نہیں۔ وہ تیرا مالک بن کر تیرا نگران اور سرتاج بن گیا ہے۔ پس تو اس کی لونڈی بن جانا وہ تمہارا غلام بن جائے گا۔
اے میری پیاری بیٹی!تو مجھ سے چند نصیحتیں پلّے باندھ لے۔ یہ تیرے لئے قیمتی اندوختہ اور باعث شرف ہوں گی۔
٭ خاوند کا ساتھ ہمیشہ قناعت سے دینا۔
٭ خوش دلی سے اس کی بات سننااور اس کا کہا ماننا ہمیشہ تمہاراطرزعمل ہو۔
٭ اس کی نگاہوں کی پسندیدگی کا خیال رکھنا۔
٭ اس کی نفرت و کراہت کے مواقع کا بغورجائزہ لینا۔ تیری کسی بدصورتی پر اس کی نگاہ نہ پڑے۔ اور جسم سے وہ ہمیشہ پاکیزہ خو شبو ہی سونگھے۔
٭ اس کے کھانے کے اوقات کاخاص خیال رکھنا کیونکہ بھوک کی گرمی انسان کو مشتعل کر دیتی ہے-
٭ اس کی نیند و آرام کے دوران ماحول پرسکون رکھنا کیونکہ نیند کا لطف خراب کرنا ناپسندیدگی کا موجب ہوتا ہے۔
٭ اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا۔ اس کی ذات ،اس کے لواحقین، اس کے بچوں کا خیال رکھنا اور ان کی طرف پوری توجہ دینا۔ کیونکہ مال کی حفاظت کرنا تیری بہترین عزت افزائی کا باعث ہوگا اور بچوں اور اس کے متعلقین کی طرف توجہ دینا تیرے حسن انتظام و سلیقہ شعاری پر دلالت کرے گا۔
٭ اس کا بھید یا رازہرگز فاش نہ کرنا کیونکہ اگر تُو نے اس کا راز فاش کیا تو پھر تُو اس کی بے وفائی سے اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھ۔-
٭ اس کے حکم کی نافرنانی نہ کرنا کیونکہ اگر تُو نے اس کی نافرنانی کی تو تُواُس کے سینہ کو غصہ سے بھر دے گی۔
٭ اگر تُو اسے غمزدہ دیکھے تو اس کے سامنے خوشی کے اظہار سے احتراز کر کیونکہ یہ بات تیری کوتاہی سمجھی جائے گی۔ اسی طرح جب وہ خوش ہو تو اُس کے سامنے افسردہ ہو نے سے پرہیز کر۔ کیونکہ اس طرح تو اُس کی خوشی کو بے لطف بنا دے گی۔
٭ تو جتنا زیادہ اس سے اتفاق رائے اور اس کے مزاج سے موافقت اختیار کرے گی اتنا ہی زیادہ وہ تیرا ساتھ دے گا۔ تُو جان لے کہ اپنی پسندیدہ خواہش کو تب ہی پاسکے گی جب تُو اپنی پسند اور ناپسند کو چھوڑ کر اس کی مرضی کو اپنی مرضی پر اور اس کی خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیح دے گی۔
اللہ تعالیٰ تمہارے لئے خیروبرکت کو مقدّر کردے‘‘۔
یہ مختصر مضمون مجلس انصاراللہ کینیڈا کے سہ ماہی ’’نحن انصاراللہ‘‘ جولائی تا ستمبر 2006ء میں روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کی ایک پرانی اشاعت سے منقول ہے-

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/IKaYZ]

اپنا تبصرہ بھیجیں