ایسے سنہری موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے؟

اداریہ:

(محمود احمد ملک- مدیر رسالہ “انصارالدین” یوکے)

جلسہ سالانہ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 27؍دسمبر 1891ء کو منعقد ہونے والے پہلے جلسہ سالانہ میں 75 احباب شامل ہوئے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرفِ مصافحہ بخشا- اور پھر بعد نماز ظہر مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے حضرت اقدسؑ کی تصنیف ’’آسمانی فیصلہ‘‘ پڑھ کر سنائی۔
یہ مختصر سا رسالہ ’’آسمانی فیصلہ‘‘ کیا ہے؟ جو پہلے جلسہ سالانہ کا مکمل پروگرام تھا۔
دراصل اس سے پہلے حضورعلیہ السلام روحانی مقابلوں کا چیلنج غیرمذاہب والوں کو دیا کرتے تھے۔ لیکن اس مضمون میں پہلی مرتبہ آپ علیہ السلام نے مسلمام مکفّر علماء اور اُن کے ہمنواؤں کو بھی اس چیلنج میں شامل کردیا اور فرمایا کہ امور غیبیہ کے اظہار، دعاؤں کی قبولیت اور معارف قرآنی کے انکشاف وغیرہ میں مجھ سے روحانی مقابلہ کرلیں۔ اور پھر اس اجلاس کو مجلس شوریٰ کا رنگ بھی دیا گیا اور مشورہ لیا گیا حضور علیہ السلام کی اس رائے پر کہ لاہور میں ایک انجمن قائم کی جائے جو فریقین کے اس روحانی مقابلہ کا ریکارڈ رکھے۔
پھر ایک اہم بات یہ تھی کہ اس مضمون میں حضور علیہ السلام نے اپنی دعوتِ مباہلہ کو بھی شامل فرمادیا اور تحریر فرمایا کہ اگر ایک سال کے عرصے میں کوئی فریق وفات پاجائے تب بھی وہ مغلوب سمجھا جائےے گا کیونکہ خداتعالیٰ نے اپنے خاص ارادے سے اُس کے کام کو ناتمام رکھا تاکہ اس کا باطل پر ہونا ظاہر کرے۔
پس یہ رسالہ ہم سب کو پڑھنا چاہئے کیونکہ یہ مختصر سا رسالہ ہے جو محض دو گھنٹے میں اُس اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ لیکن اس کا مضمون اتنا اہم ہے کہ بعد میں جب حضور علیہ السلام کا مباحثہ مولوی عبدالحکیم کلانوری سے طے پایا اور اُس نے آپ سے مطالبہ کیا کہ نبوت کی بات بعد میں آئے گی پہلے اپنا مسلمان ہونا ثابت کریں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے مسلمان ہونے کا ثبوت وہ معیار ہیں جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں اور مَیں نے رسالہ “آسمانی فیصلہ” میں بیان کردیئے ہیں۔
اس مضمون میں ایک اہم چیز وہ دعا بھی تھی جو حضور علیہ السلام نے ان الفاظ میں فرمائی کہ ’’ مجھے اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہئے کہ تُو راضی ہو۔‘‘
اس لئے مکرر عرض ہے کہ یہ رسالہ ضرور پڑھیں اور کوشش کریں کہ آئندہ جلسہ سالانہ کے انعقاد سے پہلے دو تین گھنٹے کا وقت نکال کر اسے پڑھ ڈالیں۔
جہاں تک پہلے جلسہ سالانہ کے دلچسپ اعدادوشمار کا تعلق ہے تو اُس وقت دنیابھر کے احمدیوں کی کُل تعداد (رجسٹر بیعت کے مطابق) 285 تھی۔ حاضرین جلسہ کی کل تعداد 75 تھی- جلسہ میں شامل ہونے والوں میں سے بارہ افراد نے اُس روز بیعت کرنے کی سعادت بھی پائی۔ جبکہ بعض بغیر بیعت کئے واپس چلے گئے اور ایک آدھ وہ بدنصیب بھی تھا جو چند سال بعد مُرتد ہوگیا۔
جس سرزمین پر یہ جلسہ منعقد ہوا یعنی قادیان کی اُس زمانہ میں حالت یہ تھی کہ ابتدائی صحابہ کے مطابق نہایت بے رونق بستی تھی۔ بازار خالی پڑے تھے اور سارے بازار سے دو تین روپے کا آٹا یا چار پانچ آنے کا مصالحہ نہیں مل سکتا تھا۔ معمولی ضرورتوں کے لئے بٹالہ جانا پڑتا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اُس زمانے میں چار پانچ آنے ماہوار پر ایک مکان کرایہ پر مل جاتا تھا۔ اور دس بارہ روپے میں مکان بنانے کو زمین بھی مل جاتی تھی۔
پھر مسجد اقصیٰ جہاں جلسہ منعقد ہوا یہاں پہلے سکھوں کی حویلی تھی جو قیدخانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے سات سو روپے میں اسے خرید کر 1876ء میں یہاں مسجد تعمیر کروائی۔ اس کے پہلے امام میاں جان محمد صاحب تھے جو اکثر اکیلے ہی نماز ادا کیا کرتے تھے۔
بہرحال حضورعلیہ السلام نے پہلے جلسہ کے بعد اس جلسہ کو مستقل طور پر ہرسال منعقد کرنے کے بارے میں اشتہار شائع فرمادیا۔ چنانچہ اگلے سال یعنی 1892ء کے جلسہ سالانہ میں 327؍افراد شامل ہوئے۔ حضور علیہ السلام کی زندگی کا یہ واحد جلسہ تھا جو مسجد اقصیٰ میں منعقد نہیں ہوا۔ اس جلسے میں چند تقاریر کے علاوہ مجلس شوریٰ بھی منعقد کی گئی جس میں فیصلے ہوئے کہ یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جائے، قادیان میں اشاعت کے امور کے لئے مطبع کے قیام عمل میں لایا اور ایک اخبار بھی جاری کیاجائے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے فیصلے کئے گئے اور 40؍افراد کی بیعت کے بعد دعا کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
اسی سال جلسہ سالانہ کی غیر معمولی اہمیت اور اغراض و مقاصد کو حضور علیہ السلام نے تفصیل سے بیان فرمایا اور مہمانوں اور میزبانوں کے لئے نہایت اہم ہدایات ارشاد فرمائیں۔جلسہ کی اہمیت کا ذکر ایک موقع پر آپ نے یوں فرمایا:
’’ اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائیدِ حق اوراعلائے کلمۃ اللہ پر بنیاد ہے ۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اوراس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کافعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 341)
اسی طرح فرمایا:
’’ہر یک صاحب جو ا س للہی جلسے کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرعظیم بخشے اور ان پررحم کرے۔ اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے۔ اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔ اور ان کی مرادات کی راہیں ان پرکھول دیوے۔ اور روزِآخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پراس کا فضل ورحم ہے۔ تااختتام سفر ان کے بعد ان کاخلیفہ ہو ‘‘۔ (اشتہار 7؍دسمبر 1892ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 342)
اگلے سال یعنی 1893ء میں اگرچہ جلسہ سالانہ بوجوہ مُلتوی کردینا پڑا۔ تاہم اس سال کی ایک اہم پیش رفت، حضور علیہ السلام کی کتاب ’’شہادۃالقرآن‘‘ کی اشاعت ہے جس میں حضور علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کی عظیم الشان اغراض پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
’’ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلیں کہ اُن کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور اُن کے اندر خداتعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد و تقویٰ اور خداترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمّات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔‘‘
اور پھر اس مضمون کے آخر میں حضور علیہ السلام یہ دعا کرتے ہیں کہ
’’دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دمِ زندگی ہے، کئے جاؤں گا اور دعا یہی ہے کہ خداتالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کرکے اُن کا دل اپنی طرف پھیردے اور تمام شرارتیں اورکینے دلوں سے اُٹھاوے اور باہمی سچی محبت عطا کردے ۔ اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا‘‘۔
جلسہ سالانہ کی تاریخ کا ایک ورق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ملاحظہ فرمائیں کہ:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1907ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے تو جلسہ پر آنے والے مہمان بھی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ رستہ میں لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکریں لگنے کی وجہ سے آپ کی جوتی باربار اُترجاتی اور کوئی مخلص آگے بڑھ کر آپ کو جوتی پہنا دیتا۔ جب باربار ایسا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہوگئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری زندگی ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جو ترقی مقدّر کی ہے وہ اُ س نے ہمیں دکھا دی ہے۔‘‘
(افتتاحی خطاب حضرت مصلح موعودؓ برموقع جلسہ سالانہ مطبوعہ الفضل 8؍دسمبر1958ء)
دلچسپ بات یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کی زندگی کے اس آخری جلسہ سالانہ میں تین ہزار لوگ شامل ہوئے تھے۔
جلسہ سالانہ کے حوالہ سے ایک نہایت ایمان افروز اور روح پرور واقعہ یوں بیان ھوتا ہے کہ حضرت مولوی محمد الیاس خاں (متوفی 1948ء) صوبہ سرحد کے ایک پاک نفس، پیکر صبر و حیا اور صاحب کشف و الہام بزرگ تھے جنہیں 1909ء میں چارسدہ میں سب سے پہلے داخل احمدیت ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ قادیان جلسہ سالانہ پر جاتے ہوئے کوئٹہ میں عموماً آپ کا مختصر قیام ہوتا۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ قادیان جاتے ہوئے جب آپ کوئٹہ میں فروکش ہوئے تو ڈاکٹر عبداللہ صاحب امیر جماعت کوئٹہ نے حضرت مولوی صاحب سے فرمایا کہ کل خطبہ جمعہ آپ دیں اور دوستوں کو قادیان جلسہ سالانہ پر جانے کی تلقین کریں۔ کیونکہ گزشتہ سال کے زلزلہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دوست مالی تنگی کی وجہ سے کم جائیں گے۔
چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے خطبہ میں دیگر امور کے علاوہ جلسہ سالانہ پر جانے کے لئے ایسے زور دار الفاظ میں تحریک فرمائی کہ جس سے احباب جماعت کے دلوں میں جلسہ سالانہ پر جانے کا جوش پیدا ہوا اور کافی دوست جلسہ سالانہ پر گئے۔ یہ خطبہ آپ کے تعلق باللہ کی بھی شاندار مثال ہے۔ آپ نے فرمایا:
محمد الیاس کو چند اہم امور درپیش تھے۔ بہت دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری دعا قبول ہو گی مگر تین شرطوں کے ساتھ۔ پہلی یہ کہ تم بیس ہزار احمدیوں کو بلاؤ اور تین دن کی ان کی دعوت کرو، رہائش کا انتظام کرو۔ دوسری یہ کہ صحابہ کرام کو بلاؤ، وہ بھی آئیں۔ اور تیسری یہ کہ خلیفہ وقت کو بھی بلاؤ اور ان سب سے عرض کرو کہ تمہارے لئے رو رو کر دعا کریں۔
میں نے اپنے خدا سے عرض کی میری حقیر حیثیت کوتُو خوب جانتا ہے۔ میں تو تین آدمیوں کو تین دن بھی کھانا نہیں دے سکتا اور نہ رہائش کا انتظام کر سکتا ہوں۔ پھر میری حیثیت کیا ہے کہ میں بیس ہزار احمدیوں کو بلاؤں۔ جواب میں لوگ کہیں گے ہمیں فرصت نہیں۔ پھر صحابہ کرام اور خلیفہ ٔ وقت کی خدمت میں کیسے عرض کروں کہ میرے یہ اہم کام ہیں؟ آپ ان امور کی انجام دہی کیلئے رو رو کر خدا سے میرے لئے دعا کریں۔ ممکن ہے جن امور کو میں اہم سمجھتا ہوں وہ ان کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوں۔ مَیں اللہ تعالیٰ کے حضور بہت رویا کہ اے اللہ یہ شرائط بہت سخت ہیں…
یہ شرائط میری وسعت سے باہر ہیں، مجھ پر رحم فرما۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد الیاس! یہ سب انتظام میں نے تمہارے لئے کر دیا ہے۔ تم قادیان جلسہ سالانہ پر جاؤ۔ وہاں بیس ہزار احمدی بھی آئیں گے۔صحابہ کرام بھی آئیں گے، خلیفۂ وقت بھی موجود ہو گا۔ ان کی خوراک اور رہائش کا انتظام بھی میں کروں گا۔ جلسہ سالانہ کی افتتاحی اور اختتامی دعا میں جب جلسہ سالانہ کے تمام احباب مع خلیفۂ وقت روئیں گے، تم بھی رونا اور اپنا مدعا پیش کرنا ،میں قبول کروں گا۔
پھر آپ نے فرمایا: میں احباب جماعت سے پوچھتا ہوں۔ کیا یہ سودا مہنگا ہے؟ کیا تم لوگوں کی کوئی ضروریات نہیں ہیں اور تم ہر چیز سے بے نیاز ہو؟ اٹھو اور جلسہ سالانہ پر جانے کی تیاری کرو کہ یہ وقت پھر ایک سال بعد ہاتھ آئے گا۔ کس کو پتا اس وقت کون زندہ ہو گا؟ ایسے سنہری موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ (’’حیات الیاس‘‘ صفحہ 87-85 )
انٹرنیشنل جلسہ سالانہ برطانیہ میں یوکے اور خصوصا اسلام آباد اور لندن ریجنز کے احمدیوں کی حیثیت ایک میزبان کی سی ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ پر مہمانوں کے لئے قربانی کے جو نمونے قائم فرمائے ہیں وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔ چونکہ شروع کے چند سالوں میں جلسہ سالانہ کا باقاعدہ کوئی چندہ شروع نہیں ہوا تھا اس لئے بہت سے اقتصادی مسائل ہمیشہ درپیش رہتے، چنانچہ لنگرخانہ کے اخراجات کے لئے حضرت امّاں جان کا زیور پیش کرنا ایک تاریخ احمدیت کا ایک سنہری ورق ہے- اسی طرح یہ روایت بھی کہ ایک سال جب سرمائی بستروں کی کمی تھی۔ نبی بخش نمبر دار نے حضرت اقدس (مسیح موعود ؑ) سے بستر منگواکر مہمانوں کو دینے شروع کئے ۔ ان بستروں میں حضرت اقدسؑ کا اپنا بستر بھی شامل تھا۔ چنانچہ رات گئے جب اس بات کا علم ہوا تو حضور کے لیے ایک بستر لایا گیا۔ لیکن حضورؑ نے فرمایا یہ کسی دوست کو دے دو اور باوجود اصرار کے حضور نے وہ بستر نہ لیا۔ میرا کیا ہے مجھے تو اکثر رات کو نیند نہیں آتی۔ سردی کی وہ رات حضور نے اس طرح گزاری کہ ایک صاحبزادہ پر، جو غالباً حضرت مصلح موعودؓ تھے، ایک شتری چوغہ اوڑھایا ہوا تھا، اور خود حضور بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے تھے اور اس طرح وہ رات گزر گئی۔ (مضامین مظہر)
بہرحال جلسہ سالانہ کی آمد کے وقت میزبانی کا لطف وہی محسوس کرسکتا ہے جو اپنے آقا کے پاک اسوہ کو پیش نظر رکھتا ہے-
پس عزیزان کرام! آئیے کہ اس جلسہ میں شامل ہوکر ان برکات کو سمیٹنے کی کوشش کریں جو اس جلسہ کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہیں- اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے- خداتعالیٰ کرے کہ سالانہ جلسوں میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والا ہر احمدی اس مقدس اجتماع کی غرض غایت پورا کرنے والا ہو۔ آمین

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Uym8F]

اپنا تبصرہ بھیجیں