اداریہ: قرض سے نجات کا طریق

(مطبوعہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ یوکے – ستمبر و اکتوبر 2019ء)

بڑھتی ہوئی سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیابھر میں بڑھتے ہوئے مالی بحران نے نہ صرف ہر سطح پر ایک بے چینی کو جنم دیا ہے اور ترقی یافتہ ممالک اور مضبوط معاشی حالت کی حامل اقوام کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ بلکہ اس کا بہت زیادہ اثر ایسے عوام پر بھی پڑا ہے جو اپنی روزمرّہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے بھی بسااوقات قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور بعد ازاں شرائط کے مطابق وقتِ مقررہ پر قرض کی رقم ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں کیونکہ کبھی اُن کے مالی حالات میں اُن کی توقع کے مطابق بہتری پیدا نہیں ہوپاتی یا اپنی بدانتظامی کی وجہ سے ہی وہ قرض ادا نہیں کرپاتے اور نتیجۃً یہ صورتحال معاشی طور پر اور معاشرتی طور پر بھی اُن کی تکلیف میں اضافے کا باعث بنتی چلی جاتی ہے۔
قرآن کریم اور احادیث میں قرض لینے اور واپس کرنے کے بارہ میں تفصیلی احکامات بیان ہوئے ہیں۔ معاملات کو صاف رکھنے کے لئے جہاں معاہدہ تحریر میں لانے کا حکم دیا گیا ہے وہاں قرض کی رقم کو جلد ادا کرنے کی تاکید بھی ہے۔ ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ ہمارے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے کرام کے ارشادات بھی مشعلِ راہ ہیں۔ ذیل میں چند ایسی روایات پیش کی جارہی ہیں جن میں قرض کی ادائیگی کے معاملہ میں رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
حضرت میاں احمد دین زرگر صاحبؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں قرض کی ادائیگی کے حوالہ سے دعا کے لئے عرض کیا تو حضورؑ نے فرمایا:

اَللّٰھُمَّ اقْضِ دَیْنِیْ وَ اَغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ۔

مَیں نے چند دن اس کو نماز میں پڑھا، خداتعالیٰ نے قرض سے نجات دے دی۔

(سیرت احمدؑاز حضرت قدرت اللہ سنوری صاحبؓ، صفحہ165)

اسی طرح حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالویؓ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ کے حوالہ سے بیان فرمایا ہے کہ جب ایک احمدی دوست نے مالی تنگی کا ذکر کیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُسے یہ دعا مانگنے کی نصیحت فرمائی:

اللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوۡرٰاتِیۡ وَاٰمِنۡ رَوۡعَاتِیۡ۔

حضرت شیخ صاحبؓ اپنی سوانح حیات (مطبوعہ ’’اصحاب احمد‘‘ جلد سوم) میں تحریر فرماتے ہیں کہ خاکسار کی پہلی شادی اپریل1907ء میں ہوئی تھی، اس کا سارا خرچ مجھ پر ہی تھا جس سے میں زیر بار ہوگیا۔ اس بارہ میں دعا کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ (خلیفہ اوّل) کی خدمت میں عرض کرتا رہا اور جواب مجھے ملتے رہے۔ ایک بار حضورؓ نے تحریرفرمایا: ’’اگر قرض ادا کرنے کی سچی نیت ہو اور اس فکر میں آدمی لگا رہے اور جس قدر ممکن ہو اس کو ادا کرتا رہے تو خداتعالیٰ ضرور سامان مہیا کردیتا ہے کہ وہ اداہوجائے۔ توبہ استغفار اور لاحول کی کثرت کیا کریں۔ نمازوں میں عجزاور زاری سے دعائیں مانگا کریں۔‘‘ (خط محرّرہ 2مئی1907ء از قادیان)
ایک خط کا یہ جواب ملا: ’’آپ قرضہ کے لئے توبہ، استغفار، لاحول سے کام لیں اور ادا کرنے کا ارادہ کرلیں۔…‘‘۔ (خط محرّرہ اگست 1907ء)
ایک دفعہ اسی قرضہ کے بارے میں اپنی گھبراہٹ کا ذکر ایک خط میں کر کے دعا کی درخواست کی تو حضورؓ نے جواباً تحریر فرمایا:
’’آپ اِستغفار جس کے معنی ہیں الٰہی! میں نے غفلت کی، اس کے بد نتائج سے مجھے محفوظ رکھ اور غفلت سے بچا۔

اَسْتَغْفِرُاللہ ۔

اور لاحول جس کے معنی ہیں الٰہی! تیرے فضل وکرم کے سوا کچھ نہیں بن سکتا، تُو بدی سے پھیر اور نیک بنا۔

لَاحَوۡلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ۔

اور

اَلۡحَمۡد شریف

بلحاظ معنی۔ اور درود بایں خیال کہ الٰہی! محمد رسول ﷺ نے ہمارے لئے بڑے دکھ درد اٹھائے اور بڑی محنت سے ہم تک تیرا دین پہنچایا، الٰہی! اس کے بدلہ میں ہماری طرف سے اس پاک انسان پر خاص خاص اور عام رحمتیں اور سلام اور برکات پہنچادے۔ آمین۔ یہ چار باتیں آپ اختیار فرماویں۔‘‘ (خط محرّرہ2اگست 1907ء)

(تاریخ احمدیت جلد چہارم، صفحہ 644)

حضرت شیخ صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک بار قرض کے حوالہ سے دعا کے لئے عرض کرنے پر حضورؓ نے جواباً تحریر فرمایا: ’’آپ استغفار اور لاحول (پڑھا) کریں۔ دعا تو ہر صورت مفید ہے مگر مسلمان خود فضول خرچیاں فرماتے ہیں اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا۔‘‘ (خط محرّرہ 22؍اکتوبر 1907ء)
حضرت شیخ صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ان نصائح پر اللہ تعالیٰ نے مجھے عمل کرنے کی توفیق عطا کی اور حضورؓ کی توجہ اور دعا سے میرا قرض اتر گیا۔
حضرت جمعدار فضل الدین صاحب آف لاہور بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے 1911ء میں حضرت خلیفۃالمسیح اوّلؓ کے ہاتھ پر قادیان حاضر ہو کر بیعت کی۔ اس سے پہلے میں غیرمقلد خیالات کا تھا۔ میں اوورسیئر تھا اور میری تنخواہ اخراجات کے لئے ناکافی تھی اس لئے ہمیشہ مقروض رہتا تھا اور اس قرضہ کو میں ان رقوم سے ادا کرتا تھا جو وقتاًفوقتاً بعض ٹھیکیدار (باوجود میرے انکار کے) مجھے بطور رشوت دے دیا کرتے تھے۔ جب میں نے بیعت کرتے وقت حضورؓ کے ہاتھ پر اقرار کیا کہ رشوت نہیں لوں گا، جھوٹ نہیں بولوں گا تو مجھے اپنے قرضہ کا خیال آیا کہ اب کس طرح اتاروں گا۔ جس روپے کو پہلے میں رشوت نہیں سمجھتا تھا اب رشوت سمجھنے لگا تھا اور ادھر قرض کا فکر تھا۔ بعض دفعہ توبہ توڑنے کے خیالات پیدا ہوئے، کبھی دل میں خواہش پیدا ہوتی تھی کہ مجھے کوئی کچھ دے اور میں اپنا قرضہ اتارلوں۔ مگر ساتھ ہی یہ خیال آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے توبہ کی توفیق دی ہے ممکن ہے دوبارہ تجھے سچی توبہ کی توفیق نہ ملے۔ ان متضاد جذبات کا تلاطم تین ماہ تک میرے دل میں رہا۔ پھر مجھے ایک خواب کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ اگر تُو توبہ پر قائم رہے گا تو یہ یہ انعامات ملیں گے۔ اور اگر توبہ توڑ دی تو گو تیری دنیا سدھر جائے گی مگر پھر توبہ نصیب نہیں ہوگی۔ اس خواب کے بعد میں نے اپنے متعلقین سے کہہ دیا کہ میری تنخواہ اس قدر ہے اور اسی میں سے مجھے چندہ وغیرہ دینا ہے۔ اور قرضہ کے متعلق فیصلہ کرلیا کہ قرض خواہوں کی طرف سے اگر مجھے قید میں بھی ڈال دیا جائے تو قید بھگت لوں گا مگر رشوت نہیں لوں گا۔ 1912ء میں مَیں دوبارہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ میں حضورؓسے اپنے مِصر جانے کے متعلق مشورہ لوں کیونکہ ان دنوں مِصر میں کافی تنخواہ پر بھرتی کی جا رہی تھی۔ جب میں نے اپنے مِصر جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو حضورؓ نے فرمایا: اچھا ہے، آپ مِصر چلے جائیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضور! میں مقروض ہوں اور عیال دار ہوں حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے قرضہ سے نجات دے۔ تو حضورؓ نے نذرانہ کے روپے مجھے واپس کرتے ہوئے فرمایا: میں بھی دعا کروں گا۔ مگر تمہارا کام یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں آئے وہ قرض خواہ کو دے دیا کرو اور پھر ضرورتاً اسی سے قرض لیا کرو۔ اس طرح تمہارا اعتبار ہوجائے گا اور ساتھ ہی ساتھ بہت بہت استغفار کرتے رہا کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں قرضہ سے نجات دے۔ مگر دیکھنا قرض خواہ کا حق ادا کرنے میں جلدی کرنا۔ حضرت جمعدار صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مَیں نے اسی دن حضورؓ کے بیان فرمودہ نسخہ پر عمل شروع کر دیا جس کو آج 37سال ہو گئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے باعزت رہا ہوں۔
سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرض کی ادائیگی کے حوالہ سے احمدیوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
’’احمدی کی پہچان تو یہ ہونی چاہئے کہ ایک تو قرض اتارنے میں جلدی کریں، (اور) دوسرے قرض دینے والے کے احسان مند ہوں کہ وہ ضرورت کے وقت ان کے کام آیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرماتے ہیں:
’’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ ان امور کی پروا نہیں کرتے اور ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بہت کم توجہ کرتے ہیں، اپنے قرضوں کے ادا کرنے میں۔ یہ عدل کے خلاف ہے۔ آنحضرت ﷺ تو ایسے لوگوں کی نماز (جنازہ) نہ پڑھتے تھے۔ پس تم میں سے ہر ایک اس بات کو خوب یاد رکھے کہ قرضوں کے ادا کرنے میں سُستی نہیں کرنی چاہئے اور ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دُور بھاگنا چاہئے کیونکہ یہ امرِ الٰہی کے خلاف ہے جو اس نے اس آیت میں یعنی

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَاءِ ذِی الْقُرْبٰی (النحل:91)

دیا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 4 صفحہ607)۔
تویہاں یہ بات بھی یا د رکھنی چاہئے کہ ایک تو یہ کہ قرض مقررہ میعاد کے اندر ادا کیاجائے جس کا وعدہ کیا گیاہے۔اور اگر پتہ ہے کہ واپس نہیں کر سکتے کیونکہ وسائل ہی نہیں ہیں ، اورغلط بیانی کرکے میعاد مقرر کروا لی ہے تو پھر بہتر ہے کہ خائن بننے کی بجائے مدد مانگ لی جائے۔ لیکن جھوٹ اور خیانت کے مرتکب نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن مدد مانگنے والوں کو بھی عادت نہیں بنا لینی چاہئے کیونکہ سوائے انتہائی اضطراری حالت کے اس طرح مدد مانگنا بھی منع ہے اور معیوب سمجھا گیاہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے سخت خلاف تھے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍فروری 2004ء)

اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور توفیق عطا فرمائے کہ ہم دوسروں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کرنے والے بنیں۔ آمین
(محمود احمد ملک)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/zAIO6]

اپنا تبصرہ بھیجیں