احمدیت کے پھل – مکرمہ سائرہ احمد صاحبہ

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ۔ اکتوبر، نومبر 2008ء میں دو خواتین نے احمدیت کی آغوش میں آنے کی وجہ سے اپنی زندگیوں میں پیدا ہونے والی ایمان افروز تبدیلی کا ذکر کیا ہے۔
مکرمہ سائرہ احمد صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے والد چرچ میں پادری تھے اور میں وہیں پلی بڑھی۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ ’’تم اپنی زندگی کی بنیاد دعاؤں پر قائم کرو‘‘۔میں تیرہ سال کی تھی جب میرا عیسائیت سے لگاؤ پیدا کیا گیا اور میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنی ساری زندگی خدا کے لئے بسر کروں گی۔ میں نے یہ عہد اس لئے کیا تھا کیونکہ میں اپنے والد کی عادات سے متاثر تھی جو ایک عاجز اور پیار کرنے والی شخصیت کے ساتھ ساتھ بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔جس کی بنا پر لوگ بھی آپ سے محبت کرتے تھے۔ جب میں نے اُن سے کہا میں آپ کی طرح بننا چاہتی ہوں تو انہوں نے کہا: ’’نہیں، تمہیں وہ بننا چاہئے جس کاحکم تمہارا خدا دیتا ہے‘‘۔
میں نے ساری جوانی چرچ میں گزاری۔ اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کی اور اس بندھن میں ساڑھے سترہ سال تک رہی۔ لیکن خاوند سے علیحدگی کی بنیاد یہی تھی کہ میرے خیالات مذہبی تھے جبکہ وہ مختلف خیالات کا مالک تھا۔ اس کے بعد مجھے خواب میں ایک بزرگ شخصیت دکھائی گئی جس نے مجھے اپنی طرف بلایا اور مَیں سجدہ میں گر کر دعا مانگنے لگی (حالانکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے میں سجدہ سے واقف نہ تھی)۔ یہ خواب میرے اندر خوشی کے جذبات پیدا کر گیا۔ یہ خواب میں نے ٹرینیڈاڈ میں دیکھا اور جلد ہی اپنی بہن کے پاس رہنے کے لئے امریکہ چلی گئی۔ اپنا وطن چھوڑتے ہوئے مَیں نے دعا کی کہ ’’اے ابراہیم کے خدا! مجھے اِس وقت اکیلا نہ چھوڑنا‘‘۔ جب میں نے دعا ختم کی تو مجھے یہ آواز آئی کہ ’’آج سے تمہارا نام سائرہ ہے‘‘ یہ آواز بہت نرم تھی۔ میں دہرانے لگی کہ ’’میرا نام سائرہ ہے‘‘۔ میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ آواز کہاں سے آئی ہے لیکن مجھے یقین ہوگیا کہ یہ میرا نیا نام ہے۔
امریکہ پہنچ کر جب ایک بار میں نیویارک کی بس میں بیٹھی بائبل پڑھ رہی تھی تو میرے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ نئے مسیح کا پیروکار ہے۔ اُس نے پھر مجھے حضرت مسیح موعود ؑ کی تصویر دکھائی تو میں چونک اٹھی کہ یہ تو وہی شخص ہے جس کومیں نے خواب میں دوسال قبل دیکھا تھا۔
اُس آدمی نے مجھ سے کہا کہ ’’آج سے تمہارا نام سائرہ ہے‘‘۔ اس پر میں دوبارہ چونکی کیونکہ اِس اجنبی شخص نے وہی الفاظ دہرائے تھے جو میں نے دو سال قبل اپنے وطن سے ہجرت کے وقت سنے تھے۔
پھر میں نے اسلام کے بارہ میں پڑھنا اور دعائیں کرنا شروع کردیا۔ میں یہ سوچا کرتی کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ لیکن میں سمجھ گئی کہ یہ خدا کی مرضی ہے۔ جب میں نے اُسی شخص سے دوبارہ رابطہ کیا تو اُس نے مجھے “Where Did Jesus Die”کی کتاب پڑھنے کے لئے دی۔ اس کتاب نے مجھے عیسائیت میں پائی جانے والی غلط فہمیوں سے آگاہ کیا۔ میں مطالعہ کرتی رہی اور ایک رات خواب دیکھا جس میں خود کو شلوار قمیص پہنے ہوئے دیکھا (حالانکہ مجھے علم نہیں تھا کہ یہ کیسا لباس ہے)۔ میں نے ایک دریا کے دونوں طرف لوگوں کو دیکھا اور یوں لگا جیسے دریا اچھے اور برے لوگوں میں تفریق کر رہا ہے۔ پھر ایک عورت آئی اور مجھے دلاسہ دیا کہ وہ مجھے دریا کے پار اچھے لوگوں میں لے جائے گی۔
اگلے دن میں نے اس آدمی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو رابطہ ہی نہ ہوسکا۔ مَیں نے کئی دن پریشانی میں گزارے اور ایک دن یوں دعا مانگی کہ ’’اے ابراہیم کے خدا! مجھے وہ شخص دوبارہ دکھا دے‘‘۔ اِس دعا کے بعد مَیں سٹیشن پر گئی تو اُسے وہاں دیکھا۔ مَیں نے حیرت سے پوچھا کہ’’ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘۔ اُس نے کہا کہ ’’خدا نے میرے دل یہ بات ڈالی کہ میں یہاں آؤں‘‘۔ پھر میں نے اپنی خواب کا ذکر کیا تو اُس نے کہا کہ ’’میڈم ! خدا نے آپ کو ربوہ کی پاک بستی دکھائی ہے‘‘۔ اُس نے مجھے کچھ اور کتب بھی پڑھنے کے لئے دیں۔ آخر میں نے احمدیت قبول کرلی اور پھر اُس شخص سے ہی شادی بھی کر لی۔
دعائیں میری زندگی کی بنیاد ہیں۔ میری مسلسل دعاؤں نے مجھے اسلام سے آشنا کیا اور اسلام کے ذریعہ سے میں دعاؤں کے نئے مقام پر پہنچ گئی۔ اسلام نے میرے تقویٰ کو روشن کیا اور مجھے مکمل کیا۔ اِس سے مَیں اپنے آپ کو زیادہ محفوظ اور خدا کے نزدیک محسوس کرتی ہوں۔ اب زندگی میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کی مجھے خواہش ہو۔ میری تمام خوشیاں اللہ تعالیٰ میں ہیں۔ روحانیت کا مطلب ہے کہ آپ وہ مخلوق بن جاتے ہیں جس کو صرف خدا کی رضا کی فکر ہوتی ہے۔ میری زندگی، میرا سب کچھ اور میری موت سب اللہ کے لئے ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Bxzpk]

اپنا تبصرہ بھیجیں