اِنفاق فی سبیل اللہ کی بَرکات

تعارف کتاب اور انتخاب از فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 28 جولائی 2017ء)

انتخاب از کتاب ’’مضامین شاکر‘‘
اِنفاق فی سبیل اللہ کی بَرکات

مجھ سے اگر کوئی پوچھتا ہے کہ تم کو تمہارے مرزا صاحب نے کیا دیا تو میں کہا کرتا ہوں کہ حضور علیہ السلام نے ہم کو دو ایسی چیزیں دی ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق۔ دوسرے دُعا کرنے کا گُر۔
آجکل خُدا کے راہ میں روپیہ خرچ کرنا ہی ایک قسم کا بڑا جہاد ہے۔ آئیے ایک احمدی دوست کا واقعہ سُنیے جس نے تبلیغ احمدیت کے لئے اپنا بہت سامال خرچ کیا۔ تکلیف اُٹھائی مگر خدا تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں اسے بے شمار دیا اور ایسے طریقے سے دیا کہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا۔
ضلع لاہور میں لدھیکے نیویں ایک معمولی سا گاؤں ہے۔ جنگ عظیم اوّل کے دنوں میں وہاں ایک احمدی جھنڈے خاں رہا کرتا تھا۔ انہیں تبلیغ کا جنون تھا۔ اُٹھتے بیٹھتے اپنی علمیت واستعداد کے مطابق پیغامِ حق سناتے۔ مرکز سے علماء کو بلو اکر گاؤں میں پیغام احمدیت پہنچاتے۔ اس طریق میں اُن کی مخالفت بڑھ گئی اور لوگ اُنہیں خوب تنگ کرنے لگے۔ آدمی غریب تھے زمین بھی تھوڑی تھی اور وہ بھی آہستہ آہستہ ہندو ساہوکار کے پاس رہن ہوگئی۔ فصل جو تھوڑی بہت آتی وہ ساہو کار ہی لے جاتا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ چوہدری جھنڈے خاں نے بوریوں میں ’’پھک ‘‘ (یعنی چاولوں کا چھلکا) بھرواکر اندر رکھوالی تاکہ لوگوں پر یہی ظاہر ہو کہ غلّے کا انبار لگ رہا ہے۔ وہ خود اور اُن کی اہلیہ کھیتوں میں گرے ہوئے گندم کے خوشے چُن کر کچھ عرصہ گزر اوقات کرنے کا سامان کرتے رہے۔ غرض یہ کہ نہایت تنگی کے دن تھے۔ کچھ عرصہ بعد ساہوکار نے تمام رقم کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیا۔ اسی گھبراہٹ میں اُن کو خیال آیا کہ قادیان جاکر مقامات مقدسہ پر دُعا کروں تو ممکن ہے خداتعالیٰ کوئی سبیل مخلصی کی نکال دے۔ مگر قادیان جانے کا کرایہ بھی نہ تھا۔ مجبوراً پیدل کئی دنوں کا سفر کرکے وہاں پہنچے۔ مسجد مبارک میں نمازِ عشاء کے بعد دو نفل پڑھے اور نہایت عاجزی سے دُعا کی۔ چونکہ سخت اضطراب کی حالت تھی دُعامیں مُنہ سے یہ الفاظ نکلے : ’’مِرزیا ہُن میری لاج تُوں رکھ۔‘‘
تھکے ماندے تو تھے ہی وہیں فرش پر لیٹ گئے اور خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ تشریف لائے ہیں اور کہا کہ تمہارے گاؤں کے باہرجو ’تِھہ‘ ہے وہ جا کر خرید لو۔ چنانچہ قادیان سے پیدل ہی واپس اپنے گاؤں آئے اور تِھہ کی خریداری کا ارادہ کرلیا۔ یہ سیم زدہ ناکارہ زمین اُن کے ایک غیراحمدی عزیز کی تھی اُن سے کہا کہ بولو ’تِھہ‘کو فروخت کرتے ہو؟ اُس نے بھری مجلس میں کہا کہ اسے لے کر کیا کروگے؟ یہ بولے تم قیمت بتاؤ۔ وہ کہنے لگے تم جو گھاٹے کا سودا کرلیتے ہو۔ پہلے احمدیت قبول کرکے کیا نفع پایا ہے جو اب ’تِھہ‘ کا سودا کرنے لگے ہو۔ غرضیکہ بیس روپے میں سودا طے ہوگیا۔ جھنڈے خاں نے اُسی ہندو سے بیس روپے لے کر ادا کرکے زمین کاغذاتِ سرکار میں اپنے نام منتقل کرالی۔
اُنہی دنوں انگریز افسر فوجی بھرتی کے لئے گاؤں گاؤں پھرا کرتے تھے۔ ایک انگریز افسر مع فوج کے لدھیکے نیویں میں آیا اور تِھہ کے قریب خیمے لگوائے۔ نمبردار حاضر تھا۔ صاحب نے پوچھا کہ یہ زمین کس کی ہے۔ نمبردار نے کہا کہ ایک غریب سے آدمی کی ہے۔ اُس نے کہا کہ صبح اُسے بلوالو۔ نمبردار نے گاؤں کے چوکیدار کے ذریعہ جھنڈے خاں کو کہلوا بھیجا کہ کل صبح تم نے صاحب کے پیش ہونا ہے کہیں چلے نہ جانا۔ یہ بیچارے بہت ڈرے کہ کہیں نمبردار احمدیت کے بُغض کی وجہ سے مجھے بھرتی کرواکے فوج میں نہ بھجوادے۔ غرض کہ رات پریشانی میں گزاری اور صبح خود ہی صاحب کے پاس چلے گئے۔ صاحب نے کہا کہ یہ زمین تِھہ والی کیا آپ کی ہے؟ جواب دیا کہ بس سرکار کی ہے۔ صاحب نے قیمت پوچھی۔ یہ کہنے لگے سرکار کے نام منتقل کرا دیتا ہوں، قیمت کیا لینی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کہیں بھرتی نہ کرلینا، زمین لے کر میری جان چھوڑو۔ آخر کہا کہ میرے ذمہ کچھ قرضہ ہے وہ اُتار دو-
صاحب نے بتایا کہ اس کی بہت زیادہ قیمت ہے۔ ہم یہاں پر سے قلمی شورہ لے کر بارود بنائیں گے جو جرمنوں کے خلاف استعمال ہوگا۔ پھر پٹواری کو بلا کر وہ زمین سرکاری لکھ لی گئی اور جھنڈے خاں کو کہا جاؤ تم کو قیمت گھر بھجوا دیں گے-
کئی ماہ بعد ایک دن تحصیل لاہور کے سرکاری پیادے گاؤں میں آئے۔ وہ چاندی کے روپے چھ بوریوں میں خچروں پر لادکر لائے تھے۔ ( کاغذی نوٹ اس زمانہ میں بہت ہی کم تھے)۔ روپیہ ڈھیر کرکے رسید لے کر وہ رخصت ہوئے تو جھنڈے خاں خوشی خوشی ہندو ساہوکار کے گھر گیا کہ آکر اپنی تمام رقم لے جاؤ۔ وہ ہندو بڑی عاجزانہ وضع بنا کر بہی کھاتہ بغل میں لئے آیا۔ ابھی یہ رقم گِننے ہی لگے تھے کہ اُس نے چیخ مارکر چارپائی سے چھلانگ ماری اور باہر بھاگ گیا۔ رنگ اُس کا زرد ہوگیا اور نہایت عاجزی سے کہنے لگا کہ مجھے تمام روپیہ وصول ہوگیا ہے، میری بہی مجھے دے دو میں رقم کاٹ دوں گا۔ جھنڈے خاں نے بہت کہا کہ اندر تو آؤ۔ روپیہ تو لے لو مگر اس نے ایک پیسہ نہ لیا اور سخت سہمی ہوئی حالت میں واپس چلا گیا اور پھر کبھی روپے کا مطالبہ نہ کیا۔ (غالباً اسے کشفی حالت میں کوئی ہیبت ناک فرشتہ یا سانپ وغیرہ دکھائی دیا ہو گا)۔
اس کے بعد چوہدری جھنڈے خاں صاحب نے ترنڈا (نزد رحیم یار خان) ریلوے سٹیشن سے دو میل پر زمین زرعی خریدی اور بڑے مزے سے باقی زندگی گزاری۔ بابا تو فوت ہوچکا ہے، اب یہاں اُس کے پوتے موجود ہیں اور جماعت قائم ہے۔

واللہ یرزق من یشاء بغیر حساب
پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/JtOFU]

اپنا تبصرہ بھیجیں