آنحضرت ﷺ کی ہمدردیٔ مخلوق

آنحضورﷺ نے اپنی جامع اور خوبصورت تعلیم کے ذریعہ بنی نوع انسان کی سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ ہرانسان کی جان،مال اور عزت کی حرمت قائم فرمادی۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے سالانہ نمبر 2011ء میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے لَوث ہمدردیٔ مخلوق کے بارہ میں مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام نبیوں کا سردار اور آپؐ کی امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔ اس بلند مقام اور منصب کا سب سے بڑا تقاضا خدمت ہے۔ چنانچہ فرمایا: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ (سورۃآل عمران:111)
٭ آنحضورؐ نے فرمایا ہے کہ دین تو خیر خواہی کا نام ہے۔ آپؐ سے پوچھا گیا کس چیز کی خیر خواہی؟ آپؐ نے فرمایا اللہ، اس کی کتاب ،اس کے رسول، مسلمان پیشواؤں اور ان کے عوام الناس کی خیرخواہی۔
٭ اسی طرح فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی ہاتھ زبان وغیرہ سے دوسرے سب لوگ محفوظ ہوں۔
٭ ایک دوسری روایت میں ہے مومن وہ ہے جس سے دوسرے تمام انسان امن میں رہیں۔
٭ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ کون لوگ اللہ کو سب سے پیارے ہیں؟ اور کون سے اعمال اللہ کو زیادہ محبوب ہیں؟ رسول کریمؐ نے فرمایا ’’اللہ کو سب سے پیارے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اللہ کو سب سے پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرے یا اس کی تکلیف دورکرے یا اس کا قرض ادا کردے یا اس کی بھوک دورکرے‘‘۔ پھر فرمایا: ’’ اگر میں خود ایک مسلمان بھائی کے ساتھ مل کر اس کی ضرورت پوری کروں تو یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس بات کے کہ میں مدینہ کی اس مسجد میں ایک ماہ تک اعتکاف کروں۔ اور جو شخص اپنے غصہ کوروکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جو شخص اپنے غصہ کو دبالیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو وہ اپنی من مانی کرسکتا تھا۔ اللہ اس شخص کا دل قیامت کے دن اُمید سے بھردے گا اور جو شخص اپنے بھائی کے ساتھ ضرورت پوری کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے اور اس کا کام کرکے دَم لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثابت قدم رکھے گا جس دن کہ تمام قدم ڈگمگارہے ہوںگے‘‘۔
٭ حدیث میں ہے کہ ’’فرائض کے بعد سب سے پسندیدہ عمل ایک مسلمان بھائی کو خوش کرنا ہے‘‘۔ نیز فرمایا کہ ’’ جو شخص مسلمان بھائی سے اس لئے ملتا ہے کہ وہ اسے خوش کرے تو اللہ قیامت کے دن اسے خوش کرے گا‘‘۔
٭ رسول کریم ؐ فرماتے تھے کہ جب بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے اورجو کسی مسلمان بھائی کی کوئی تکلیف دُور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس سے قیامت کے روزکی تکلیف دُور کرے گا۔اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی ستر پوشی فرمائے گا۔
٭ آپؐ چھوٹی عمر سے ہی مخلوق خدا سے محبت رکھتے اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔ بعثت سے قبل آپؐ معاہدہ حلف الفضول میں شریک ہوئے تھے جس کا بنیادی مقصد مظلوموں کی امداد تھا۔آپؐ نے فرمایا کہ ’’اس معاہدہ میں شرکت کی خوشی مجھے اونٹوں کی دولت سے بڑھ کر ہے اور آج بھی مجھے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر مدد کے لئے بلایا جائے تو مَیں ضرور مدد کروں گا۔‘‘
٭ حضرت خدیجہؓ نے پہلی وحی پر رسول کریمؐ کے اخلاق پر جو گواہی دی وہ آپؐ کی ہمدردیٔ خلق سے عبارت ہے۔ انہوں نے عرض کیا: خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا آپؐ تو رشتہ داروں کے حق ادا کرتے ہیں، غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، دنیا سے ناپید اخلاق اور نیکیاں قائم کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حقیقی مصائب میں مدد کرتے ہیں۔
٭ ایک اجنبی ’الاراشی‘سے ابوجہل نے اونٹ خریدا لیکن قیمت کی ادائیگی میں پس و پیش کرنے لگا۔ اراشی قریش کے مجمع میں آکر مدد کا طالب ہوا اور کہا کہ میں اجنبی مسافر ہوں۔ کوئی ہے جو ابوجہل سے مجھے میرا حق دلائے؟ سردارانِ قریش نے ازراہ تمسخر رسول کریمؐ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص تمہیں حق دلا سکتا ہے۔ اراشی رسول اللہؐ کے پاس جاکر دعائیں دیتے ہوئے کہنے لگا کہ آپؐ ابوجہل کے خلاف میری مدد کریں۔ رسول کریمؐ اس کے ساتھ چل پڑے۔ سرداران قریش نے اپنا ایک آدمی پیچھے بھجوایا تا کہ دیکھے ابوجہل آپؐ کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ رسول کریمؐ نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے پوچھا کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا میں محمد ہوں۔ باہر آئو۔ آپؐ کو دیکھ کر ابوجہل کا رنگ فق ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: اس شخص کا حق اسے دو۔ وہ بولا: اچھا۔ آپؐ نے فرمایا: میں یہاںسے واپس نہیں جائوں گاجب تک اس کا حق ادا نہ ہو جائے۔ ابوجہل اندر گیا اور اس شخص کی رقم لاکر اسے دے دی۔ تب آپؐ واپس تشریف لائے۔ ادھر اراشی نے واپس آکر سردارانِ قریش کی مجلس میں کہا کہ اللہ محمدؐ کو جزائے خیر دے اس نے مجھے میرا مال دلوادیا ہے۔اتنے میں قریش کا بھجوایا ہوا آدمی بھی آگیا اور کہنے لگاآج مَیں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا ہے کہ ادھر محمدؐ نے ابوجہل کو اراشی کا حق دینے کو کہا اور ادھر اُس نے فوراً رقم لا کر ادا کر دی۔ تھوڑی دیر میں ابوجہل بھی اس مجلس میںآگیا۔ سب اس سے پوچھنے لگے کہ تمہیںہو کیا گیا تھا؟ ابوجہل نے کہا کہ جونہی میں نے محمدؐ کی آواز سنی، مجھ پر سخت رعب طاری ہو گیا۔ پھرجب مَیں باہر آیاتوکیا دیکھا کہ محمدؐ کے سر کے پاس خونخوار اُونٹ ہے۔اگر میں انکار کرتا تو وہ اُونٹ مجھے چیرپھاڑ کر رکھ دیتا۔
٭ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عرفات کی شام اپنی اُمّت کے لئے بخشش کی دعا کی۔ آپؐ کو جواب ملا کہ میں نے تیری امّت کو بخش دیا سوائے ظالم کے۔ظالم سے مظلوم کا بدلہ لیا جائے گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا اے میرے ربّ! اگر تُو چاہے تو (یہ بھی تو کر سکتا ہے کہ) مظلوم کو (مظلومیت کے بدلہ میں) جنت دیدے اور ظالم کو (اس کا ظلم) بخش دے۔ اُس شام تو آپؐ کو اس دعا کا کوئی جواب نہ ملا مگر مزدلفہ میں صبح کے وقت آپؐ نے پھر یہ دعا کی تو آپؐ کی دعا شرف قبول پاگئی۔ اس پر آپؐ (خوش ہوکر) مسکرانے لگے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ ؐ پر قربان ہوںآپؐ کس بات پر مسکرائے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپؐ کو ہمیشہ (خوش و خرم) ہنستا مسکراتا ہی رکھے۔ آپؐنے فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ پتہ چلا کہ اللہ نے میری دعاسن لی ہے اور میری امّت کو بخش دیا ہے تووہ مٹی لے کر اپنے سر میں ڈالنے لگا اور اپنی ہلاکت و تباہی کی دعائیں کرنے لگا۔ اُس کی گھبراہٹ کا یہ عالم دیکھ کر مجھ سے ہنسی ضبط نہ ہوسکی۔
٭ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم ؐ میرے پاس سے گئے تومزاج خوشگوارتھا، واپس آئے تو غمگین تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپؐ میرے پاس سے گئے تو ہشاش بشاش تھے واپس آئے تو غمگین ہیں۔ آپؐ نے فرمایا مَیں کعبہ کے اندر گیا تھا مگر اب افسوس ہورہا ہے کہ کاش ایسا نہ کیا ہوتا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ مَیں نے اپنے بعد اپنی امّت کو (اس فعل کے ذریعہ سے) مشقّت میں نہ ڈال دیا ہو۔یعنی اگر سب امّتی بھی کعبہ کے اندر جانے کی خواہش کریں گے تو اُن کی کثرت کے باعث یہ خواہش پوری ہونی مشکل ہوجائے گی۔
٭ اسی طرح رسول کریمؐ فرماتے تھے کہ اگر امّت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے کا حکم دیتا۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ اگر امّت پر گراں خیال نہ کرتا تو انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔
٭ آپؐ فرماتے تھے کہ میں نماز کے دوران بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوںتو نماز مختصر کردیتا ہوں کہ اس کی ماں کے لئے باعث تکلیف و پریشانی نہ ہو۔
٭ مہاجرین حبشہ جب مدینہ آئے تو نبی کریمؐ نے ایک روز اُن سے حبشہ کی کوئی دلچسپ بات سنانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ ایک نوجوان نے یہ قصہ سنایا کہ ایک دفعہ حبشہ میں ایک بڑھیا کا ہمارے پاس سے گزرہوا جس کے سر پر پانی کا ایک مٹکا تھا۔وہ ایک بچے کے پاس سے گزری تو اس نے اسے دھکا دیا اور وہ گھٹنوں کے بل آگری۔ مٹکا ٹوٹ گیا۔ بڑھیا اُٹھی اور اُس بچے کو کہنے لگی: اے دھوکے باز بدبخت! تجھے جلد اپنے کئے کا انجام معلوم ہوجائے گاجب اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر جلوہ افروز ہوگا اورفیصلہ کے دن پہلوں اور پچھلوں سب کو جمع کرے گا۔ ہاتھ اور پائوں جو کچھ کرتے تھے خودگواہی دیں گے۔ تب تمہیں میرے اور اپنے معاملے کا صحیح علم ہوگا۔ رسول اللہؐ نے جوشِ ہمدردی سے فرمایا: ’’اس بڑھیا نے سچ کہا۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے برکت بخشے اور پاک کرے جس کے کمزوروں کو طاقتوروں سے اُن کے حق دلائے نہیں جاتے‘‘۔
٭ کسی بھی سائل یا حاجتمندکے بارہ میں رسول کریمؐ کی اصولی ہدایت تھی کہ میرے تک مستحقین کی سفارش پہنچادیا کرو تمہیںاس کا اجر ملے گا، باقی اللہ جو چاہے گااپنے رسول کی زبان پر اس ضرورتمند کے بارہ میں فیصلہ فرمائے گا۔
٭ ایک دن ایک غریب آدمی مسجدمیں آیا۔ آنحضورؐ نے تحریک فرمائی کہ لوگ کچھ کپڑے صدقہ کریں۔ لوگوں نے کپڑے پیش کر دیئے۔ رسول اللہ نے دوچادریں اُس غریب کو دے دیں۔ حسب ضرورت آپؐ نے پھر صدقہ کی تحریک فرمائی تو وہی غریب اٹھا اوردو میں سے ایک چادر صدقہ میں پیش کردی۔ اس پر آپؐ نے اسے بآواز بلند فرمایا کہ اپنا کپڑا واپس لے لو۔
٭ ایک شخص نے پھلوں کے کاروبار میں بہت نقصان اُٹھایا کہ قرض بہت زیادہ ہو گیا۔ نبی کریمؐ نے اس کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔ لوگوں نے صدقہ دیا مگر جتنا قرض تھا اتنی رقم اکٹھی نہ ہو سکی۔ آپؐ نے قرض خواہوں کو فرمایاکہ جو ملتا ہے لے لو، باقی چھوڑ دواور معاف کردو۔
٭ حضرت معاویہؓ بن حکم کی ایک لونڈی اُن کی بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن بھیڑیا اُس کے ریوڑ پر حملہ کرکے ایک بکری اُٹھا کر لے گیا۔ معاویہؓ نے غصے میں آکر اس لونڈی کو ایک تھپڑ رسید کردیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپؐ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ معاویہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مَیں اُسے آزاد نہ کردوں؟ آپؐ نے فرمایا اُسے میرے پاس لے آئو۔ جب وہ آئی توآپؐ نے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اُس نے کہا آسمان میں۔ آپؐ نے فرمایا مَیں کون ہوں؟ اُس نے کہا آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: یہ مومن عورت ہے اسے آزاد کردو۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے دس درہم آئے۔ آپؐ نے چار درہم میں ایک قمیص خریدلیا۔ اُسے پہنا تو ایک انصاری نے عرض کیا یہ مجھے عطاکردیں اللہ آپؐ کو جنت کے لباس عطافرمائے۔ آپؐ نے وہ قمیص اسے دیدیا۔ پھر آپؐ نے چار درہم میں ایک اَور قمیص خریدا۔ راستہ میں آپؐ کو ایک لَونڈی ملی جو رورہی تھی۔ آپؐ نے سبب پوچھا تو وہ بولی کہ گھر والوں نے مجھے دو درہم کا آٹا خریدنے بھیجا تھا وہ درہم گم ہو گئے ہیں۔ آپؐ نے باقی بچے ہوئے دو درہم اس کو دے دیئے۔ جب آپؐ جانے لگے تو وہ پھر رو پڑی۔ آپؐ نے پوچھا کہ اب کیوں روتی ہو؟ وہ کہنے لگی مجھے ڈر ہے کہ گھر والے مجھے تاخیر ہوجانے کے سبب ماریں گے۔ رسول کریم ؐ اس کے ساتھ ہولئے اور اس کے مالکوں کو جاکر کہا کہ اس لونڈی کو ڈر تھا کہ تم لوگ اسے مارو گے۔ اُس کا مالک کہنے لگا یا رسول اللہؐ! آپ کے قدم رنجہ فرمانے کی وجہ سے میں آج اسے آزاد کرتا ہوں۔ رسول کریم ؐ نے اُسے نیک انجام کی بشارت دی اور فرمایا: ’’اللہ نے ہمارے دس درہموں میں کتنی برکت ڈالی کہ ایک قمیص انصاری کو ملا۔ ایک قمیص خدا کے نبیؐ کو عطا ہوا اور ایک غلام بھی اس میں آزاد ہوگیا۔ میں اُس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ سب کچھ عطا فرمایا‘‘۔
٭ آپؐ فرماتے تھے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سلامت رہیں۔
٭ رسول کریمؐ کوامت کے کمزور طبقہ کا اتنا خیال تھا کہ قربانی کی عید پر دو موٹے تازے مینڈھے خریدتے۔ ایک اپنی امّت کے ہر اس فرد کی طرف سے ذبح کرتے جو توحید اوررسالت کی گواہی دیتا ہے، دوسرا مینڈھا اپنے اہل خاندان کی طرف سے ذبح فرماتے۔
٭ ایک غریب شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ! مَیں تو مارا گیا۔ ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کربیٹھا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: ایک گردن آزادکردو۔ کہنے لگا،مجھے اس کی توفیق کہاں!۔ فرمایا: پھر مسلسل دو مہینے کے روزے رکھو۔ کہنے لگا مجھے اس کی بھی طاقت نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔ اس نے کہا یہ سب میری استطاعت سے باہر ہے۔ دریں اثناء کھجوروں کی ایک ٹوکری رسول اللہ کی خدمت میں پیش کی گئی۔ آپؐ نے اس مفلوک الحال سائل کو بلوایا اور وہ ٹوکری اس کے حوالے کر کے فرمایا یہ صدقہ کردو۔ وہ بولا مدینہ کی بستی میں ہم سے غریب اَور کون ہے جس پر یہ صدقہ کروں۔ رسول کریمؐ اُس کے اِس جواب پر خوب مسکرائے اور فرمایا اچھا پھر یہ کھجوریں خود ہی لے لو۔
٭ ایک بار رسول اللہ کی خدمت میں ایک غریب قوم (مضر قبیلہ) کے کچھ لوگ آئے جو ننگے پائوں اور ننگے بدن تھے۔ ان کی بھوک اور افلاس کی حالت دیکھ کر رسولؐ اللہ کاچہرہ متغیر ہوگیا۔آپؐ گھر تشریف لے گئے۔ پھر باہر آکر بلالؓ سے کہا کہ ظہرکی اذان دو۔ آپؐ نے نماز کے بعد خطبہ ارشاد فرمایااور اُن کے لئے صدقہ کی تحریک فرمائی۔ لوگوں نے دینار، درہم، کپڑے ، جَواورکھجور وغیرہ صدقہ کیا یہاں تک کہ غلّے کے دو ڈھیر جمع ہوگئے۔ جنہیں دیکھ کر آپؐ کا چہرہ خوشی سے دمک اُٹھا۔
٭ نبی کریم ﷺغرباء کی عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ ہر کمزور اور ضعیف آدمی جنتی ہے۔ آپؐ یہ بھی فرماتے کہ وہ دعوت بہت بری ہے جس میں صرف امراء کو بلایا جائے اور غربا ء کو شامل نہ کیا جائے۔ ایک روز نماز کے لئے جاتے ہوئے آپؐ ایک غلام بچے کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کی کھال اتاررہا تھا۔ آپؐ نے اسے فرمایا تم ایک طرف ہوجائو میں تمہیں کھال اُتارنے کا طریقہ بتاتا ہوں ۔تب آپؐ نے اپنا بازو جلد اور گوشت کے درمیان داخل کیا اور اس کو دبایا یہاں تک کہ بازو کندھے تک کھال کے اندر چلاگیا۔پھر آپؐ نے فرمایا کہ اے بچے! کھال اس طرح اتارتے ہیں۔ پھر آپؐ نے جاکر نماز پڑھائی جبکہ دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔
٭ حضرت ربیعۃ الاسلمیؓ کہتے ہیں مَیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ایک روز آپؐ نے پوچھا کہ ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک تو مجھے بیوی کے نان و نفقہ کی توفیق نہیں اور دوسرے مَیں یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اورمصروفیت مجھے آپؐ کی خدمت سے محروم کردے۔ آپؐ خاموش ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر فرمایا: ربیعہ! شادی کیوں نہیں کرلیتے۔ مَیں نے وہی پہلے والا جواب دیا مگر اس وقت میں نے اپنے دل میں سوچا کہ آپؐ دنیا اور آخرت کے مصالح مجھ سے بہتر جانتے ہیں اس لئے اب اگرآئندہ مجھ سے شادی کے بارہ میں پوچھا تو میں کہہ دوں گا کہ حضور کا حکم سر آنکھوں پر۔ اگلی مرتبہ جب حضورؐ نے شادی کے بارہ میں تحریک فرمائی تو مَیں نے کہہ دیا کہ جیسے حضوؐر کا حکم ہو۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم انصار کے فلاں قبیلہ کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ رسول اللہ ؐنے مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی فلاں لڑکی کی مجھ سے شادی کردیں۔ میں نے ایسے ہی کیا۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ؐ اور آپؐ کے نمائندے کو خوش آمدید! … انہوں نے میری شادی کردی اور بڑی محبت سے پیش آئے۔ کوئی تصدیق وغیرہ طلب نہ کی کہ واقعی تمہیں رسول اللہؐ نے ہی بھیجا ہے۔ میں رسول کریمؐ کی خدمت میں واپس لَوٹا تو غمزدہ سا تھا۔ آپؐ نے فرمایا ربیعہ تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا یا رسول اللہؐ میں ایک معزز قوم کے پا س گیا۔ انہوں نے میری شادی کی۔ عزت افزائی اور محبت کا سلوک کیا اور مجھ سے کوئی ثبوت تک نہ مانگا۔ اِدھرمیرا حال یہ کہ میرے پاس تو مہر ادا کرنے کو بھی پیسے نہیں۔آنحضورؐ نے بُریدہؓ اسلمی کو حکم دیا کہ حق مہر کے لئے گٹھلی برابرسونا جمع کرو۔ انہوں نے تعمیلِ ارشاد کی۔ آنحضورؐ نے فرمایا اب ان لوگوں کے پاس جاؤاور یہ مہر ادا کردو۔ مَیں نے ایسا ہی کیا ۔ انہوں نے بہت خوشی سے اسے قبول کیا اور کہا کہ یہ رقم بہت کافی ہے۔ میں پھر رسولؐ اللہ کی خدمت میں پریشان ہوکرواپس لوٹا۔ آپؐ نے فرمایا ربیعہ اب کیوں پریشان ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس خاندان جیسے معزز لوگ میں نے نہیں دیکھے۔ میں نے انہیں جو مہر دیا انہوں نے خوشی سے قبول کیا اور مجھ سے احسان کا سلوک کیا مگر میرے پاس اب ولیمے کی توفیق نہیں۔ آپؐ نے پھر بریدہؓ سے فرمایا اس کے لئے بکری کا انتظام کرو۔انہوں نے میرے لئے ایک بڑے صحتمند مینڈھے کا انتظام کردیا۔ رسول اللہ نے فرمایا عائشہ کے پاس جائو اورانہیں کہو کہ غلے کا ایک ٹوکرا دے دیں۔میں نے حسبِ ارشاد جاکر عرض کر دیا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا یہ ٹوکرا ہے جس میں (نو صاع تقریباً 30کلو) جَو ہیں۔خدا کی قسم! ہمارے گھر میں فی الوقت اس کے علاوہ اور کوئی غلّہ نہیں، بس تم لے جائو۔ مَیں یہ لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عائشہؓ نے جو کہا تھا وہ بھی عرض کردیا۔ آپؐ نے فرمایا اب یہ غلّہ اپنے سسرال لے جائو اور انہیں کہو کہ کل اس سے روٹی وغیرہ بنائیں۔ میں غلہ اور مینڈھا لے کر گیا اور میرے ساتھ اسلم قبیلے کے کچھ لوگ بھی تھے۔ ہم نے انہیں کھانا تیار کرنے کے لئے کہا۔ وہ کہنے لگے کہ روٹی ہم تیار کروا دیں گے، جانور آپ لوگ ذبح کرلیں۔ چنانچہ ہم نے گوشت تیار کر کے پکایا اور اگلی صبح مَیں نے گوشت روٹی سے ولیمہ کیا اور رسول اللہ کو بھی دعوت دی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آنحضورﷺ نے مجھے کچھ زمین عطا فرمادی۔ کچھ زمین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دے دی پھر تو فراخی ہوگئی۔
٭ نبی کریمؐ کبھی کسی سائل کو ردّ نہ فرماتے اور حسبِ توفیق و موقع جو میّسرہوتاعطافرماتے۔ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! میں اپنی بیٹی کی شادی کررہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپؐ مجھے کچھ عطا فرمائیں۔ آپؐ نے فرمایا ’’سردست تو میرے پاس کچھ نہیں البتہ کل ایک کشادہ منہ والی شیشی اور ایک درخت کی شاخ بھی لے آنا۔ اگلے روز وہ شخص یہ دونوں چیزیں لے کرآیا۔ نبی کریمؐ اپنے بازوئوں سے پسینہ جمع کر کے اس شیشی میں اکٹھا کرنے لگے یہاں تک کہ وہ شیشی بھر گئی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ یہ لے جائو اور اپنی بیٹی سے کہنا کہ جب خوشبو لگانا چاہے تو یہ شاخ شیشی میں ڈال کر اس سے خوشبو استعمال کرلے۔ چنانچہ وہ گھرانہ جب یہ خوشبو استعمال کرتا تو اہل مدینہ اسے بہترین خوشبو قراردیتے۔ یہاں تک کہ اس گھرانے کا نام ہی ’’بہترین خوشبووالوں کا گھر‘‘ پڑگیا۔
٭ رسول کریمؐ نے ایک دفعہ ایک حدیث قدسی بیان فرمائی جس سے خلقِ خدا سے ہمدردی کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ فرمایا’’اللہ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم! مَیں بیمار تھا، تُو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا اے میرے ربّ! مَیںکیسے تیری عیادت کرتا تُوتو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ اللہ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمارتھا اور تُو نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ اگر تم اس کی عیادت کرتے تو مجھے اس کے پاس موجود پاتے۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تُو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ کہے گا اے میرے ربّ میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا اورتُو تو ربّ العالمین ہے۔ اللہ فرمائے گا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تُو اُسے کھانا کھلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔ اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا تُونے مجھے پانی نہ دیا۔ بندہ کہے گا میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تُو ربّ العالمین ہے۔ اللہ فرمائے گا تجھ سے میرے ایک بندے نے پانی مانگا تھا تُو نے اسے پانی نہ پلایا۔ اگر تُو اُسے پانی پلاتا تو اللہ کو وہاں موجود پاتا۔
٭ رسول کریم ﷺ خدمت خلق کے کاموں میں اپنے اصحاب کا جائزہ لیتے رہتے تھے تاکہ اُن میں یہ جذبہ بڑھے۔ایک روز آپؐ نے پوچھا: آج تم میں سے کسی نے روزہ رکھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اثبات میں جواب دیا۔آپؐ نے فرمایا: آج تم میں سے مریض کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا جی۔ پھر فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کے جنازہ میں کسی نے شرکت کی؟ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ مجھے توفیق ملی۔ رسول کریمؐ نے پوچھا آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا؟۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: انہیں یہ سعادت بھی ملی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ’’یہ سب باتیں جس نے ایک دن میں جمع کرلیں وہ جنّت میں داخل ہوا‘‘۔
٭ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺخود ایک یتیم تھے مگر لاوارث یتامیٰ و ایامیٰ کے والی اور محافظ بن کر آئے تھے۔ آپؐ نے قرآنی تعلیم کے ذریعہ ان کے حقوق نہ صرف قائم کئے بلکہ معاشرہ سے دلوا کر دکھائے۔ آپؐ نے فرمایاکہ ’’بیوگان اور مسکین کے لئے کوشش اور خدمت میں لگا رہنے والا اللہ کی راہ میں جہادکرنے والے اور اس عبادتگزار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا‘‘۔ آپؐ نے اُحد میں زخمی ہوکر شہید ہونے والے ابوسلمہؓ کی بیوہ سے نکاح کر کے جہاں قومی ضرورت کے تقاضے پورے کئے وہاں اُن کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال بھی رکھا۔ آپؐ خود اُن کے یتیم بچے سلمہؓ کو دستر خوان پر اپنے پاس بٹھاکر کھانا کھلاتے ا ور اس کو آداب سکھاتے۔
٭ حضرت عبداللہ ؓبن مسعود کی بیوی حضرت زینب ؓ نے پوچھوایا کہ کیا مَیں اپنے مرحوم شوہر کے زیرپرورش بچوں پر صدقہ کرسکتی ہوں ؟رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں تو اس کادوہرا اجر ہوگا۔ ایک قرابت دار یتیم بچوں سے حسن سلوک کا اور دوسرے صدقہ کرنے کا ۔
٭ حضرت بشیرؓ بن عقربہ جہنی کے والد اُحد میں شہید ہوگئے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲؐ سے اپنے والد کے بارہ میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایاوہ شہید ہوگئے ہیں، …۔ مَیں یہ سن کر رونے لگا۔ اس پر آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھایا اور فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میں تمہاراباپ ہوں گا اور عائشہ تمہاری ماں۔
٭ غزوہ اُحد کے ایک شہید حضرت سعدؓ بن ربیع نے دو بچیاں چھوڑیں۔ وہ صاحبِ جائیداد تھے۔ ابھی ورثہ کے احکام نہیں اترے تھے اس لئے پرانے رواج کے مطابق بچیوں کے چچا نے بھائی کی جائیداد سنبھال لی۔ تب میراث کی آیات اتریں تو رسول کریم ﷺ نے ان یتیم بچیوں کے چچا کو بلوا کر ان احکام سے آگاہ کیا اور حضرت سعدؓ کی دونوں بیٹیوں کو تیسرا تیسرا حصہ اور اُن کی بیوہ کو آٹھواں حصہ دینے کی ہدایت فرمائی۔
٭ امّ المومنین حضرت زینبؓ کے بھائی حضرت عبداللہؓ بن جحش نے میدانِ احد میں شہادت کی دعا کی تھی جو قبول ہوئی اور وہ جوانی میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نسبتی بھائی کے مال و اولاد کی نگرانی خودسنبھال لی اور ان کے یتیم بیٹے محمد کے لئے خیبر میں زرعی اراضی خریدنے کا اہتمام فرمایا ۔
٭ حضرت حمزہؓ کی بیٹی فاطمہ مکّہ میں رہ گئی تھی۔ فتح مکّہ کے موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھائی بھائی کہتے ہوئے حاضر خدمت ہوئی۔ چونکہ یتیم بچی کی شادی نہ ہونے تک اس کی کفالت کی ذمہ داری ادا کرنی لازم ہے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت جعفرؓ کی خواہش تھی کہ اپنی اس چچا زاد بہن کی کفالت کا حق وہ ادا کریں۔ جبکہ حضرت زیدؓ نے بھی (جن کی مؤاخات حضرت حمزہؓسے ہوئی تھی) بیٹی کی کفالت کی پُرزور پیشکش کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ کو حضرت جعفرؓ کے سپرد کیا کیونکہ بوجہ خالو ہونے کے اُن کا دوہرا رشتہ تھا ۔
٭ اُحد کے ایک شہید حضرت عبداﷲؓ نے اپنے پیچھے بیٹے حضرت جابرؓ کے علاوہ نو (9)بیٹیاں چھوڑیں اور وہی اُن کے واحد کفیل تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اس خاندان کے ساتھ ہمیشہ شفقت بھراسلوک روا رکھا۔ ایک روز حضرت جابرؓ کو مغموم دیکھ کر سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: یارسول اﷲؐ! والد کی شہادت کے بعد بہنوں کی ذمہ داری کے علاوہ قرض بھی ہے۔ رسولؐ اللہ نے ان کو دلاسا دیا اور خود موقع پر جا کر یہودی ساہو کاروں کا سارا قرض ادا کرنے کا انتظام کروایا۔ پھر حیلوں بہانوں سے جابرؓ کو اس طرح عطا فرماتے رہے کہ اُن کی عزت نفس میں بھی کوئی فرق نہ آئے۔ مثلاً ایک سفرمیں اُن سے ایک اونٹ خریدا اور پھروہ اونٹ مع قیمت اُن کو واپس کرکے اُن کی امدادکے سامان کئے اور اُن سے مزیدوعدہ فرمایا کہ جب بحرین کا مال آئے گا تو مَیں اِس اِس طرح تمہیں دوں گا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر ؓ کے زمانے میں جب وہ مال آیا تو انہوں نے آنحضورؐ کا وعدہ پورا کر دکھایا اور یوں وفات کے بعد بھی آپؐ کی جابرؓ سے عنایات کا سلسلہ جاری رہا۔
٭ ایک بار ایک بچہ نے آکر عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ مَیں ایک یتیم ہوں، میری ایک یتیم بہن بھی ہے اور ہماری بیوہ ماں ہم یتیموں کی پرورش کرتی ہے۔ آپ ؐ اﷲ تعالیٰ کے دئیے ہوئے اس کھانے میں سے جو آپ کے پاس ہے ہمیں اتنا عطا فرما دیں کہ ہم راضی ہوجائیں۔ رسول اﷲؐ نے فرمایا: اے بچے! تم نے کیا خوب کہا۔ ہمارے گھر والوں کے پاس جاؤ اور جو کھانے کی چیز اُن سے ملے وہ لے آؤ۔بچہ آپ ؐ کے پاس اکیس کھجوریں لے کر آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کھجوریں اپنی ہتھیلی پر رکھیںاور ہتھیلیاں اپنے منہ کی طرف اُٹھائیں جیسے آپؐ اﷲ تعالیٰ سے برکت کی دعا کر رہے ہوں۔ پھر فرمایا: بچے! سات کھجوریں تمہارے لئے، سات تمہاری ماں کے لئے اور سات تمہاری بہن کے لئے ہیں۔ ایک کھجور صبح اور ایک شام کو۔ جب وہ بچہ جانے لگا تو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اپنا ہاتھ اس بچے کے سر پر رکھا اور کہنے لگے کہ اﷲ تعالیٰ تمہاری یتیمی کا مداوا کرے اور تمہارے باپ کا اچھا جانشین تم کو عطا کرے۔ رسول اﷲ ؐ نے فرمایا اے معاذ! آپ نے اس بچے کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ مَیں نے دیکھا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس بچے سے محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر میں نے ایسا کیا۔ آپ ؐ نے فرمایا:’ ’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ،مسلمانوں میں سے کوئی شخص یتیم کا والی نہیں بنتا مگر اﷲ تعالیٰ اس شخص کو یتیم کے ہربال کے عوض ایک درجہ بڑھاتا ہے اور ہر بال کے عوض ایک اور نیکی عطا کرتا اور ہر بال کے برابر ایک گناہ معاف فرماتا ہے‘‘۔
٭ جنگ موتہ میں آپؐ کے چچا زاد حضرت جعفرؓ طیار شہید ہوگئے تو رسول کریم ؐ بنفس نفیس اُن کے گھر اُن کی شہادت کی خبر دینے تشریف لے گئے۔ اُن کی بیوہ حضرت اسماءؓ بنت عمیس کا بیان ہے کہ اُس وقت مَیں گھر کے کام کاج آٹا وغیرہ گوندھنے کے بعد بچوں کو نہلا دھلا کر فارغ ہوئی ہی تھی۔ آپ ؐنے فرمایا کہ جعفر کے بچوں کو میرے پاس لائو۔ مَیں انہیں رسولؐ اللہ کے پاس لے آئی۔ آپؐ نے ان کو گلے لگایا اور پیار کیا، آپؐ کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔ مَیں نے گھبرا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ کس وجہ سے روتے ہیں؟ کیا جعفرؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارہ میں کوئی خبر آئی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں وہ آج شہید ہوگئے۔ مَیں اس اچانک خبر کو سن کر چیخنے لگی۔ دیگر عورتیںبھی افسوس کے لئے اکٹھی ہوگئیں۔ رسول کریمؐ اپنے گھر تشریف لے گئے اور ہدایت فرمائی کہ جعفر کے گھر والوں کا خیال رکھنا اور انہیں کھانا وغیرہ بناکر بھجوانا کیونکہ اس صدمہ کی وجہ سے انہیں مصروفیت ہوگئی ہے۔ پھر آپؐ دوبارہ اُن کے ہاں تشریف لائے اور تعزیت فرمائی اوربچوں کے لئے دعا کی۔ تیسرے روز آپؐ پھر حضرت جعفرؓ کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ’’بس اب آج کے بعد میرے بھائی پر مزیدنہیں رونا‘‘۔ آپؐ نے ان کے یتیم بچوں کی کفالت کا انتظام اپنے ذمہ لے لیا۔
حضرت جعفرؓ کے بیٹے عبداللہ کا بیان ہے کہ آپؐ نے حجام کو بلوایا ہمارے بال وغیرہ کٹوائے اور ہمیں تیار کروایا۔ بہت محبت وپیار کا سلوک کیا اور فرمایا ’’جعفرطیار کا بیٹا محمد تو ہمارے چچا ابو طالب سے خوب مشابہ ہے اور دوسر ا بیٹا اپنے باپ کی طرح شکل اور رنگ ڈھنگ میں مجھ سے مشابہ ہے۔ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور درد دل سے یہ دعا کی:اے اللہ! جعفر کے اہل و عیال کا خود حافظ و ناصر ہو۔ اور میری تجارت میں برکت کے لئے بھی دعا کی۔
پھر ایک مرتبہ جب اسماءؓ نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں اپنے بچوں کی یتیمی کا ذکر کیا تو آپ ؐنے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کبھی ان بچوں کے فقروفاقہ کا خوف مت کرنا میں نہ صرف اس دنیا میں ان کا ذمہ دار ہوں بلکہ اگلے جہاں میں بھی ان کا دوست اور ولی ہوں گا۔
٭ ایک دفعہ ایک یتیم بچے کا حضرت ابو لبابہؓ سے کھجور کے ایک درخت پر تنازعہ ہوگیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ابولبابہؓ کے حق میں فیصلہ فرمایا تو یتیم بچہ رونے لگا۔ اس پر آپؐ نے ابولبابہ کو تحریک فرمائی کہ بیشک درخت آپ کا ہے مگر یہ اس یتیم بچے کو دیدیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض جنّت میں درخت عطا فرمائے گا ۔ابو لبابہؓ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔ حضرت ثابتؓ بن دحداح کو پتہ چلا تو انہوں نے ابولبابہؓ سے اپنے باغ کے عوض وہ درخت خرید لیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر مَیں وہ درخت لے کرپیش کردوں توکیا مجھے بھی اس کے عوض جنت میں درخت ملے گا؟۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں ۔ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ وہ جب شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابودحداح کے لئے جنت میں کتنے ہی پھلدار درخت جھکے ہوں گے۔
٭ ایک غزوہ سے واپسی پرجب اسلامی لشکر کے پاس پانی ختم ہو گیاتو صحابہ پانی کی تلاش میں نکلے۔ ایک عورت اونٹ پر پانی لاتی ہوئی ملی۔ معلوم ہوا کہ بیوہ عورت ہے جس کے یتیم بچے ہیں۔ رسول کریمؐ نے اس کے مشکیزہ پر برکت کے لئے دعا کی۔ پھر اس کے پانی سے تمام لشکر نے پانی لیا مگر پھر بھی پانی کم نہ ہوا۔ پھر رسول اﷲ ؐ نے اس بیوہ عورت سے حسن سلوک کی خاطر صحابہ کے پاس موجود زادراہ جمع کروالی اور اس بیوہ عورت کو کھجوریں اور روٹیاں عطا کرتے ہوئے فرمایا ہم نے تمہارا پانی ذرا بھی کم نہیں کیا اوریہ زادراہ تمہارے یتیم بچوں کے لئے تحفہ ہے۔ اس عورت نے اپنے قبیلہ میں جا کرکہا کہ مَیں ایک بڑے جادو گر کے پا س سے ہو کر آ ئی ہوں یا پھر وہ نبی ہے۔یوں اس عورت کی بدولت اﷲ تعالیٰ نے اس قبیلہ کو ہدایت دی اور وہ مسلمان ہو گئے۔
٭ رسول کریم ﷺاپنے بیمار صحابہ کی عیادت فرماتے اور ان کے لئے دعا کے علاوہ بسااوقات مناسب دوا بھی تجویز فرماتے۔ آپ ؐ فرماتے کہ ہر بیماری کی دوا ہوتی ہے۔ آپؐ بعض بیماریوں کا علاج روحانی دعا وغیرہ سے فرماتے۔ ایک دفعہ حضورؐ نے ابوہریرہؓ کی طرف توجہ فرمائی اور پوچھا کہ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ عرض کیا جی ہاں۔فرمایا نماز پڑھو، اس میں شفاء ہے۔
٭ اسی طرح رسول کریمؐ دم اور دعا سے بھی علاج فرماتے تھے۔اپنی بیماری کے دنوںمیں قرآن کی آخری دو سورتیں (معوّذتین) پڑھتے تھے۔اسی طرح فاتحہ کی دعا سے بھی بسااوقات علاج فرمایا کرتے۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/IsAU9

اپنا تبصرہ بھیجیں