تعارف کتاب: ’’اقامۃالصلوٰۃ‘‘

تعارف کتب از فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ انصارالدین ستمبر اکتوبر 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 7 جولائی 2017ء)

اِقَامَۃُالصَّلوٰۃِ

نماز کی اہمیت اور دعا کی طاقت کا ادراک جس قدر ایک احمدی کو ہے، دنیا کا کوئی اور گروہ یا فرقہ اس کا آج اندازہ بھی نہیں کرسکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین عمل یہی نماز تھا اور مامورِ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ہر قسم کی ترقیات کا زینہ بھی دعا اور نماز ہی ہے۔ خلفاء کرام کے مطابق نماز سے زیادہ اہمیت کسی دوسرے عمل کو نہیں دی جاسکتی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں ہر سطح پر اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور شائع کیا جاچکا ہے۔ تاہم حال ہی میں منظرعام پر آنے والا ایک مختصر کتابچہ اِقَامَۃُالصَّلٰوۃِہے جو دراصل مکرم و محترم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی جلسہ سالانہ برطانیہ 2007ء کے موقعہ پر کی جانے والی تقریر ہے جس میں بعد ازاں حضرت اقدسؑ اور خلفاء کرام کے چند قیمتی ارشادات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ عمدہ ترتیب اور عام فہم انداز میں پیش کئے جانے والے منتخب ارشادات بہت مؤثر ہیں۔
A5 سائز کے 54 صفحات پر مشتمل یہ مختصر کتابچہ طبع کروانے کی سعادت شعبہ تربیت لجنہ اماء اللہ مقامی ربوہ کو ملی ہے۔ لکھائی کا سائز بہت مناسب ہے اور کمزور نظر والے بھی آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔
اگرچہ ان ارشادات میں سے انتخاب کرنا بھی ایک مشکل امر تھا تاہم ایسا کرنا ناگزیر بھی تھا۔ ہماری رائے میں ان بیش قیمت ارشادات کو بار بار پڑھنا اور دوسروں کے سامنے دہراتے چلے جانا ضروری ہے تاکہ نماز کی اہمیت ہر احمدی کے دل میں رَچ بَس جائے اور نماز ہماری زندگیوں کا جزو بن جائے۔
٭ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
’’وہ لوگ جو اپنی نماز پر دوام اختیار کرنے والے ہیں وہ لوگ ہی محبوبِ خدا ہیں‘‘۔ (المعارج:24)
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے جان بوجھ کر نماز ادا نہ کی اس نے کفر کا ارتکاب کیا‘‘۔ (حدیث از کنزالعمال کتاب الصلوٰۃ)
٭ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
= ’’نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تسبیح، تحمید، تقدیس، استغفار اور درود کے ساتھ تضرّع سے مانگی جاتی ہے‘‘۔ (کشتی نوح)
= ’’جس نماز میں تضرّع نہیں، خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں، وہ نماز تو خود ہی ٹوٹی ہوئی نماز ہے۔ نماز وہ ہے جس میں دعا کا مزا آجاوے۔ خدا تعالیٰ کے حضور میں ایسی توجہ سے کھڑے ہوجاؤ کہ رقّت طاری ہو جائے جیسے کہ کوئی شخص کسی خوفناک مقدمہ میں گرفتار ہوتا ہے اور اسکے واسطے قید یا پھانسی کا فتویٰ لگنے والا ہوتا ہے۔ اسکی حالت حاکم کے سامنے کیا ہوتی ہے؟ ایسے ہی خوفزدہ دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا چاہئے۔ جس نماز میں دل کہیں ہے اور خیال کسی طرف ہے اور منہ سے کچھ نکلتا ہے، وہ ایک لعنت ہے جو آدمی کے منہ پر واپس ماری جاتی ہے اور قبول نہیں ہوتی۔ … نماز وہی اصلی ہے جس میں مزا آجاوے اور یہی وہ نماز ہے جس کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے، نماز مومن کے واسطے ترقی کا ذریعہ ہے‘‘۔ (ملفوظات)
= ’’جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے‘‘۔ (کشتی نوح)
= ’’نماز خدا کا حق ہے، اسے خوب ادا کرو … اگر سارا گھر غارت ہوتا ہے تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم)
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کا ارشاد ہے:
’’کان کھول کر سنو! جو نماز کا مضیع ہے اس کا کوئی کام دنیا میں ٹھیک نہیں‘‘۔ (خطبات نور)
٭ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
= ’’نماز خدا تعالیٰ کی زیارت کا قائمقام ہے اور جو شخص اپنے محبوب کی زیارت سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عشق کے دعویٰ کے خلاف خود ہی ڈگری دے دیتا ہے‘‘۔ (تفسیر کبیر جلد اوّل)
= ’’گو شریعت کا حکم ہے کہ نماز کو اس کی مقررہ شرائط کے ماتحت ادا کیا جائے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب مجبوری ہو اور شرائط پوری نہ ہوتی ہوں تو نماز کو ترک ہی کردے۔ نماز بہرحال شرائط سے مقدّم ہے‘‘۔ (ایضاً)
= ’’قرآن کریم نے جہاں بھی نماز کا حکم دیا ہے نماز باجماعت کا حکم دیا ہے… پس جو کوئی شخص بیماری یا شہر سے باہر ہونے یا نسیان یا دوسرے مسلمان کے موجود نہ ہونے کے عذر کے سوا نماز باجماعت کو ترک کرتا ہے، خواہ وہ گھر پر نماز پڑھ بھی لے تو اس کی نماز نہ ہوگی اور وہ نماز کا تارک سمجھا جائے گا‘‘۔ (ایضاً)
٭ نماز باجماعت کے لئے آنحضور ﷺ کا نمونہ یہ تھا کہ آخری بیماری میں شدید بخار میں مبتلا تھے اور غشی طاری تھی۔ گھبراہٹ کے عالم میں دریافت فرمایا کہ کیا نماز کا وقت ہوگیا ہے؟ بتایا گیا کہ مسجد میں صحابہ آپؐ کے منتظر ہیں۔ بخار کی شدّت کم کرنے کے لئے جسم پر پانی ڈلوایا۔ مسجد جانے کے لئے اٹھے تو پھر غشی طاری ہوگئی۔ ہوش آنے پر پھر نماز کا پوچھا۔ بتایا گیا کہ صحابہ انتظار میں بیٹھے ہیں۔ پھر جسم پر پانی ڈلوایا۔ بخار ذرا کم ہوا لیکن پھر غشی طاری ہوگئی۔ جب ذرا افاقہ ہوا تو دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اس حال میں مسجد کے لئے روانہ ہوئے کہ پاؤں زمین پر گھسٹتے جارہے تھے۔ آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور اِقَامَۃُالصَّلٰوۃِ کا عدیم المثال نمونہ قائم فرمایا۔
٭ حضرت مسیح موعودؑ کا نمونہ یہ تھا کہ ایک بار سر کی سخت تکلیف لاحق ہوگئی کہ آپؑ تین روز کے لئے مسجد آکر نماز نہ پڑھ سکے۔ چوتھے روز ذرا افاقہ ہوا تو فجر کی نماز پر تشریف لے آئے اور بمشکل بیٹھ کر نماز باجماعت ادا کی۔ بیماری کی یہ حالت تھی کہ آپؑ پسینہ میں غرق تھے اور ضعف اس قدر تھا کہ نماز کے بعد مزید بیٹھ بھی نہ سکے اور وہیں مسجد میں لیٹ گئے۔
غور کیجئے کہ غلامؑ اپنے آقاؐ کے نقش قدم کی کس طرح پیروی کرتا ہے۔ پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے نفسوں کا محاسبہ کیجئے کہ ان مغفور اور معصوم ہستیوں کے قیام نماز کی اگر یہ کیفیت تھی تو ہم گناہگاروں کو اس میدان میں کتنا مستعد اور فعّال ہونے کی ضرورت ہے؟
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
= ’’کام کی خاطر نماز کو نہ چھوڑو بلکہ نماز کی خاطر کام چھوڑو ورنہ یہ بھی ایک قسم کا مخفی شرک ہے‘‘۔
= ’’بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں کیونکہ جس دین میں عبادت نہیں وہ دین نہیں…اور اس کے لئے سب سے بڑا والدین کا اپنا نمونہ ہے‘‘۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/2MeVu

اپنا تبصرہ بھیجیں