انٹرویو محترم موسیٰ شیبو صاحب

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘
(شیخ فضل عمر)

(مطبوعہ رسالہ ’طارق‘ لندن 1993 ٕ )

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مذکورہ بالا الہام نہایت شان کے ساتھ پورا ہو رہا ہے اور کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گزرتا جب احمدیت نے کسی نئے ملک اور نئی بستی میں نفوذ نہ کیا ہو۔ اور یہ بھی کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مختلف قوموں کے لاکھوں افراد آج مسیح وقت کی غلامی میں مسند خلافت پر متمکن ہونے والے وجود کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کی خدمت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی چند فدائین کے تعارف کے مقصد سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ خوش نصیب جنہوں نے خود حق کو قبول کی اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانے کے لئے قابل قدر کوشش فرمارہے ہیں انہیں ہم اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
آج ہم آپ کا تعارف محترم موسیٰ شیبو صاحب سے کروا رہے ہیں جن کا تعلق نائیجیریا کے شہر بینن سٹی سے ہے۔
محترم موسیٰ شیبو صاحب 27ستمبر 1963ء کو ایک ایسے مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے جو عملی لحاظ سے لامذہب تھا اور انہیں اسلامی تعلیمات کی کچھ واقفیت نہ تھی۔ ان کے والد کی پانچ بیویاں تھیں اور بچوں کی کل تعداد گیارہ تھی۔ برادرم موسیٰ شیبو صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد پینٹنگ اور ڈیکوریٹنگ میں City & Guilds کیا۔
برادرم موسیٰ صاحب کی رہائش بینن سٹی نائیجیریا میں احمدیہ مسلم مشن کے قریب ہی تھی۔ان کی ایک بہن نائیجیرین ائیرویز میں ملازمت کرتی ہیں۔ 1986ء کے ابتدائی دنوں کا واقعہ ہے کہ وہ گھر واپس آنے کے لئے جس ٹیکسی میں سوار ہوئیں اسی ٹیکسی میں احمدیہ مشن کے ایک کارکن محترم فیروز محی الدین قریشی صاحب (المعروف ایف۔ایم۔قریشی) بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ جنہوں نے مختصر باہمی تعارف کے بعد ان کی بہن سے کہا کہ آپ کا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے اور اگر آپ اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دلوانا پسند کریں تو احمدیہ مشن ہاؤس میں اس کا باقاعدہ مفت انتظام موجود ہے۔ محترم موسیٰ صاحب کی بہن نے اس دعوت کو بخوشی قبول کیا اور چند روز بعد بچوں کو لے کر احمدیہ مشن ہاؤس پہنچ گئیں۔ محترم شیبو موسیٰ صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اتفاقاً اس روز مسجد میں کوئی بھی موجود نہ تھا۔ چنانچہ وقت گزارنے کے لئے محترم موسیٰ صاحب نے مسجد اور مشن ہاؤس کو اچھی طرح دیکھا اور وہاں رکھے ہوئے لٹریچر کو بھی سرسری نظر سے دیکھا۔ چونکہ انہوں نے اپنی تعلیم ایک عیسائی مدرسہ میں حاصل کی تھی اس لئے انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ مدرسہ میں عیسائیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دی جانے والی تعلیم، قرآنی تعلیم سے مختلف ہے۔ چنانچہ انہوں نے کچھ لٹریچر ہمراہ لیا اور گھر آکر اس کا مطالعہ شروع کیا۔
محترم موسیٰ صاحب کا ایک بھائی 1980ء میں عیسائی مذہب اختیار کرچکا تھا اور عیسائیت کے پرچار میں سرگرمِ عمل تھا اور آپ کو بھی اپنا ہم مذہب بنانے کے لئے مسلسل کوشش میں مصروف تھا لیکن باوجود غیردینی ماحول میں پرورش پانے کے محترم موسیٰ صاحب کو یہ علم تھا کہ اسلام ہی اس وقت کا سچا مذہب ہے اور دراصل اپنے اسلام کو بچانے کے لئے لاشعوری طور پر آپ جس پناہ کی تلاش میں تھے وہ احمدیت کا لٹریچر پڑھنے کے بعد انہیں میسر آگئی اور یوں چند روز بعد ہی یہ دوبارہ مشن ہاؤس گئے اور اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش کا اظہار کیا۔
احمدیہ مسجد میں سب سے پہلے انہیں قاعدہ یسرنا القرآن شروع کروایا گیا جو انہوں نے ایک ماہ میں ختم کر لیا اور قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔ اسی طرح نمازوں کی ادائیگی کے لئے بھی یہ باقاعدہ مسجد جانے لگے جہاں روزانہ مغرب اور عشاء کے درمیانی وقفہ میں ایک مجلس سوال و جواب کا اہتمام کیا جاتا تھا اور اس مجلس میں بلاتفریق مذہب لوگ شامل ہوکر اسلام کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے۔ محترم حمیداللہ ظفر صاحب مبلغ سلسلہ بینن سٹی یا مکرم ایف۔ ایم۔ قریشی صاحب سوالات کے جوابات دیا کرتے تھے۔ محترم موسیٰ شیبو صاحب نے اس مجلس میں بیٹھنا شروع کیا اور اس طرح جلد ہی احمدیت کے عقائد سے واقف ہوگئے اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں بھی شناسائی حاصل کی اور مارچ 1986ء میں باقاعدہ طور پر احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔ اُن دنوں یہ بے روزگار تھے اور ایک احمدی کے پولٹری فارم پر جزوقتی ملازمت کرتے تھے۔
1986ء کے وسط میں محترم ایف۔ ایم۔ قریشی صاحب کے سپرد جماعتِ احمدیہ نائیجیریا کے لیگوس سے نکلنے والے ہفت روزہ ’’ٹرتھ‘‘ کی ذمہ داری کی گئی تو انہوں نے محترم امیر صاحب نائیجیریا کی اجازت سے مکرم موسیٰ صاحب کو لیگوس بلاکر اخبار کی پیسٹنگ اور ڈیکوریٹنگ کا کام دیا۔ چونکہ محترم موسیٰ صاحب پرنٹنگ اور ڈیکوریٹنگ کی تعلیم حاصل کر چکے تھے چنانچہ اخبار کے کام کے ساتھ ساتھ مشن ہاؤس میں پینٹنگ اور ڈیکوریٹنگ اور سائن بورڈز کی تیاری کا کام بھی ان کے سپرد ہوگیا اور مشن سے ملحقہ احمدیہ ہسپتال کی تزئین بھی انہیں سونپ دی گئی۔ 1986ء میں محترم مبارک احمد ساقی صاحب (ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن) جب نائیجیریا کے دورہ پر لیگوس تشریف لائے تو محترم موسیٰ صاحب کے کام کو دیکھ کر بہت متأثر ہوئے اور واپس لندن آکر حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ سے رقیم پریس برطانیہ میں کام کرنے کے لئے محترم موسیٰ صاحب کی منظوری حاصل کی اور اس طرح 20 جولائی 1987ء کو آپ لندن آگئے۔
برادرم موسیٰ صاحب اسلام آباد (برطانیہ) میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ رقیم پریس میں کام کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے قائد خدام الاحمدیہ ہیں اور بعض دوسری ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ آج کل Surrey University Guildford میں ایک جزوقتی ٹیکنیکل کورس بھی شروع کر رکھا ہے۔ کھیل اور کھلاڑیوں سے عموماً اور باکسنگ سے خصوصاً انہیں بہت دلچسپی ہے۔ سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن محمد علی جب برطانیہ تشریف لائے تھے تو محترم موسیٰ شیبو صاحب نے ان سے ملاقات کی تھی اور احمدیت کا لٹریچر بھی انہیں پیش کیا تھا۔ اس موقع پر لی گئی تصویر بھی پیش کی جارہی ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/rJKqK]

اپنا تبصرہ بھیجیں