ابتدائی واقف زندگی اور یورپ میں پہلے مبلغ – حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحبؓ

(مطبوعہ سہ ماہی اسماعیل اپریل تا جون 2012ء)
(محمود احمد ملک)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی اور یورپ کے پہلے مبلغ احمدیت حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحبؓ 1887ء میں جوڑا کلاں ضلع قصور کے ایک بڑے زمیندار حضرت چودھری نظام الدین صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ دونوں کو 1899ء میں قادیان جاکر قبول احمدیت کی سعادت عطا ہوئی۔
حضرت چودھری صاحبؓ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں جوڑا ضلع قصور میں حاصل کی۔ 1900ء میں جب آپ پانچویںجماعت میں پڑھتے تھے۔ آپ کے والد ماجد نے آپ کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج دیا۔ ا س کے بعد آپ نے دسویں جماعت تک وہیں تعلیم پائی۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے B.A. اور علیگڑھ یونیورسٹی سے M.A. کی ڈگری حاصل کی۔
1906ء میں آپؓ انجمن تشحیذ الاذہان کے اعزازی ممبر بنے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چشمۂ معرفت میں آپؓ کا نام اُن احباب کی فہرست میں د رج فرمایا ہے جنہوں نے ’’گوروہر سہائے کے قرآن کریم‘‘ کی زیارت کی تھی۔
ابتدائی واقف زندگی:
ابھی آپؓ F.A. میں زیر تعلیم تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی طرف سے زندگی وقف کرنے کی تحریک پر لبیک کہنے کی توفیق پائی۔ حضرت اقدس کی خدمت میں بسلسلہ وقف پیش ہونے والی آپ کی درخواست دوسری تھی جس پر حضرت اقدسؑ نے اپنے دست مبارک سے ’’منظور‘‘ کا لفظ رقم فرمایا۔
آپؓ کی شادی حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ کی ایک نواسی محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی اور آپؓ کے ایک بیٹے محترم چودھری ناصر محمد سیال صاحب کا رشتہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی صاحبزادی محترمہ امۃالجمیل صاحبہ کے ساتھ قائم ہوا۔
یورپ کے پہلے مبلغ احمدیت:
حضرت چودھری صاحبؓ جب ایم۔اے کرنے کے بعد قادیان آئے تو آپؓ کو جون 1913ء میں انگلستان جاکر بیرونی دنیا میں پہلا احمدیہ مشن قائم کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیرون ملک تبلیغی زندگی کا بھرپور آغاز اس وقت ہوا جب مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے (جو کہ لندن میں پہلے سے موجود تھے) تبلیغی مہم کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی خدمت میں ایک مبلغ بھجوانے کی درخواست کی۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کی اپیل پر چوہدری صاحب نے اس عظیم مہم کے لئے اپنا نام پیش فرمایا جسے حضورؓ نے شرفِ قبولیت بخشا۔
حضرت چوہدری محمد ظفر ا ﷲ خان صاحب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب چوہدری فتح محمد سیال ـصاحب لندن تشریف لے کر گئے تو آپ نے ایک پمفلٹ بعنوان ’’وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام‘‘ چھپواکر تقسیم کر دیا۔ جب مکرم خواجہ صاحب کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے آپؓ سے کہا کہ تم نے یہ پمفلٹ کیوں شائع کیا؟ یہ تو تم نے غضب کر دیا ہے۔ عیسائیوں کے ملک میں آکر جہاں پر اُن کی حکومت بھی ہے وہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا کس قدر فتنہ کا باعث ہو گا کیونکہ عیسائیت کی بنیاد ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر چلے جانے پر ہے۔ یہ تو گویا تم نے عیسائیت کی جڑ پر ہی تبر رکھ دیا ہے۔ اُن کی تمام گفتگو سننے کے بعد چوہدری صاحب نے جواب دیا کہ اگر مَیں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ہی ثابت نہیں کرنا تو پھر میرا لندن آنے کا مطلب ہی کیا ہے؟
لندن میں تبلیغ کے لئے حضرت چودھری صاحبؓ نے لیکچرز دینے کا طریق بھی اختیار فرمایا۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں ہائیڈ پارک لندن میں جا کر روزانہ تبلیغ کرتا تھا۔ ہائیڈ پارک لندن کا طریق کار یہ ہے کہ وہاں پر جو شخص بھی چاہے اپنی ایک میز رکھ لیتا ہے اور اُس میز پر کھڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور لوگ خودبخود اردگرد آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور تقریر سنتے ہیں۔ یہاں پر تقریر کرنے والوں پر کوئی پابندی نہیں ہوتی جس کا جو دل چاہے کہے اور اپنا نکتہ نظر بیان کرے۔
اپریل 1918ء میں آپؓ واپس ہندوستان تشریف لائے۔ 1919ء میں دوبارہ لندن تشریف لے گئے اور مئی 1921ء تک وہاں مقیم رہے اور اس دوران حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت کے مطابق آپؓ نے 1920ء میں مسجد فضل لندن کے لئے ایک قطعہ زمین بھی خریدا۔
شدّھی تحریک کے کمانڈر انچیف:
حضرت چودھری صاحبؓ نے انگلستان سے واپس آنے کے بعد شدّھی تحریک کے دوران ملکانہ کے علاقہ میں امیرالمجاہدین کی حیثیت سے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ آپؓ میںدعوت الی اللہ کا خاص جوش پایا جاتا تھا۔
شدّھی تحریک کا پس منظر یوں ہے کہ راجپوت قوم کے مسلمان پنجاب اور راجپوتانہ کے تقریباً ہر حصہ میں پائے جاتے ہیں لیکن شدھی تحریک میں راجپوتانہ کے قریباً دو لاکھ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرکے انہیں اسلام سے منحرف کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔ 1922-1923ء میں دشمن اسلام نے ایک زبردست سازش کی اور ایک بہت بڑی قوم کو اسلام سے منحرف کرنے کے لئے بہت سی چالیں چلیں لیکن حضرت مصلح موعودؓ کی حکیمانہ کارروائی کے نتیجہ میں اُن کو منہ کی کھانی پڑی۔ اگرچہ حضورؓ راجپوتانہ میں احمدی مبلغوں کے لئے کام کرنے کے متعلق شب و روز کی محنت شاقہ سے جو سکیم تیار فرما رہے تھے وہ ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ لیکن آپ نے موقع کی نزاکت اور اہمیت دیکھ کر 12؍ مارچ کو بعد نماز فجر مبلغین کی فوری روانگی کے متعلق ایک مختصر سی تقریر فرمائی جس میں فرمایا: ’’میں نے جو ملکانہ قوم میں تبلیغ کی تحریک کی تھی اس کے متعلق ستر کے قریب درخواستیں آ چکی ہیں اور ابھی آ رہی ہیں۔ آج رات میں نے آریہ اخباروں کا مطالعہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بہت سرعت سے کام کر رہے ہیں اور جلد سے جلد وہ اس کام کو سرانجام دینا چاہتے ہیں۔ میں نے جو اسکیم تیار کی ہے اس کو یکم اپریل سے جاری کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن اب اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایک تو پہلے ہی ہم ایک مہینہ بعد میں کام کریں گے اور دوسرے ہمارے پاس ایسے آدمی بھی کوئی نہیں جو اس جگہ کی مقامی طرز تبلیغ سے واقف ہیں۔ اور جب تک مقامی تبلیغ کا طریق انسان کو نہ آتا ہو وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس لئے مناسب خیال کیا کہ آج جبکہ چوہدری فتح محمد صاحب جا رہے ہیں کچھ لوگ آج ہی ان کے ساتھ روانہ ہو جائیں تاکہ وہ اس عرصہ میں وہاں کے حالات کے مطابق کام کرنا سیکھ لیں تاکہ بعد میں آنے والوں کو دقت پیش نہ آئے۔ سو جن دوستوں نے درخواستیں دی ہیں ان میں سے جو لوگ آج ہی تیار ہوں وہ مجھے ظہر سے پہلے پہلے اپنے نام دیدیں تاکہ میں انتخاب کرکے ظہر کے بعد ان کو روانہ کرسکوں‘‘۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ذات بابرکت میں قدرت نے جہاں اور خوبیاں ودیعت کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ حضور کا ذہن و ذکا، عقل و رسا پورے کمال پر تھا۔ میدان ارتداد میں آریہ جیسی زبردست قوم کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں تھا۔اور پھر ایسی جماعت کے لئے جو تعداد اور دولت میں کہیں کم تھی۔ مگر حضورؓ نے اس عمدگی سے اور خوش اسلوبی سے مقابلہ کرنا شروع کیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ اس کے علاوہ لشکر مجاہدین کی کمان حضور نے ایسے شخص کے ہاتھ میں دی جو اس کام کا پورا اہل تھا، جس کا دماغ بحر تفکر میں گہرے غوطے لگا کر قیمتی موتی تلاش کرنے کا عادی تھا۔ یہ شخص بزرگ راجپوتوں کے شریف خاندان سیال سے تھا۔ چونکہ شدھی کا معاملہ بھی راجپوتوں کا تھا۔ اس لئے یہ فہیم انسان (چوہدری صاحب) اس معرکے کے لئے بالکل مناسب تھا۔ 1923ء کے جلسہ سالانہ پرحضرت اقدس نے چوہدری صاحب کی تعریف کرکے کمانڈر انچیف کے خطاب سے نوازا جو آپ کے لئے باعثِ فخر تھا۔
چنانچہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحبؓ سیال کی زیر نگرانی مجاہدین کا وفد میدان ارتداد کی طرف روانہ ہوا اور بمقام اچھنیرا ضلع آگرہ میں آن اترا۔
چوہدری صاحب نے اچھنیرا پہنچتے ہی جو حالات کا مطالعہ کیا تو بہت پیچیدہ نظر آئے۔ کیونکہ اوّل تو مسلمان آپس میں ہی جھگڑ رہے تھے۔ احمدیوں کے جانے سے ان کے ساتھ بھی الجھ گئے۔ کوئی کہتا تھا کہ ان کو محدود علاقے میں مقید کر دیا جائے۔ کوئی کہتا تھا کہ ان کو صرف ہندوئوں کی تبلیغ پر لگایا جائے۔پھر کوئی کہتا تھا کہ ان کو علاقہ تقسیم کرکے ایسے مواضعات دیئے جائیں جہاں شدھی کا زیادہ زور ہو، تاکہ یہ لوگ گھبرا کر خود چلے جائیں لیکن میدان ارتداد کسی کی جائیداد تو نہ تھی یا کسی نے اس میدان کا اجارہ تو نہیں لے رکھا تھا۔ اس لئے نہ کوئی نکالا جا سکتا تھا نہ مقید کر سکتا تھا۔ البتہ معاملہ بہت پیچیدہ تھا۔ کیونکہ میدان جنگ تھا دشمن مقابلے پر تھا۔ مگر چوہدری صاحب نے نہایت ہمت سے کام لیا۔ اور اپنا مرکز آگرہ شہر میں قائم کر کے دو دو احمدیوں کو ادھر اُدھر مختلف اضلاع میں بھیج دیا کہ پہلے صحیح حالات کی رپورٹ تیار کرکے لاویں اور ان کو دس دن میں لوٹنے کی تاکید کی۔ دس دن تک ان مجاہدین نے متعدد اضلاع کو چھان مارا اور مکمل رپورٹیں پیش کر دیں۔ ادھر رپورٹیں آئیں ادھر آگرہ میں مجاہدین کا دوسرا وفد آ گیا تو چوہدری صاحب نے ہر ایک ضلع میں ایک ایک انسپکٹر مقرر کرکے ان کے تحت مجاہدین کو پھیلا دیا انسپکٹروں نے ان کو مناسب مقامات پر تعینات کر دیا۔ غرض مورچہ بندی ہو گئی اور مقابلہ شروع ہوا۔ احمدیہ جماعت نے ایک ہی سہ ماہی کے اندر اندر ایک صد مبلغ میدان میں اتار دیئے۔ چوہدری صاحب نے دانشمندی یہ کی کہ جہاں تک آریہ ابھی پہنچے نہیں تھے وہاں بھی پیش قدمی کرکے قبضہ کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں مواضعات اور ہزاروں ملکانہ لوگ ارتداد سے بچ گئے۔
مکرم غلام نبی صاحب نے آگرہ سے رپورٹ میں تحریر فرمایا: ’’کام بہت سرعت سے اور سرگرمی سے ہو رہا ہے اور آگرہ شہر میں ہماری تبلیغی کوششوں کابفضل خدا خاص طور پر چرچا ہو رہا ہے۔ معززین شہر اور ملکانہ راجپوت جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال سے ملاقات کے لئے تشریف لاتے اور فتنہ ارتداد کے متعلق مشورہ کرتے اور مفید ہدایات لیتے ہیں۔‘‘
(الفضل 9اپریل 1923ء صفحہ 6)
حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالویؓ بیان فرماتے ہیں: ’’آگرہ میں حضرت چوہدری فتح محمدسیال صاحبؓ ملکانہ کیمپ کے انچارج تھے۔ انہوں نے مجھے حضرت چوہدری نصراللہ خان صاحبؓ اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ کے ساتھ ریاست بھرت پور بھیجا تاکہ مہاراجہ کے وزیراعظم سے ملاقات کی جائے۔ ہندو وزیراعظم نے بڑی عہد شکنی کی اور بے اعتنائی بھی۔ … آگرہ میں چوہدری فتح محمد سیال صاحبؓ کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اور وہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت تنگ تھے۔ مجھے انہوں نے قادیان بھیجا کہ میں اُن کی طرف سے عرض کروں کہ روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت تکلیف ہے، حضور مزید رقم عنایت کریں۔ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ چوہدری صاحب پہلے روپے کا حساب دیں کہ کہاں کہاں خرچ ہوا پھر ہم مزید رقم دیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور وہ تو سخت تنگ آئے ہوئے ہیں۔ حضور ضرور کچھ رقم عنایت فرمائیں۔ حضرت نے فرمایا کہ ہم اس شرط پر ایک ہزار روپیہ دیتے ہیں کہ وہ پچھلا حساب دیں اور آپ جاکر اَور کوئی کام نہ کریں محض ان سے حساب لے کر پڑتال کریں اور ہمیں رپورٹ دیں۔ آج سے آپ ان کے ماتحت نہیں، براہ راست ہمارے ماتحت ہونگے اور ہمارے احکامات کی تعمیل کریں گے ورنہ یہ ایک ہزار روپیہ آپ سے لیا جائے گا۔ میں روپیہ لے کر آگرہ پہنچا اور چوہدری صاحب کو حضرت صاحب کا ارشاد سنایا اور حساب مانگا۔ انہوں نے مجھے کاغذاتِ حساب دیدئے ۔ جو میں نے پڑتال کر کے حضرت کے حضور پیش کئے تو مشکل حل ہوئی۔ حسابات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ حضرت چوہدری صاحب موصوف کی رقم بیچ میں خرچ ہوچکی ہے جو چوہدری صاحب کو یاد نہیں رہی تھی۔ اور وہ رقم میں نے ان کو واپس دلائی جو ایک صد سے زیادہ تھی۔
خد اتعالیٰ کے فضل سے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شب و روز دعائوں سے چوہدری صاحب نے بہت کامیابی حاصل کی۔‘‘
(اصحاب احمد جلد سوم مؤلفہ محترم ملک صلاح الدین صاحب)
دیگر اہم دینی و قومی خدمات:
حضرت چودھری صاحبؓ کو 1924ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہمراہ تاریخی سفرِ یورپ پر جانے کا شرف بھی عطا ہوا۔
حضرت چودھری صاحبؓ مجلس انصاراللہ کے دو سال تک صدر اور چار سال تک قائد تبلیغ بھی رہے۔
1946ء میں آپؓ پنجاب اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے اور مذہب کی تخصیص کے بغیر مظلوموں کی مدد کرنے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
حضرت چوہدری صاحب کو اﷲ تعالیٰ نے بہت بہادر دل عطا فرمایا ہوا تھا۔ 1947ء کے شروع میں ہی بعض جگہوں میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔ آپ نے اپنے علاقے میں دورے کرکے تمام مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ حالات جلد جلد بدل رہے ہیں تم لوگ تیاری کر لو تا آخر وقت میں نقصان نہ اٹھاؤ۔ خطرناک سے خطرناک علاقہ میں جانے سے آپ دریغ نہ فرماتے تھے۔ آپؓ بہت بہادر تھے۔ جب ایک موقع پر آپؓ مسلمانوں کے ایسے قافلہ کے پاس پہنچے جس پر سکھوں نے حملہ کیا تھا تو آپؓ نے نہ صرف بعض شرپسندوں کا پیچھا کرکے ایک مسلمان لڑکی بازیاب کی بلکہ خود قافلہ کے ساتھ بٹالہ تک گئے اور اُنہیں کیمپ میں چھوڑ کر واپس آئے۔
پاکستان بن جانے کے بعد تک آپ کی یہ مہم جاری رہی اور آپ مسلمانوں کو نکال کر قادیان لاتے رہے تب ضلع کے افسروں نے مشورہ کیا کہ اس کا کچھ نہ کچھ بندوبست ہونا چاہئے۔ چنانچہ قادیان کے چوکی انچارج نے آپ کو بلوا لیا۔ لوگ یہی سمجھے کہ آپؓ کو کسی ضروری مشورہ کے لئے بلوایا ہے بعد میں معلوم ہوا کہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چوہدری صاحب 1947ء میں پنجاب اسمبلی ہندوستان کے MLA تھے اور وطن کی خدمت کماحقہٗ فرما رہے تھے کہ 12؍ ستمبر1947ء کو قتل کے جھوٹے الزام میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ آپؓ کے علاوہ مکرم عبدالعزیز صاحب بھامڑی، میجر شریف احمد صاحب باجوہ، حضرت سید زین العابدین ولی اﷲ شاہ صاحب، مکرم مولانا احمد خاں صاحب نسیم، مکرم چوہدری علی اکبر صاحب آف ماڑی بچیاں ، بھی گرفتار کئے گئے۔ آپ ایک دو دن قادیان حوالات میں اور ایک دن بٹالہ میں رکھا اور پھر گورداسپور جیل میں رہے۔ پھر جالندھر جیل میں رکھا گیا۔ مکرم چوہدری صاحب ان قید ہونے والے احمدیوں کے امیر اور امام الصلوٰۃ بھی تھے اور نماز فجر کے بعد درس دیا کرتے تھے۔
حوالات کا کمرہ بہت چھوٹا سا تھا۔ نہ کوئی بستر اور نہ ہی کوئی اور چیز آرام کرنے کے لئے تھی۔ حالانکہ اُس وقت آپ پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔ لیکن ایک عام قیدی اور آپ میں کوئی امتیاز نہ رکھا گیا تھا۔ آپ کو تین دن تک اُسی حوالات میں رکھا گیا تھا۔ اس دوران آپؓ بڑے مطمئن اور پُرسکون ہوتے۔ گھر بار کی نہ جائیداد کی نہ بیوی بچوں کی فکر نہ کوئی گھبراہٹ نہ کوئی اضطراب!
حضرت چودھری صاحبؓ بڑے متوکّل اور بہت باحوصلہ انسان تھے۔ تین دن بعد جب قادیان سے گورداسپور جیل میں منتقل کیا گیا تو انچارج نے کہا! فتح محمد کو کیوں لے آئے ہو، اس کو تو مار کسی نہر میں پھینک دینا تھا۔ تو آپ نے ایس پی کو جواباً کہا کہ تمہارے بندے مجھے نہیں مار سکتے جب خدا تعالیٰ چاہے گا مَیں تب ہی مر سکتا ہوں۔
پھر جیل کے حکام نے یہ منصوبہ بنایا کہ آپ کو جیل میں ہی قتل کروا دیا جائے۔ وہ کچھ سکھ قیدیوں کے ذریعے یہ کام کروانا چاہتے تھے مگر دیگر سکھ قیدیوں کو جب اس منصوبہ کا پتہ چلا تو انہوں نے برملا کہا کہ اگر کسی نے کوئی ایسی حرکت کی تو ایسا فساد کریں گے کہ یہیں ایک اور پاکستان بنا دیں گے۔
جیل میں دعوت الی اللہ:
محترم مولوی احمد خان نسیم صاحب فرماتے ہیں: جیل میں قیام کے دوران اٹھاون (58) افراد احمدی ہوئے اور اس کام کے مکرم چوہدری صاحب موصوف روح رواں تھے۔ جب کسی کو تبلیغ شروع فرماتے تو ہم سب کو اکٹھا کرکے فرماتے کہ میں فلاں آدمی کو تبلیغ کرنے لگا ہوں۔ تم سب مل کر اس کے لئے دعا کرو۔ میں بھی دعا کر رہا ہوں۔
بٹالہ کے ایک دوست جیل میں تھے۔ انہوں نے چوہدری صاحب سے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ اس قدر مطمئن کس طرح ہیں۔ آپ پر اس قید اور مصیبت کا ذرا بھی اثر نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے اتنی دفعہ بشارت دی ہے کہ تم بخیر و عافیت جیل سے رہا ہو کر چلے جائو گے۔ کہ اب مجھے یہ دعا کرتے ہوئے بھی اﷲ تعالیٰ سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں اب مزید اپنی رہائی کی دعا کروں۔ اُس نے کہا آپ میری رہائی کے لئے بھی دعا فرما دیں۔ آپ نے مسکراکر فرمایا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں آپ کیلئے دعا کروں۔ اگر آپ احمدی ہو جائیں تو آپ کے لئے دعا کروں گا۔ اس دوست نے فرمایا کہ جس طرح آپ کو خد اتعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ رہا ہو جائیں گے آپ دعا کریں کہ اﷲ تعالیٰ مجھے بھی کوئی ایسا اطمینان بخش نظارہ دکھادے تا میں بھی مطمئن ہوجائوں۔ آپ نے یہ وعدہ فرما لیا کہ میں یہ دعا کروں گا۔ چنانچہ چند دن کے بعد ہی اس دوست نے بھی ایک واضح رویاء دیکھی۔ جس میں اس نے دیکھا کہ ہم پاکستان چلے گئے ہیں اور جیل کے دروازے کھل گئے ہیں اور ہم کو اپنے اپنے رشتہ دار لینے کیلئے آئے ہوئے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں وغیرہ۔ اس کے بعد وہ دوست بھی جماعت میں شامل ہو گئے۔ یہ دوست غلام محمد صاحب عرف گاماں پہلوان صاحب شیخوپورہ کے رہنے والے تھے۔
ایک دفعہ ایک آدمی کے متعلق ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ چونکہ ہر موقعہ پر کوئی نہ کوئی شرارت ہمارے خلاف کرتا ہے اس لئے اس کو چھوڑ دو اس کو کوئی بھی منہ نہ لگائے۔ مکرم چوہدری صاحب نے ہم سے فرمایا: ’’نہیں بلکہ ایک کام تم سب اپنے ذمہ لے لو۔ تم دعا کرو اور میں اس کو تبلیغ کرتا ہوں یا تم اس کو تبلیغ کرو میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں اس طرح اس کو چھوڑنا مناسب نہیں اس پر اتمام حجت کرکے چھوڑو۔‘‘
عصر کی نماز کے بعد ہمیں جیل میں کچھ وقت ٹہلنے کے لئے مل جاتا۔ ایک مرتبہ میں اور برادرم مکرم میجر شریف احمد صاحب دونوں مل کر ٹہل رہے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ چوہدری صاحب محترم چند قیدیوں کے ایک ٹولہ کے درمیان بیٹھے ہوئے ہیں جیل کے اندر تیس چالیس افراد خارش کی وجہ سے بیمار تھے۔ ان کو ایک علیحدہ بیرک میں رکھا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ کسی کے ملنے کی اجازت نہ تھی۔ تاکہ یہ متعدی بیماری دوسرے قیدیوں میں نہ پھیل جائے۔ باجوہ صاحب نے جب چوہدری صاحب کو ان میں بیٹھا ہوا دیکھا تو مجھے فرمانے لگے۔ ’’چوہدری صاحب کیا غضب کر رہے ہیں کہ ان متعدی بیماری والوں کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں ان کو روکنا چاہئے‘‘۔ جب چوہدری صاحب وہاں سے اٹھ کر واپس تشریف لائے تو ہم نے چوہدری صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ خارش کی وجہ سے بیمار ہیں آپ وہاں نہ جایا کریں۔ چوہدری صاحب نے فرمایا: ’’میں نے سوچا یہ لوگ بہت تکلیف میں ہیں۔ ان بیماروں کو کوئی بھی اپنے پاس نہیں آنے دیتا۔ ایسے وقت میں آدمی کا دل نرم ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس گیا تھا۔ تا میں اس سے فائدہ اٹھا کر ان کو تبلیغ کروں ممکن ہے کہ کسی کا دل احمدیت کی طرف مائل ہو جائے اور ہمیں مسکرا کر فرمانے لگے میں تو اس نیت سے ان کے پاس جا بیٹھا تھا کہ ممکن ہے کوئی مسیح پاک پر ایمان لے آئے۔ تو کیا اﷲ تعالیٰ مجھے اس بیماری میں مبتلا کر دے گا؟ بے فکر رہیں۔‘‘
شیخ عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل رقمطراز ہیں: ہمارے ان معززین نے جیل میں دوسرے مسلمانوں کی تربیت کا بہت خیال رکھا ان کے نیک نمونہ کو دیکھ کر بہت سے غیر احمدی مسلمانوں پر بہت اچھا اثر ہوا۔ ان کو چوہدری صاحب نے اپنی ایک رؤیا بتائی کہ ’’آموں کے موسم میں وہ رہا ہو جائیں گے‘‘۔ تو غیر احمدی مسلمانوں پر خاص اثر ہوا یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی کہ کس طرح ایک شخص اپنی خواب کی بنا پر یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ فلاں موسم میں رہا کر دیئے جائیں گے حالانکہ حالات نہایت ہی خطرناک تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام قیدیوں کو اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ مگر جب اس خواب کے مطابق سارے قیدی رہا کر دیئے گئے تو ان میں سے 54 اصحاب نے بیعت کر لی۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب قیدیوں کا تبادلہ دونوں حکومتوں نے منظور کیا تو اس کے لئے کئی تاریخیں مقرر ہوئیں مگر جب تک آموں کا موسم نہ آیا وہ تاریخیں تبدیل ہوتی رہیں۔ آخر 7؍ اپریل 1948ء کو آٹھ بجے شب بذریعہ ٹرین جالندھر سے دوسرے زیر حراست قیدیوں کے ساتھ ہمارے معزز افراد بھی لاہور پہنچ گئے۔
(تاریخ احمدیت لاہور صفحہ544-545)
حضرت چودھری صاحبؓ رہا ہوتے ہی مغربی پنجاب اسمبلی کے سیشن میں شریک ہونے کیلئے تشریف لے گئے۔ پھر آپ رتن باغ میں حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بعد میں نماز جمعہ میں شریک ہوئے۔ یوں چوہدری صاحب ایک زبردست امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد اور بہت سی پیاسی روحوں کو احمدیت کے نور سے منور کرنے کے بعد پھر ایک نئے ملک میں نئے عزم کے ساتھ مصروف کار ہو گئے۔ (الفضل 10؍ اپریل 1948ء)
مومنانہ جرأت کا ایک انداز:
مکرم چودھری حمید نصر اﷲ صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1953ء میں جب احمدیوں کے خلاف فسادات ہورہے تھے تو حضرت چودھری صاحب کسی ضروری کام سے بس کے ذریعہ ماڈل ٹاؤن سے لاہور شہر جارہے تھے۔ کچھ ہی فاصلہ طے ہوا تھا کہ ایک جلوس سامنے سے آگیا ۔ جلوس والوں نے بس کھڑی کروالی اور کہا کہ بس میں جو بھی مرزائی ہے وہ اُٹھ کر باہر آ جائے، ہم نے اُس کو قتل کر دینا ہے۔ آپؓ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بس سے باہر نکل کر اُس ہجوم سے یوں گویا ہوئے کہ:
آپ لوگوں کی زندگیاں صرف و صرف دنیا کے لئے ہیں۔ آپ لوگ صبح اُٹھتے ہیں اور منہ پر چند چھینٹے پانی کے مارے اور بغیر اﷲتعالیٰ کا نام لئے چل پڑے۔ سارا دن دنیا کے غلط سلط دھندوں میں مگن رہے اور شام کو اپنے آرام دہ گھروں میں بستروں میں خدا تعالیٰ کو یاد کئے بغیر دبک کر سو رہے۔ مگر میری زندگی صرف و صرف اﷲ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے میں گزری ہے اور گزر رہی ہے اگر تم مجھے مارنا چاہتے ہو تو مار دیکھو؟ میں اس زمانہ کا سرمد ہوں جیسے صوفی سرمد کو لوگوں نے بے گناہ قتل کر دیا تھا اور اسی وجہ سے مغلیہ خاندان کی بادشاہی کا دور ختم ہو گیا اور مسلمان سو سال تک کافروں کی غلامی میں آ گئے آج تم ابھی مجھے قتل کر دو گے تو تم پھر سو سال تک غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائو گے۔ اگر تم پھر سے غلامی میں رہنا چاہتے ہو تو آئو مجھے قتل کر دو۔
آپ کا یہ پُرشوکت بیان سن کر بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ گیا اور آپ کے لئے اﷲ تعالیٰ نے امن کی راہیں کھول دیں۔
خدمات کا ایک جائزہ اور وفات:
حضرت چوہدری صاحبؓ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1913ء تا 1916ء تک لندن مشن کے انچارج رہے۔ پھر قادیان جاکر 1917ء تا 1919ء افسر صیغہ اشاعت اسلام رہے۔ 1919ء میں دوبارہ لندن بھجوائے گئے اور جولائی 1921ء تک لندن مشن کے امیر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ قادیان واپس جانے کے بعد 1922ء میں آپ ناظر تالیف و اشاعت مقرر ہوئے۔ 1923ء تا 1924ء تک امیر وفد المجاہدین قادیان برائے کارزار شدھی مقرر ہوئے۔ جولائی 1924ء میں آپؓ سیکرٹری تبلیغ کے طو رپر حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ لندن گئے۔ دسمبر 1924ء سے 1950ء تک ناظر دعوت و تبلیغ رہے۔ اسی دوران فروری 1937ء میں چوہدری صاحب نے نظارت اعلیٰ کا چارج لیا۔ 1931-32ء میں ناظر تعلیم و تربیت کے طور پر کام کیا۔ اکتوبر 1950ء میں ریٹائر ہوئے اور پھر 1954ء سے 28؍ فروری 1960ء تک ناظر اصلاح و ارشاد کے عہدہ پر فائز رہے یہاں تک کہ آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
حضرت چودھری صاحبؓ 28؍فروری 1960ء کو دفتر نظارت اصلاح و ارشاد میں ہی خدمت بجالاتے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے۔ اُسی روز حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بعدازاں بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔
آپؓ کی وفات پر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی شاندار الفاظ میں آپؓ کی خدمات کو سراہا۔
سیرت کے چند پہلو:
حضرت چودھری صاحبؓ ظاہری تکلّفات سے عاری ہونے کی وجہ سے انتہائی محبوب اور مقبول تھے۔ آپؓ میں بدظنی کا مادہ بالکل نہیں تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ آکر مجھے دھوکہ دے جاتے ہیں، میرا خیال اس طرف جاتا ہی نہیں کہ یہ شخص غلط بیانی بھی کرسکتا ہے۔
آپؓ میں غیرت و حمیت کا مادہ اتم طور پر پایا جاتا تھا۔ جب گرفتاری کے دوران ایک افسر نے آپؓ سے کہا کہ اگر آپؓ ایک درخواست لکھ دیں تو آپؓ کو جیل میں اے کلاس دے دی جائے گی تو آپؓ نے فرمایا کہ جس حکومت کو خود خیال نہیں اُس کے آگے میں درخواست کرنا اپنی غیرت کے خلاف سمجھتا ہوں۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت چودھری صاحبؓ کی دعوت الی اللہ کا جوش بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’بڑے مجاہد، نڈر اور بہادر مربی ہونے کے علاوہ تہجد گزار، نوافل کے پابند اور دعاؤں میں بہت شغف رکھنے والے بزرگ تھے۔ صاحبِ کشف و رؤیا بھی تھے‘‘۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اپنے پیغام میں جماعت کے نوجوانوں کو یوں توجہ دلائی کہ: ’’ میرا دل ہر لحظہ اور ہر آن اس فکر و غم کا شکار ہو رہا ہے کہ چودھری صاحب کی موت کو تو ہم بالآخر رو رو کر بھلا دیں گے مگر اس خلا کو کس طرح پورا کیا جائے ان کے بعد دعوت الی اللہ کے میدان میں اس وقت ملک کے اندر بظاہر اس دھن اور لگن کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا جو خدا کے فضل سے چودھری صاحب کو جنون کی حد تک حاصل تھا۔ … پس میں جماعت کے نوجوانوں کی خدمت میں بڑے دردمند دل کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اپنے اندر اشاعت اسلام کا جذبہ پیدا کریں جسے دنیا جنون قرار دیتی ہے مگر خدا کی نظر میں اس سے بڑھ کر کوئی فرزانگی نہیں‘‘۔
اردو کلاس میں ذکرخیر:
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اردو کلاس میں حضرت چودھری صاحبؓ کا نہایت محبت بھرے الفاظ میں تفصیلی ذکر خیر فرمایا۔ حضورؒ نے فرمایا کہ جس جگہ ہم بیٹھے ہوئے ہیں (یعنی مسجد فضل لندن کا احاطہ) اس کی خرید میں ان کی کوششوں کا دخل تھا۔
فرمایا کہ اُن کو شوگر کی تکلیف تھی اور پرہیز کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے نسخے بنائے ہوئے تھے، اس میں اچھا میٹھا ڈال کے کھایا کرتے تھے مگر ویسے بڑی سخت جفاکش زندگی تھی۔بہت قابل انسان مگر سادہ مزاج تھے۔… امرودوں کا انہیں بہت شوق تھا چنانچہ جب مسجد کے لئے جگہ دیکھی۔ یہ باغ تھا تو حضرت مصلح موعودؓ نے وہاں سے وارننگ بھیج دی کہ سارے درخت کٹواکے امرود نہ لگوا لینا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ جگہ لندن سے بہت دور ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں لندن اس کی طرف آ جائے گا۔ چنانچہ لندن اس طرف بڑھا اور بہترین علاقے یہاں کے لندن کے ہوگئے۔
حضورؒ نے فرمایا کہ ملکانہ کے علاقہ میں جب تحریک شدھی چلی تو حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت چودھری صاحبؓ کو اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے امیر بنایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کایا پلٹ گئی۔ اس پر فساد کے خیال سے صلح کروانے کی کاروائی شروع ہوئی اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نمائندوں کو حکومت نے دلّی بلایا، احمدیوں کو جان کے نہیں بلایا۔ جب ہندوؤں نے دیکھا کہ کانفرنس میں احمدی ہیں ہی نہیں تو انہوں نے کہا کہ تم لوگوںسے تو ہم ڈرتے ہی نہیں، جن سے ہم ڈرتے ہیں وہ تو ہیں ہی نہیں یہاں۔ جب تک وہ صلح نہیں کریں گے ہماری صلح ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ پھر تار دے کر قادیان سے احمدی نمائندہ بلوایا گیا۔
حضورؒ نے مزید فرمایا کہ حضرت چودھری صاحبؓ پنجاب اسمبلی کے احمدی ممبر تھے۔ اتنی سادہ طبیعت تھی کہ اپنے بیٹے کی شلوار پہن کے اسمبلی ہال میں چلے گئے جو گھٹنوں تک آتی تھی۔ پہریداروں نے باہر روک لیا۔ چنانچہ وہاں کھڑے رہے۔ اتنے میں کوئی بڑا معزز زمیندار گزرا۔ اس نے چودھری صاحب کو دیکھتے ہی جھک کے سلام کیا۔ تب پہریدار نے بھی سیلوٹ کیا۔ … ہر وقت منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے، کوئی فلسفہ سوچوں میں رہتا تھا اور اردگرد نظر ہی نہیں ہوتی تھی۔ ان کی بیٹی کی شادی ہوئی اور شادی کے بعد وہ پہلی دفعہ ملنے آئی۔ بڑی خوشی سے ملے اور کہا بہت اچھی دلہن ہو، یہ تو بتاؤ تم کس کی بیٹی ہو۔ اُس نے کہا اباجان آپ کی بیٹی ہوں۔ کہتے، بیوقوف پہلے کیوں نہیں بتایا۔
حضور رحمہ اللہ نے یہ بھی سنایا کہ لندن کے لئے ایک دفعہ جب روانہ ہوئے تو ایک پوٹلی میں سارے پیسے اور پاسپورٹ وغیرہ ڈال کر بٹالہ اسٹیشن پر ہی بھول گئے۔ خدا نے فضل کیا اور کسی کو پتہ لگ گیا تو پیچھے پیچھے ان کی پوٹلی پہنچی۔
حضور رحمہ اللہ نے حضرت چودھری صاحبؓ کے ساتھ اپنے تبلیغی سفر کے بعض واقعات بھی سنائے کہ کس طرح سارا دن بھوکے پیاسے سفر کرتے رہے اور باغیرت اتنے تھے کہ کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ انداز سادہ تھا لیکن بات میں بڑا وزن ہوتا تھا چنانچہ جہاں جاتے خدا کے فضل سے بڑی بیعتیں ہوتی تھیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/AIpH9]

اپنا تبصرہ بھیجیں