اخلاق پر خوراک کا اثر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر جن عظیم الشان اسرار سے پردہ اٹھایا ہے ان میں ایک خوراک کا اخلاق پر اثر بھی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ نہ صرف خوراک بلکہ کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
قرآن کریم کی پچیس سے زیادہ آیات میں حلال اور طیب غذاؤں کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے اور اشارہ دیا گیا ہے کہ طیب اور پاک خوراک ہی کے نتیجہ میں نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مُردار، خون اور سؤر کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے نیز ایسی چیز کو بھی جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اَور کا نام لیا گیا ہو۔ اب مُردار کے بارہ میں خواہ وہ بوڑھا ہوکر مرا ہو یا کسی زہر خورانی یا کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے مرا ہو، اس کا گوشت زہریلا اور ناقابل استعمال ہوجاتا ہے۔ اگر وہ کسی صدمہ سے مثلاً کنویں میں گر کر یا جانوروں کی باہمی لڑائی سے مرا ہو تو بھی خون میں زہر پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر خون اپنی ذات میں ہی ایسی چیز ہے جو کئی قسم کی زہریں اپنے اندر رکھتا ہے۔ یہی حال سؤر کے گوشت کا ہے نیز سؤر میں بعض اخلاقی عیوب بھی پائے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ خنزیر کا لفظ خنز (یعنی فاسد) اور اَر (یعنی دیکھتا ہوں) سے مرکّب ہے۔ ہندی میں اسے سؤر کہتے ہیں اور یہ لفظ بھی سوء (یعنی بُرا) اور اَر (یعنی دیکھتا ہوں) سے مرکّب ہے۔ پھر غیراللہ کے نام پر ذبح کی جانے والی چیز کا استعمال انسان کو بے غیرت بناتا اور دل سے اللہ تعالیٰ کا ادب دُور کر دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے طیب خوراک میں بھی اعتدال پر زور دیا ہے اور حد سے تجاوز کرنے سے منع فرمایا ہے: کلوا واشربوا ولا تسرفوا۔
گزشتہ چند سالوں میں ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سفید چینی کا ضرورت سے زیادہ استعمال دماغ میں ایسی کیفیت پیدا کردیتا ہے کہ انسان اچانک غصہ میں آنے لگتا ہے اور ذہنی دباؤ اور الجھن کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ امریکہ میں ایک جائزہ کے مطابق 85 فیصد مجرم زیادہ چینی استعمال کرنے کے عادی تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صحت مند غذا کھانے والے چینی زیادہ کھانے والوں کی نسبت جلدی منشیات سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔ 1977ء میں ایک امریکی خاتون نے مجرموں کے علاج کا کامیاب تجربہ اُن کی خوراک میں سے چینی، کافی، الکوحل اور مٹھائیاں وغیرہ قطعی بند کرکے کیا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ 252 قیدیوں میں سے کوئی بھی دوبارہ کسی جرم کا مرتکب نہیں ہوا۔ بعض جیلوں میں چینی اور میدہ کو خوراک سے خارج کیا گیا تو ایک سال کے اندر قیدیوں کی بیماریاں کم ہوگئیں اور اُن میں نظم و ضبط بڑھ گیا۔ اسی طرح سینکڑوں مجرموں اور دیگر افراد پر کئے جانے والے بہت سے تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ مٹھاس کی کمی سے تمام منفی رویوں میں کمی آتی ہے اور طبیعت اصلاح پسندی کی طرف مائل ہوتی ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’لوگ عام طور پر پوچھا کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے کس طرح محبت کریں، نیکیوں میں کس طرح ترقی کریں، گناہوں اور مختلف بدیوں سے کس طرح بچیں… اللہ تعالیٰ ان سب سوالات کا یہ جواب دیتا ہے کہ … اگر تم یہ چاہتے ہو کہ عمل صالح تم سے صادر ہوں تو تم حلال اور طیب چیزیں استعمال کرو۔ اگر تم حرام خوری کروگے تو تم میں دھوکا بھی ہوگا، فریب بھی ہوگا، دغابازی بھی ہوگی، لالچ بھی ہوگا، معاملات میں خرابی بھی ہوگی۔ اس کے بعد یہ امید رکھنا کہ تم نیکیوں میں ترقی کرنے لگ جاؤگے اور خدا تعالیٰ کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہوجائے گی، محض ایک خام خیالی ہے‘‘۔
یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍دسمبر 2003ء میں مکرم عبدالسمیع خانصاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/YXksR]

اپنا تبصرہ بھیجیں