انٹرویو: محترم ابراہیم نونن صاحب (مائیکل ڈینس پیٹر)

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘
(شیخ فضل عمر)

(مطبوعہ رسالہ ’طارق‘ لندن 1994 ٕ)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مذکورہ بالا الہام نہایت شان کے ساتھ پورا ہو رہا ہے اور کوئی ایک سال بھی ایسا نہیں گزرتا جب احمدیت نے کسی نئے ملک اور نئی بستی میں نفوذ نہ کیا ہو۔ اور یہ بھی کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مختلف قوموں کے لاکھوں افراد آج مسیح وقت کی غلامی میں مسند خلافت پر متمکن ہونے والے وجود کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کی خدمت کرنے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی چند فدائین کے تعارف کے مقصد سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے تا وہ جنہوں نے خود حق کو قبول کی اور پھر اسے دوسروں تک پہنچانے کے لئے قابل قدر کوشش فرمارہے ہیں انہیں ہم اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
آج ہم آپ کی ملاقات اپنے نو احمدی اور واقفِ زندگی بھائی محترم ابراہیم نونن صاحب (مائیکل ڈینس پیٹر) سے کروارہے ہیں۔
12؍مارچ 1965ء کو آئرلینڈ کے قدیم ترین شہر واٹرفورڈ کے ایک کٹّر مذہبی عیسائی خاندان میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مائیکل ڈینس پیٹر رکھا گیا۔ اس خاندان کے بہت سے افراد پادری اور راہبات کے طور پر عرصہ دراز سے خدمات بجالارہے تھے۔
مکرم ابراہیم نونن صاحب کے والدین کے کُل سات بچے تھے یعنی چار بیٹے اور تین بیٹیاں۔ والد اگرچہ پیشے کے لحاظ سے ایک تعمیراتی کمپنی چلاتے تھے لیکن علمی آدمی تھے اور چرچ کے لئے بھی بہت عقیدت رکھتے تھے۔ ننھے ابراہیم نے چونکہ ایک مذہبی ماحول میں آنکھ کھولی تھی اور پھر ذاتی طور پر بھی ان کے دل میں مذہب کے لئے دلی خلوص موجزن تھا چنانچہ اپنے بچپن میں ہی انہوں نے پادری بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اپنے والد سے بات چیت کے بعد آپ کے والد نے آپ کو چرچ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے منع کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں چرچ کی تاریخ نو عمر ابراہیم کے عیسائیت پر ایمان کو متزلزل کرسکتی تھی۔
اے۔لیول تک واٹرفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان ابراہیم نے یونیورسٹی کے لئے تعلیمی وظیفہ حاصل کر لینے کے باوجود تعلیم ترک کر دینے کا فیصلہ کیا۔ جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آپ سیاحت کے بے حد شوقین تھے اور کچھ عرصہ کے لئے اپنے اس شوق کی تسکین کرنا چاہتے تھے اور دوسری یہ کہ آپ ایتھلیٹکس اور مارشل آرٹس کے اعلیٰ درجہ کے کھلاڑی تھے۔ ایتھلیٹکس میں آئرلینڈ میں آپ تیسرے نمبر پر تھے جبکہ مارشل آرٹس میں انٹرنیشنل چیمپئن شپ میں 1986ء سے 1990ء تک آئرلینڈ کی نمائندگی کا شرف آپ کو حاصل تھا۔ چنانچہ آپ نے تعلیم ترک کر کے انگلینڈ آنے کا فیصلہ کیا اور اپنے فارغ اوقات میں نوجوانوں کے امور کے لئے چرچ میں بھرپور تعمیری کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔
چونکہ آپ پادری بننا چاہتے تھے اس لئے آپ نے چرچ کی تاریخ کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ اگرچہ آپ کے والد نے آپ کو نصیحت کی تھی کہ آپ اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کے لئے چرچ کی تاریخ کا مطالعہ نہ کریں۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصہ میں آپ کے ذہن میں عیسائیت کے بارے میں ایسے شکوک نے جنم لے لیا جن سے آپ کا عیسائیت پر ایمان واقعی متزلزل ہوگیا، حتی کہ یہ کشمکش اتنی بڑھ گئی کہ آپ نے نہ صرف پادری بننے کا ارادہ ترک کردیا بلکہ دیگر مذاہب کے مطالعہ کا بھی فیصلہ کیا۔ آپ کے نزدیک اب عیسائیوں کا یہ عقیدہ درست نہیں رہا تھا کہ مسیح خدا بھی ہے۔
1988ء میں آپ انگلینڈ آئے اور ایک منفرد قسم کے چرچ کے زیر انتظام منعقد ہونے والی مذہبی کلاسوں میں شامل ہونے لگے جن میں بائبل کی تفسیر پڑھائی جاتی تھی۔ چونکہ آپ پہلے بھی بائبل کا بغور مطالعہ کر چکے تھے اور اس پر سوچ بچار میں بھی بہت وقت بھی گزار چکے تھے اس لئے ان کلاسوں میں پڑھائی جانے والی بائبل کی تفسیر آپ کی تشنگی کو دُور نہ کر سکی۔ البتہ مسیح کو خدا بنانے کے بارے میں بیان کئے جانے والے خود ساختہ دلائل کو آپ نے فوراً ردّ کر دیا… اور حقیقت یہی تھی کہ آپ کی ذہنی پریشانی میں ان کلاسوں میں شریک ہونے سے مزید اضافہ ہوگیاتھا۔
برادر ابراہیم نے دیگر مذاہبِ عالم کے مطالعہ کا آغاز ہندوازم سے کیا۔ پھر بدھ ازم پڑھا اور اس کے بعد یہودیت۔ یہودیت نے آپ کو بہت متأثر کیا۔ آپ کا خیال ہے کہ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ دیگر مذاہب کے مقابلہ پر یہ وہ مذہب تھا جو اسلام سے کسی حد تک قدرِ مشترک رکھتا تھا۔
بہرحال آپ کا مطالعہ مذاہب جاری رہا اور اس دوران آپ کو یہ معلوم ہوا کہ آپ کی فیکٹری میں ملازم ایک آئرش لڑکی کا خاوند مسلمان ہے۔ چنانچہ اس لڑکی سے مسلمانوں کے بارے میں آپ کو بہت سی معلومات حاصل ہوئیں اور اسلام کے جس حسن نے آپ کو بے پناہ متأثر کیا وہ اسلام کا حسنِ عبادت تھا یعنی دن میں پانچ مقررہ اوقات میں اپنے خالق کے حضور عاجزانہ حاضری، خصوصاً علی الصبح ادا کی جانے والی نماز فجر آپ کے دل کو بہت بھائی۔ چنانچہ آپ نے اس لڑکی کے توسط سے اس کے مسلمان خاوند سے ملاقات کی اور اس کے ذریعہ اسلام کے بنیادی عقائد سے آپ متعارف ہوئے۔ آپ کو اسلام اور یہودیت کی بعض مشترکہ باتوں پر بھی بہت حیرت ہوئی۔ البتہ نجا ت کے بارے میں اسلام کی منفرد تعلیم نے آپ کو اسلامی تعلیمات کے مزید مطالعہ پر اُکسایا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ دیگر کسی مذہب نے بھی نجات کے مسئلہ کا ایسا قابل قبول حل پیش نہیں کیا تھا جیسا کہ اسلام نے پیش کیا ہے۔
اگرچہ آپ چرچ میں بائبل کی تفسیر کی کلاسوں میں شریک ہوتے رہے لیکن چونکہ اسلام کی تعلیمات نے دل میں جگہ حاصل کر لی تھی اس لئے 1989ء میں آپ سیاحت کی غرض سے مسلمان ملک تیونس گئے جہاں مساجد میں آپ کو خاص طور پر دلچسپی پیدا ہوئی اور واپس آکر آپ نے نئے ذوق کے ساتھ مطالعہ مذاہب کا آغاز کر دیا۔
مذکورہ بالا حالات و واقعات بیان کرنے کے بعد برادرم ابراہیم نے بار بار زور دے کر یہ واضح کیا کہ ان ایام میں آپ اپنے دل و دماغ پر ہر وقت ایک ایسا بوجھ محسوس کرتے تھے جو کسی پَل بھی آپ کو چین نہیںلینے دیتا تھا۔
آپ نے بتایا کہ ایک روز آپ ہائیڈپارک گئے تو وہاں ایک عیسائی آنحضرت ﷺ کے خلاف بد زبانی میں مصروف تھا اور آنحضورﷺ کی ذات اقدس پر نہایت غلیظ حملے کر رہا تھا۔ اگرچہ چند مسلمانوں نے اسے گھیر رکھا تھا لیکن وہ کسی طرح بھی اُن کے قابو میں نہیں آرہا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکت پر اُس کے گھٹیا حملوں کو سن کر برادر ابراہیم اسلام کے بارے میں دوبارہ کشمکش کا شکار ہوگئے۔
اس کے بعد جب ایک بار آپ نے چرچ میں آنے والے اپنے دوستوں سے مذہب اسلام کے بارے میں کچھ بات چیت کی تو سب دوستوں نے ہی آپ کے تجسّس پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور آپ کو اس راہ پر جانے سے روکنے کی کوشش کی جس پر آپ کا قدم بڑھتا ہی جارہا تھا۔ حتیٰ کہ آپ کی ایک ایسی دوست نے، جس کے ساتھ کچھ ہی عرصہ بعد آپ شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے، آپ کی اسلام میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے نتیجہ میں آپ سے تعلقات کو توڑ لینے کی دھمکی دی۔
اسلام کی خوبصورت تعلیمات آپ کے ذہن میں تھیں، دوستوں کا دباؤ اور ایک عیسائی کے آنحضور ﷺ پر رکیک حملے ذہن میں کشمکش پیدا کررہے تھے۔ چنانچہ آپ نے نہایت مغموم دل کے ساتھ خدا تعالیٰ سے صحیح فیصلہ پر پہنچنے کے لئے راہنمائی پانے کی دعا شروع کی اور آخر شرح صدر کے ساتھ اسلام میں دلچسپی ترک کرنے کے بجائے اس لڑکی سے تعلقات ختم کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ نے چرچ کے لئے اپنی خدمات کا دائرہ بھی بہت بڑھا دیا اور اب پادری (Priest) کی بجائے عیسائی مبلغ (Preacher) بننے کا فیصلہ کیا۔ البتہ خدا سے یہ دعا بھی کرتے رہے کہ وہ آپ کی اپنے سچے مذہب کی طرف راہنمائی کردے۔
برادرم ابراہیم نونن کے معاشرتی تعلقات اُن دنوں بہت وسیع تھے اور بعض احمدی بھی آپ کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ چنانچہ ایک مذہبی گفتگو کے دوران ایک احمدی خاتون نے آپ کو مسیحؑ کی آمد ثانی کے بارے میں بتایا تو آپ نے اس کی باتوں سے متأثر ہو کر اس بارہ میں مزید مطالعہ کا فیصلہ کیا۔ اور اس طرح “The Tomb of Jesus” وہ پہلی کتاب تھی جو آپ نے دلچسپی کے باعث ایک ہی رات میں پڑھ ڈالی۔ اس کتاب سے متأثر ہو کر آپ نے ارادہ کیا کہ بائبل کی مدد سے اس کتاب کا ردّ لکھیں گے۔ لیکن جب آپ نے اس مقصد کے لئے بائبل کا مطالعہ شروع کیا تو بجائے ردّ لکھنے کے اس کتاب میں بیان شدہ دلائل کے ہی قائل ہوگئے اور اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ مسیح صلیب نہیں دئیے گئے اور اس طرح آپ کے سابقہ خیالات کو بھی تقویت ملی کہ مسیح خدا نہیں ہے۔
مزید مطالعہ کے طور پر آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’مسیح ہندوستان میں ‘‘ پڑھی تو منطقی طور پر تو آپ کا ذہن اس بات کا قائل ہوگیا کہ ایسی زبردست کتاب کا مصنّف یقینا ’’مسیح موعود‘‘ ہے لیکن آپ کا دل اسے قبول کرنے سے انکار کررہا تھا۔ چنانچہ ذہن کی الجھنوں میں اضافہ ہوگیا۔
اپنی ذہنی کشمکش کو دُور کرنے کے لئے آپ ایک روز چرچ چلے گئے اور وہاں کے پادری سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں ابھی کچھ پوچھا ہی تھا کہ اُس نے آنحضور ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں شدید بدزبانی شروع کردی۔ اس سے آپ نے یہی نتیجہ نکالا کہ اگر عیسائیت کا ایک نمائندہ، کسی دوسرے مذہب کی ایک نہایت بزرگ ہستی کے بارے میں، اتنی گندی زبان کا استعمال کرسکتا ہے تو پھر ایسی عیسائیت ترک کر دینے کے ہی قابل ہے۔
اس کے بعد آپ کے زیر مطالعہ آنے والی اگلی کتاب حضرت مصلح موعود ؓ کی تصنیف “Life of Muhammad” تھی جس کے مطالعہ نے آپ کے دل میں آنحضرت ﷺ کے لئے گہری محبت پیدا کر دی۔
1990ء کے وسط میں آپ نے آئر لینڈ واپس چلے جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپ کے احمدی دوستوں نے آپ کو جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کی دعوت دے دی۔ اگرچہ پہلے تو آپ نے اس دعوت کو قبول کرنے سے یکسر انکار کردیا لیکن پھر آپ کے انکار کی شدّت دوستوں کے اصرار کے پیش نظر بالآخر کم ہوتی چلی گئی اور آپ نے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کا ارادہ کرلیا۔ چنانچہ آپ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے۔
جلسہ گاہ میں جونہی آپ کے نظر حضور انور ایدہ اللہ کے چہرۂ مبارک پر پڑی تو آپ کے دل میں حضورانور کے لئے محبت کا طوفان ٹھاٹھیں مارنے لگا اور پھر جب حضور نے تقریر شروع کی تو آپ اُس میں ایسے محو ہوئے کہ اس کیفیت میں آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام یاد آئے جو اپنی قوم کو توحید کا سبق دیا کرتے تھے۔
برادر ابراہیم نونن بیان کرتے ہیں کہ آپ کو حضور انور کے چہرہ میں نُور ہی نُور نظر آیا۔ اور آپ نے اسی دن بیعت کر کے احمدیت کی آغوش میں آنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن آپ کے احمدی دوستوں نے آپ کو بیعت کرنے میں جلدی کرنے کی بجائے کچھ مزید مطالعہ کرنے کا مشورہ دیا۔
چند روز بعد آپ اپنے پروگرام کے مطابق آپ واپس آئرلینڈ چلے گئے۔ جب آپ کے والدین کو آپ کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور قطع تعلق کی دھمکی دی۔ آپ کے سارے عزیزوں نے بھی فرداً فرداً آپ کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ آپ کی ایک کزن جو ایک شیعہ سے بیاہی ہوئی ہیں انہوں نے خاص طور پر اسلام کو ایک خونخوار مذہب کے طور پر آپ کے سامنے پیش کیا۔ گھر سے باہر دوستوں نے بھی آپ کے فیصلے کی حد درجہ مخالفت کی اور عیسائیت اور چرچ کے لئے آپ کی پرانی محبت بھی بار بار آپ کو یاد دلائی گئی۔ ان سارے واقعات و حالات کے نتیجہ میں … آپ دوبارہ ذہنی کشمکش کا شکار ہوگئے۔
آپ کا ذہن کہتا تھا کہ اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے لیکن دل میں عیسائیت کے لئے بھی محبت قائم تھی جو اسلام کی آغوش میں جانے سے آپ کو روک رہی تھی۔ آخر آپ نے خدا کے حضور دعا کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک روز بائبل اور قرآن کو سامنے رکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور نہایت گریہ وزاری سے دعا شروع کردی۔ دل و دماغ میں شدید جنگ ہوئی۔ اسی رات آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ چرچ میں دعا میں مشغول ہیں کہ اچانک آپ کھڑے ہوئے ہیں اور مشرق کی طرف مونہہ کر کے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی محسوس کیا کہ دوسرے لوگ بھی آپ کے پیچھے آرہے ہیں اور سوالات کر رہے ہیں … اس خواب سے آپ کے اسلام قبول کرنے کے فیصلہ کو بھرپور تقویت ملی۔ چنانچہ چند ہی ہفتوں میں جب آپ واپس انگلینڈ آگئے تو احمدی دوستوں سے رابطہ کیا اور چند روز بعد 1990ء میں ہی بیعت کرنے کی سعادت پائی۔
قبول احمدیت کے بعد سے آپ مسلسل روحانی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔ 1994ء میں آپ نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے پیش کر دی۔ اس وقت آپ جماعت احمدیہ برطانیہ کے آئرش ڈیسک کے انچارج ہیں، مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ میں نائب صدر اور مہتمم تبلیغ ہیں اور جماعت احمدیہ برطانیہ کی نئی مسجد کے لئے خریدی گئی عمارت کی سیکیورٹی کے انچارج ہیں۔ نیز بھر پور طور پر دینی علم کی تحصیل میں بھی مصروف ہیں تاکہ اپنی قوم کو اسلام کے حسن سے روشناس کر سکیں۔
یہ ایمان افروز داستان ایک ایسے بچے کی ہے جو عیسائیت کا مبلغ بننا چاہتا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اسے اپنے فضل سے ہدایت سے نوازا اور اب وہ اسلام کا مبلغ بن کر اپنی زندگی راہ خدا میں وقف کئے ہوئے ہے۔ خدا تعالیٰ انہیں نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے۔ آمین

(نوٹ: محترم برادرم ابراہیم نونن صاحب کو بعدازاں (خلافتِ رابعہ کے دوران ہی) مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کا پہلا غیرپاکستانی صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ اس کے بعد سے آپ آئرلینڈ کے مبلغ انچارج کے طور پر خدمات بجالارہے ہیں۔)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/TrhWV]

اپنا تبصرہ بھیجیں