اداریہ: بحیثیت والد … انصار کی ایک اہم ذمہ داری

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین یوکے نومبر و دسمبر 2019ء)

اداریہ: بحیثیت والد … انصار کی ایک اہم ذمہ داری

اولاد کی محبت اگر ماں باپ کی سرشت میں قدرت کی طرف سے ودیعت نہ کی جاتی تو باغِ عالم میں انسانی وجود کا پودا بالکل ناپید ہوجاتا، کبھی بھی ماں حمل میں نومہینہ تک بچہ کو لئے نہ پھرتی اور ہرممکن طریق سے حمل کی حفاظت نہ کرتی۔ ماں تو وضع حمل کے تمام خطرات میں اپنی جان سے بیزار ہوتے ہوئے بھی بچہ کی جان کی سلامتی کی دل سے متمنّی ہوتی ہے۔ تکلیف دہ مراحل بخیروعافیت طے ہوجانے پر اپنی ساری تکلیفوں کو یکدم فراموش کرکے بچہ کو دودھ پلانے کے لئے اپنی چھاتیوں سے لگالیتی ہے۔ اُس وقت وہ بچے کی خوبیوں یا حُسن و جمال کی وجہ سے اس کی فریفتہ نہیں ہوتی اور نہ وہ یہ خیال کرتی ہے کہ یہ بڑا ہو کر اس کے لئے آرام وآسائش کا موجب ہوگا۔ بلکہ وہ محض قدرتی جذبہ اور فطرتی خاصہ کی وجہ سے اس پر جان دیتی ہے اور سالہاسال خود قربانی کرکے اُس کی پرورش کرتی ہے۔ اسی طرح شفقت پدری میں باپ اپنا لہو پسینہ ایک کرتا ہے۔ ریل کے قلیوں کی طرح دن رات کام کرتا ہے۔ کیوں؟ صرف بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے، ان کی تعلیم و تربیت کے لئے، ان کی شادی بیاہ کے لئے۔ وہ اپنی آسائش پر بچوں کی آسائش مقدّم کرتا ہے اور بچوں کے آرام کے لئے اپنا آرام قربان کردیتا ہے۔ اسی لئے باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا دنیا میں ضرب المثل ہیں۔
لیکن یہ بھی ہمارا مشاہدہ ہے کہ بعض جاہل مائیں اور عاقبت نااندیش باپ اپنی اولاد کی زندگی خود تباہ کردیتے ہیں۔ بے جا لاڈ پیار سے بچے بگڑ جاتے ہیں، ان کے اخلاق تباہ ہوجاتے ہیں ، وہ دنیا کے لئے بجائے مفید وجود ثابت ہونے کے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں۔ بچوں کے خراب ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ماں باپ بوجہ قدرتی محبت اور فطری پیار کے بے سمجھی کے زمانہ میں بچہ کی تربیت اور اخلاق کی درستی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جب بچہ نادانی سے نکل کر سمجھ کے میدان میں قدم رکھتا ہے اس وقت وہ اُن عادات کو دُور کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اس وقت ایسا کرنا ماں باپ کے اختیار سے باہر ہوتا ہے۔
آنحضرتﷺ نے ابتدا سے ہی بچہ کی تربیت کی طرف توجہ فرمائی۔ چنانچہ جب آپ اپنی بیوی کے پاس جاتے تو دعا کرتے کہ الٰہی اگر اس فعل مباشرت سے تیرے علم میں ہمیں کوئی بچہ عطا ہونے والا ہے تو ہمیں اِس وقت گندے شہوانی جذبات سے بچا۔ علم النفس کے ماہرین کی متفقہ شہادت سے ثابت ہے کہ بچہ کے اخلاق پر ماں باپ کے خیالات اور جذبات کا بہت اثر ہوتا ہے۔ پس بچے کی باطنی پاکیزگی اور طہارت کا خیال رکھنا ماں باپ کا فرض ہے اور اسی طرح اس کی جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی اُن کی اوّلین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
دراصل بچہ کے وجود سے یہ غرض نہیں کہ وہ ہمارا کھلونا بنے اور صرف ہمارا دل بہلانے کے لئے اور چومنے اور چاٹنے کے لئے ہمارے پاس موجود رہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کی ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ چنانچہ اُس کی ہر پہلو سے نگہداشت کرنا اور اُس کی تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے نبھانے کی کوشش کرنا ہم سب کا فرض ہونا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ، حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے خلفائے عظام کے ارشادات اور پاکیزہ نمونے بڑی تفصیل سے بچوں کی تربیت کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ہمارے پیارے امام سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بچوں کی تربیت کے مختلف پہلوؤں کو ہر سطح پر بار بار بیان فرمایا ہے۔ اخلاقیات کے تمام تر پہلوؤں پر کئی خطبات جمعہ ارشاد فرمائے ہیں اور ذیلی تنظیموں کے جلسوں اور اجتماعات میں اپنے نہایت پُراثر خطابات میں والدین کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ محترم برادرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب اپنے ایک مضمون میں (جو چند ماہ قبل اخبار ’’الحکم‘‘ کی زینت بنا) پیارے آقا کی گھریلو زندگی کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورانور کی ذاتی اور گھریلو زندگی اُن نصائح کی نہایت دلکش عملی تصویر ہے جن کی تلقین حضورانور اپنے خطبات، خطابات میں اور دیگر مواقع پر فرماتے ہیں۔ اس خوبصورت مضمون کا ایک حصہ برمشتمل عبادات خصوصاً نمازوں کی ادائیگی سے تعلق رکھتا ہے جو نہایت رُوح پرور ہے۔
محترم برادرم صاحبزادہ صاحب رقمطراز ہیں کہ
’’خلافت کے بعد سے نہیں بلکہ حضور نے اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنے میں گزاری ہے۔ایک بات ہمیشہ سے یہ دیکھی ہے کہ حضورانور کو سب سے زیادہ خیال عبادات کا رہا۔ نماز کے اوقات کی پابندی کرنا اور گھر میں بھی کرانا حضور کی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جو میرے ذہن پر ہمیشہ سے نقش ہے۔ افریقہ میں قیام کے دوران بہت سے چیلنجز تھے لیکن جو چیز یاد رہ گئی وہ حضور کا پنجوقتہ نمازوں کا اہتمام ہے۔ ہمیں بھی بچپن سے اگر کسی بات کا تواتر سے پوچھا ہے تو وہ نماز کی ادائیگی کے بارہ میں پوچھا ہے۔ پھر حضور کی نمازوں میں جو استغراق اور گریہ دیکھا ہے وہ مثالی ہے۔ حضور کو اپنے تمام معاملات ہمیشہ اپنے خدا کے سپرد کرتے دیکھا ہے۔ مقدور بھر تدبیر کرنا اور پھر نتائج کو خدا کے سپرد کردینا ایک ایسی تعلیم ہے جو نہ صرف زبانی حضور نے ہمیں دی بلکہ اپنے عمل سے بھی ہمیں یہی سکھایا۔ حضور کا جو وقت گھر میں گزرتا اُس میں بھی زیادہ نمایاں پہلو نماز ہے۔ جو بھی کررہے ہیں، ہمارے ساتھ جو بھی بات چل رہی ہے، جب نماز کا وقت ہوگیا تو بس پھر صرف نماز ہوگی۔ ایک مرتبہ کراچی گئے۔ رات کو دیر سے پہنچے، سوتے سوتے اَور بھی دیر ہوگئی۔ صبح فجر کی نماز کے لئے معمولی سی دیر ہوگئی۔ یعنی ابھی وقت تھا مگر بہت کم رہ گیا تھا۔ حضور نے جس گھبراہٹ اور پریشانی سے ہم سب کو نماز کے لئے اٹھایا وہ ذہن پر آج تک نقش ہے۔ حضور کا پورا وجود کانپ رہا تھا کہ نماز کا وقت نکلنے والا ہے۔ جلدی جلدی اُٹھاتے جاتے اور نماز کی تیاری کرتے جاتے۔ یہ ہمارے بہت بچپن کی بات ہے اور اسی بچپن کے بھولپن میں مَیں نے کہہ دیا کہ ابھی وقت تو ہے، ایسا بھی کیا ہوگیا!۔ یہ ایک بچے کا نادانی میں کہا گیا جملہ تھا لیکن آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ ہمیں نماز کے لئے اٹھاتے وقت حضور کی جو حالت تھی اُس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضور کی ہر نیکی خالصۃً خداتعالیٰ کی خاطر رہی ہے، کسی کو دکھانے کے لئے نہیں۔ صرف نمازیں ہی نہیں بلکہ حضور کا ہر نیک عمل اس رنگ میں ہوتا ہے کہ اس میں صرف خداتعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اُس کی رضا کا حصول پیش نظر ہوتا ہے۔
حضور ہمارے بچپن سے ہی نماز پر بہت زور دیتے رہے ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔ مَیں جب 2003ء میں لندن تعلیم حاصل کرنے آیا تو مجھے روانہ کرتے وقت سب سے زیادہ زور جس بات پر دیا وہ نماز کی باقاعدہ ادائیگی ہی تھی۔ ہمیشہ یہی کہا اور اس وقت بھی یہی بات دہرائی کہ نماز پڑھتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ حفاظت بھی فرماتا رہے گا۔ فون پر بات ہوتی تو بھی نماز کے متعلق ضرور دریافت فرماتے۔ ہماری عمر بڑھتی گئی تو حضور کی نصیحت کا انداز بھی بدلتا گیا۔ مگر جن باتوں کی تلقین بچپن میں فرماتے تھے اُن کی تلقین ہمیشہ رہی، آج بھی ہے۔ مسجد فضل کے احاطہ میں سولہ سال کا عرصہ ہمارا گزرا ہے، اس میں روزانہ فون کرکے مجھے نماز کے لئے اٹھاتے رہے۔… پھر اب آگے ہمارے بچے ہیں، اُن کی تربیت میں انہی باتوں کی تلقین فرماتے ہیں بالخصوص نماز کے بارہ میں۔
خلافت کے بعد حضور کے معمولات میں بہت زیادہ تبدیلی آگئی۔ حضور کا سارا وقت جماعت کے لئے وقف ہوگیا مگر گھریلو زندگی میں ہماری تعلیم و تربیت پر توجہ برقرار رہی۔ ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ خلیفہ بننے کے بعد حضور نے جو نصائح جماعت کو کیں اُن پر عمل کرنے کی توقع ہم سے بھی رکھی۔ نماز ہمیشہ سے حضور کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو رہا۔ خلافت کے بعد جماعت کو بھی ہمیشہ نماز کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے رہے اور گھر میں بھی اسی پر سب سے زیادہ زور دیا۔‘‘
معزز قارئین! مذکورہ بالا مضمون میں جس قابلِ صد احترام شفیق باپ کی ذاتی زندگی کے بعض پاکیزہ گوشوں سے کو آشکار کیا گیا ہے وہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں۔ کیونکہ یہ بابرکت وجود وہ مردِ خدا ہے جسے خدائے ذوالجلال نے مسند خلافت پر متمکّن فرماکر آج ہر احمدی کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کی ذمہ داری اُن کے کندھوں پر ڈال دی ہے اور حضورانور کے قول و فعل سے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرکے معبودِ حقیقی کے سامنے سرخرو ہونے کی سعی منعکس ہوتی ہے۔ یہ تڑپ حضوراقدس کے ارشادات سے بھی عیاں ہوتی ہے اور ان نصائح کے ساتھ ساتھ ربّ کریم کے حضور دعاؤں میں تڑپ اور گریہ و زاری اپنی جگہ پر ہے تاکہ جماعت احمدیہ میں عباد صالحین کی ایسی جماعت ہمیشہ پیدا ہوتی چلی جائے جس کے حق میں خلافتِ حقّہ کا قرآنی وعدہ بھی قیامت تک ایک شان سے پورا ہوتا چلا جائے۔
برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ محترم صاحبزادہ صاحب کا رقم فرمودہ مضمون پڑھنے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کا بیان فرمودہ ایک واقعہ یاد آگیا۔ آپؓ فرماتے ہیں:
’’میرے نزدیک ان ماں باپ سے بڑھ کر اولاد کا کوئی دشمن نہیں جو بچوں کو نماز باجماعت اداکرنے کی عادت نہیں ڈالتے۔ مجھے اپنا ایک واقعہ یا دہے۔ ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ بیمار تھے اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جا سکے۔ میں اس وقت بالغ نہیں تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔ تا ہم میں جمعہ پڑھنے کے لئے مسجد کو آ رہاتھا کہ ایک شخـص مجھے ملا۔…میں نے ان سے پوچھا آپ واپس آ رہے ہیں کیا نماز ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی میں واپس آ گیا۔ میں بھی یہ جواب سن کر واپس آ گیا اور گھر میں آ کر نماز پڑھ لی۔ حضرت صاحب ؑ نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے؟ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحبؑ کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپؑ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔ آپؑ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا۔ آپؑ یہ سن کر خاموش ہو گئے لیکن اب جس وقت جمعہ پڑھ کرمولوی عبدالکریم صاحبؓ آپؑ کی طبیعت کا حال پوچھنے کے لئے آئے تو سب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپؓ سے دریافت کی وہ یہ تھی: کیا آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے؟
اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیداہوئی کیونکہ میں خودتو مسجد میں گیا نہیں تھا۔ معلوم نہیں بتانے والے کو غلطی لگی یا مجھے اس کی بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں ان کی بات سے یہ سمجھا تھا کہ مسجد میں جگہ نہیں۔ مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے دونوں صورتوں میں الزام مجھ پر آئے گا کہ میں نے جھوٹ بولا۔ مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے جواب دیا: ہاں حضور آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔
مَیں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔ خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحبؓ کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرا دی یا فی الواقع اس دن غیر معمولی طور پر زیادہ لوگ آئے تھے۔ بہرحال یہ ایک واقعہ ہوا ہے جس کا آج تک میرے قلب پر ایک گہرا اثر ہے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نماز باجماعت کا کتنا خیال رہتا تھا۔‘‘ (خطبات محمودجلد 9 صفحہ163-164)
پس آج یہ ہم انصار کا فرض ہے کہ ہم بھی حقیقی معنوں میں اپنے آقا کا سلطان نصیر بننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں اور عبادات خصوصاً نماز کی تمام شرائط کے ساتھ ادائیگی کے حوالہ سے پیارے آقا کی ارشاد فرمودہ نصائح پر نہ صرف خود عمل کرنے کی سعادت حاصل کریں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی ان نیکیوں کو رواج دیتے چلے جائیں۔ اور یہ دعا درد دِل سے کرتے چلے جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خلافت کی عظیم الشان نعمت کی قدر کرنے والوں میں سے بنائے اور ہمارے پیارے آقا کو ہمیشہ صحت و عافیت سے رکھے۔ آمین۔

(محمود احمد ملک)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Rwiqf]

اپنا تبصرہ بھیجیں