احمدیہ ہسپتال نیو بصہ (نائیجیریا) کا آغاز

روزنامہ الفضل ربوہ 22فروری 2012ء میں مکرم ڈاکٹر ملک مدثر احمدصاحب کے قلم سے نائیجیریا کی نائیجر سٹیٹ کے ایک چھوٹے سے قصبے نیوبصّہ میں احمدیہ ہسپتال کے آغاز کی ایمان افروز تاریخ پیش کی گئی ہے۔
نیوبصہ (New Bussa) کی وجہ شہرت نائیجیریا کا سب سے بڑاکانجی ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم ہے۔ یہاں احمدیت کا تعارف 1992ء میں مکرم عبدالخالق نیّر صاحب مبلغ سلسلہ کے ذریعہ ہوا اور چند نوجوانوں نے احمدیت قبول کی جن میں معلّم ابراہیم بالا صاحب اور ان کے بھائی شامل تھے۔ یہاں کے روایتی بادشاہ الحاجی موسیٰ محمدکیگیرا نے جماعت کو خوش آمدید کہا۔ بعدازاں 1993ء میں وہ علاج کی غرض سے لندن آئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے بھی ملاقات کی۔ پھر جماعت سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے علاقہ میں تبلیغ کی اجازت دیدی۔ چنانچہ 1993ء میں نیوبصّہ میں ایک زیر تعمیر عمارت اور پھر چند ملحقہ پلاٹ اور مکانات بھی خرید لئے گئے اور بعد ازاں اس جگہ ہسپتال بنانے کا فیصلہ ہوا۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ خاکسار اور اہلیہ ڈاکٹر لئیقہ فوزیہ نے1995ء میں شادی کے فوراً بعد زندگی وقف کردی۔ اس وقت خاکسار راولپنڈی میڈیکل کالج میں لیکچرار تھا جبکہ اہلیہ نے ہاؤس جاب مکمل کیا تھا۔ ہماری تعیناتی نائیجیریا کے لئے ہوئی اور ہم پانچ ماہ کی بیٹی کے ساتھ 25 جنوری 1997ء کو نائیجیریا پہنچ گئے۔ میڈیکل پریکٹس کے لائسنس کے لئے وہاں ایک امتحان پاس کیا تو اپریل1997ء میں امیر جماعت نائیجیریا الحاجی سومونو صاحب نے ہم میاں بیوی کو نیوبصّہ بھجواتے ہوئے کہا کہ جماعت وہاں نیا ہسپتال کھولنا چاہتی ہے۔
جماعت کے مرکز اوجوکورو سے نیو بصّہ 550 کلومیٹر دُور ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ عمارت میں بجلی اور پانی لگنے کے علاوہ ابھی پلستر ہونا اور دروازے کھڑکیاں لگنا بھی باقی تھے۔ مکرم عبدالخالق نیّر صاحب ہمارے ساتھ آئے تھے۔ اُن کی درخواست پر بادشاہ نے اپنے گیسٹ ہاؤس میں ہمیں عارضی رہائش دیدی۔ قریباً دو ہفتے بعد جب ہمارے رہائشی مکان کے دروازے کھڑکیاں لگ گئے تو ہم گدّے زمین پر ڈال کر وہاں شِفٹ ہوگئے۔
ہسپتال کی عمارت نامکمل تھی، چاردیواری بھی نہیں تھی اور لوگ اپنا کوڑا کرکٹ یہاں پھینکتے تھے۔ گھاس اور جھاڑیوں سے منظر بھیانک بن گیا تھا۔ اس وقت تک نیوبصّہ میں چند نوجوان احمدی تھے۔ انہوں نے بہت تعاون کیا اور کئی ہفتوں کے وقارعمل سے صفائی کرکے خوبصورت گھاس اور پھول دار اور پھلدار پودے لگائے گئے۔ بکریوں سے پودے بچانے کے لئے جنگل سے لمبے ڈنڈے کاٹ کر اُن کی باڑ لگائی گئی۔ اس طرح چند ہفتوں میں یہ جگہ نہایت خوبصورت نظر آنے لگی ۔
مالی تنگی کے باعث ہسپتال کی عمارت کئی ماہ تک مکمل نہ ہوسکی۔ اس عرصہ میں ہم میاں بیوی تبلیغ اور تربیت کا کام کرتے رہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو قرآن پڑھانے اور دین سکھانے کی کلاسیں شروع کیں۔ نومبر 1997ء میں ہسپتال کی تکمیل کے لئے رقم میسر ہوئی تو پلستر ہوا، دروازے کھڑکیاں اور بجلی لگ گئی۔ اور یکم دسمبر 1997ء کو افتتاح کا دن مقرر ہوا۔ وہاں کے بادشاہ نے نائیجر سٹیٹ کے گورنر اور ملٹری ایڈمنسٹریٹرC.P. Simeon O. Oduoye کو افتتاح کی دعوت دی۔ میرے لئے پریشانی یہ تھی کہ عمارت تو کسی حد تک مکمل ہو گئی تھی لیکن اندر کچھ سامان نہ تھا۔ پرانے احمدیہ ہسپتالوں سے اُن کی ضرورت سے زائد اشیاء اکٹھی کی گئیں لیکن چند ٹوٹی پھوٹی اشیا ء ملیں جن میں بغیر گدّے کے 9 بیڈ اور ایک پنکھا بھی تھا۔ خاکسار نے ان اشیاء کو پینٹ اور مرمت کیا اور کمروں میں رکھ لیا۔ کچھ بینچ، میز اور کرسیاں بنوالی گئیں۔ مرکز سے جو سامان ملا اس میں ایک لائٹ ، ایک کاٹری مشین، ایک چھوٹی مائیکروسکوپ اور پورٹیبل ایکسرے مشین تھی جس کے ساتھ دیگر سامان نہ تھا۔ امیر صاحب نے 50 ہزار نائیرے (585 ڈالر) دئیے جن سے ادویات، لیبارٹری کا سامان، ایکسرے کا سامان اور دیگر چیزیں خریدنی تھیں۔
یکم دسمبر 1997ء کو گورنر صاحب اپنی کابینہ سمیت سٹیٹ دارالحکومت Minna سے قریباً پانچ گھنٹے کا سفر کرکے تشریف لائے۔ ملٹری کمانڈر، سر کاری افسران، بادشاہ، جماعتی عہدیدار اور عوام الناس بھی شامل ہوئے۔
افتتاح کے بعد کچھ سٹاف بھرتی کیا اور کام شروع کردیا۔ مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ہسپتال سے جو آمد ہوتی اس سے کچھ نہ کچھ خرید لیتے لیکن پھر بھی کسمپرسی کا عالم تھا۔ چند ماہ بعد ایک جرمن Dr.Thomas مجھے ملنے آئے جو دیہی علاقوں میں صحت کے فروغ کے لئے کسی جرمن ادارہ میں کام کرتے تھے۔ وہ ہمارے ہسپتال میں خدمت کا شہرہ سُن کر دیکھنے آئے اور ہسپتال کا وزٹ کرکے کہنے لگے کہ آپ کو تو ابھی بہت چیزوں کی ضرورت ہے۔ مجھے فہرست بنا دیں۔ میں نے لکھ دیا تو اگلے دن انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلاکر ایک لاکھ نائیرے کا چیک دیا کہ ضرورت کی چیزیں خرید لو اور مجھے رسیدیں بھجوا دو۔
پھر کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ تشریف لائے اور ہسپتال کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور لیبارٹری کیلئے ایک لاکھ نائرے کی مائیکروسکوپ خرید کر لا دی۔ اس طرح اکثر آتے اور مدد کرتے رہے۔ ایک دفعہ میں نے ہومیوپیتھی کا ذکر کیا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اس کی ترویج کے لئے کوشاں ہیں تو اگلی دفعہ جرمنی سے کچھ ضروری ہومیوپیتھک ادویات خرید لائے۔
ہمارا علم اور تجربہ بہت ہی کم اور ناقص ہے لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت شامل حال ہوتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ابھی ہسپتال شروع ہوئے چند دن گزرے تھے کہ ایک صاحب اپنی بیوی کو لے کر آئے اور کہنے لگے کہ میری دو بیویاں ہیں لیکن دونوں سے کوئی اولادنہیں ہے۔ پہلی شادی کو گیارہ سال ہو گئے ہیں ۔میں نے سنا ہے کہ نیا ہسپتال کھلا ہے اس لئے علاج کے لیے آیا ہوں۔ ہمارے ہسپتال میں اُس وقت ابھی لیب بھی نہیں شروع ہوئی تھی کہ کوئی ٹیسٹ ہی کر لیتے۔ ہم نے کچھ وٹامنز دیں اور چند ماہ بعد آنے کو کہا، سوچا شاید اُس وقت کوئی ٹیسٹ وغیرہ کر لیں اور مشورہ دے سکیں۔ سو وہ مریض چلا گیا۔ ہم بھی اس کو بھول گئے۔تقریباًسال بعد وہ آدمی مجھے رستہ میں ملا اور شکریہ ادا کرنے لگا کہ آپ کی دوائی سے بہت فائدہ ہوا ہے اور پہلی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔میرا دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر گیا جس نے اپنے مسیح کی برکت سے صرف ہسپتال آنے سے ہی مریضوں کو شفا بخشی۔ اب تو پندرہ سال ہوگئے ہیں، یہ روزمرّہ کا مشاہدہ ہے کہ بہت سے مریض دوسرے ہسپتالوں سے آتے ہیں۔ اُن کا علاج اور تشخیص درست ہوتی ہے لیکن پھر بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ جب احمدیہ ہسپتال میں آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ شفا دے دیتا ہے۔
نیوبصّہ میں چند افراد پر مشتمل جماعت تھی۔ کوئی مسجد نہ تھی۔ معلّم عبداللطیف اواڈے صاحب کے گھر کے ایک کمرے میں نمازیں اور جمعہ ادا کرتے تھے۔ مسجد کی بہت ضرورت تھی لیکن افراد جماعت سب ہی غریب تھے۔ ہسپتال کی ایسی حالت تھی کہ جو آمدنی ہوتی وہ ہسپتال کی ضروریات پر ہی خرچ کرنی پڑتی۔خاکسا ر اور اہلیہ دونوں وقف ہیں اس لئے دونوں کا الاؤنس ملتا۔ ہم نے مشورہ کیا کہ ایک بندے کا الاؤنس مسجد بنانے کے لئے خرچ کیا جائے۔ سو ہسپتال کے احاطہ میں ایک جگہ مسجد کے لئے مختص کی اور وقارعمل کرکے بنیادیں کھودیں پھر ہر ماہ کچھ سیمنٹ کے بلاک بنوانے شروع کئے۔ اس طرح آہستہ آہستہ دیواریں بن گئیں۔ قریباً ایک سال میں چھت بھی پڑ گئی اور ہم نے وہاں نمازیں ادا کرنی شروع کر دیں۔ ایک احمدی دوست ڈیکو صاحب، جو ویلڈنگ کا کام کرتے تھے انہوں نے اپنی طرف سے کھڑکیاں اور دروازے بنا کر لگوا دئے۔ ہم جولائی 2001ء تک وہاں رہے اورہماری روانگی تک مسجد مکمل ہوگئی۔ اندر، باہر پلستر ہو گیا، سِیلنگ لگ گئی۔ بعد میں ڈاکٹر محبوب احمد ریحان صاحب نے ٹائلز بھی لگوا دیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جب اپریل 2008ء میں نیو بصّہ کا دورہ فرمایا تو اسی مسجد میں نمازیں ادا کیں۔
12 دسمبر1997ء کو میری اہلیہ ڈاکٹر لئیقہ فوزیہ کے بھائی مکرم مظفر احمد شرما صاحب کو شکارپور میں شہید کر دیا گیا۔ نیوبصّہ سے انٹر نیشنل فون کی سہولت میسر نہ تھی۔ پاکستان فون کرنے کے لئے سو کلومیٹر دُور مکوا جانا پڑا۔
2001ء کے شروع میں مکرم سعیدالرحمان صاحب (حال امیر جماعت سیرالیون) کی تعیناتی نیوبصّہ میں ہوئی تو اردگرد بہت سی نئی جماعتیں قائم ہو گئیں۔ وہاں کے روایتی بادشاہ الحاجی موسیٰ کاگیرا کا انہی دنوں انتقال ہوگیا تو کچھ عرصہ کے لئے اُن کے بیٹے الحاجی اشحاقو بادشاہ بنے۔ جولائی 2001ء میں جب ہم وہاں سے رخصت ہوئے تو وہ بادشاہ تھے۔ ہمیں الوداع کہنے خود تشریف لائے، تحائف بھی دیئے اور جماعت کی خدمات کو بہت سراہا۔ آجکل الحاجی دونتور وہاں کے بادشاہ ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ اُنہی کی دعوت پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپریل 2008ء میں وہاں کا دورہ فرمایا تھا۔
ہمارے بعد ڈاکٹر محمد ثاقب گھمن صاحب نے تین سال نیوبصّہ کے ہسپتال میں خدمت کی اور آجکل ڈاکٹر محبوب احمد ریحان صاحب وہاں خدمت بجالا رہے ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/XOrd8]

اپنا تبصرہ بھیجیں